Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نیک وبد ہونے کی نشانی :

(39)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے ايسا عمل بتایئے کہ ميں اسے کروں تو اس کی وجہ سے جنت ميں داخل ہو جاؤں۔” تو سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”نيک بن جاؤ۔”اس نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے اپنے نيک بن جانے کا علم کيسے ہو گا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنے پڑوسیوں سے پوچھو اگر وہ تمہیں نيک کہيں توتم نيک ہو اور اگر وہ برا کہيں تو تم برے ہی ہو۔”
( شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ،الحدیث: ۹۵۶۷، ج۷ ، ص ۸۵)

تنبیہ:

    کثير تعداد ميں صحيح احادیثِ مبارکہ کی صراحت کی بناء پر اس گناہ کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے اور بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کے کبيرہ ہونے کی صراحت بھی کی ہے۔
سوال:جب مطلق مسلمان کو ايذاء دينا کبيرہ گناہ ہے تو پڑوسی کو خاص کيوں کیا گيا؟
جواب:شايد اس کو خاص کرنے کی وجہ يہ ہے کہ پڑوسی کے علاوہ کوايذاء دينے ميں ضروری ہے کہ اسے ايسی ايذاء دی جائے جس کو برداشت نہيں کياجاسکتاجبکہ پڑوسی کوايذاء دينے کامعاملہ ايسانہيں،کيونکہ اس کے کبيرہ ہونے ميں يہ شرط نہيں کہ اسے  عرفاًايذاء کہا جائے، دونوں کے درميان فرق کی وجہ يہ ہے کہ پڑوسی کی عزت کی تاکيد اور اس کے حقوق کی رعايت پر مذکورہ صحيح احادیثِ مبارکہ دلالت کرتی ہيں۔
error: Content is protected !!