Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۴۰) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک

    اپنے تمام رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے کہ رشتہ داریوں کو قائم رکھتے ہوئے ان کے حقوق کو ادا کرنا یہ جنت میں جانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث کی تجلیاں ملاحظہ ہوں۔
حدیث:۱
     حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ”رشتہ داری”عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی یہ اعلان کرتی رہتی ہے کہ جو مجھے ملائے گا اس کو اللہ تعالیٰ ملائے گا اور جو مجھے کاٹ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔(1)
                      (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۰۹)
حدیث:۲
     حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ داری کو کاٹ دینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(2)
                      (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۱۹)
حدیث:۳
    حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ”رشتہ داری”شاخوں کا ایک گچھا ہے جس طرح کہ ایک ٹہنی ایک ٹہنی میں پھوٹتی ہے تو جو اس رشتہ داری کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جو اس کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا اور رشتہ داری کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ نہایت تیز چلتی ہوئی فصیح زبان سے یہ کہے گی کہ اے اللہ !فلاں شخص نے مجھے ملایا تھا لہٰذا تو اُس کو جنت میں داخل کردے اور فلاں شخص نے مجھے کاٹ دیا تھا لہٰذا تو اسے جہنم میں داخل کردے۔(1)(کنز العمال،ج۳،ص۲۰۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۴
    حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اورتم لوگوں کے بعد کوئی اُمت نہیں ہے۔خبردار!تم لوگ اپنے رب کی عبادت کرو پانچوں وقت نما زیں پڑھو اور ماہِ رمضان کا روزہ رکھو اور اپنی رشتہ داریوں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اور خوش دلی کے ساتھ اپنے مالوں کی زکوٰۃادا کرواوراپنے حاکموں کی فرمانبرداری کرو تو تم لوگ اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔(2) (کنز العمال،ج۲،ص۲۵۸)

تشریحات و فوائد

    اس عنوان کی چاروں حدیثوں میں رشتہ داریوں کے کاٹنے اور ملانے کا یہ مطلب ہے کہ اپنی رشتہ داریوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور اچھا سلوک کرناان کے رنج و راحت میں شریک رہنا،ان کی امداد واعانت کرنا، یہ تو رشتہ داریوں کو ملانا ہے اور اپنی رشتہ داریوں سے قطع تعلق کرلینااور رشتہ داروں کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کرنا،ان کے رنج و راحت سے بے تعلق رہنا،ان کی ہر قسم کی امداد و اعانت سے الگ تھلگ ہوجانا، یہ رشتہ داریوں کو کاٹنا ہے۔ رشتہ داریوں کو ملائے رکھنا یعنی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ جنت میں لے جانے والا عمل ہے اور رشتہ داریوں کوکاٹ دینایعنی رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کرنا اور ان سے قطع تعلق کرلینا یہ جہنم میں گرا دینے والا کام ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس زمانے میں ذرا ذرا سی باتوں پر لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں آج سے تیرا بھائی نہیں اورتو میری بہن نہیں اسی طرح بھائی بھائی سے یہ کہہ دیتا ہے کہ میں آج سے تیرا بھائی نہیں اور تو میرا بھائی نہیں،یہ”قطع رحم” یعنی رشتوں کو کاٹنا ہے جو حرام ہے اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی رشتہ دار سے تعلق نہ کاٹے بلکہ ہمیشہ اس کو شش میں لگا رہے کہ رشتہ داروں سے تعلق قائم رہے اور کبھی بھی رشتہ کٹنے نہ پائے۔
    بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ جو رشتہ دار ہم سے تعلق رکھے گا ہم بھی اس سے تعلق رکھیں گے اور جو ہم سے کٹ جائے گا ہم بھی اس سے کٹ جائیں گے،یہ کہنا اور یہ طریقہ بھی اسلام کے خلاف ہے، حضور ِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَاءَ کَ یعنی جو تم سے تعلق کاٹے تم اس کے ساتھ تعلق جوڑتے رہو اور جو تم پر ظلم کرے اُس کو معاف کردو اور جو تمہارے ساتھ برائی کرے تو تم اس کے ساتھ بھلائی کرو۔
    ہاں رشتہ داروں کے ساتھ تعلق کاٹ دینے کی ایک ہی صورت جائز ہے اور وہ یہ کہ شریعت کے معاملہ میں تعلق کاٹ دیا جائے،مثلاً کوئی رشتہ دار اگرچہ کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہواگر وہ کافر و مرتد یا گمراہ وبددین ہوجائے تو پھر اس سے تعلق کاٹ لینا واجب ہے ۔یا کوئی رشتہ دار کسی گناہ کبیرہ میں گرفتار ہے اور منع کرنے پر بھی وہ باز نہیں آتابلکہ اپنے گناہ کبیرہ پرضدکرکے اڑاہواہے تواس سے بھی قطع تعلق کرلیناضروری ہے کیونکہ اس کے ساتھ تعلق رکھنا اور تعاون کرنا گویا اس کے گناہ کبیرہ میں شرکت کرنا ہے
اور یہ ہر گز ہرگز جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
error: Content is protected !!