Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سود کی حرمت ظاہر کرنے والے امور:

    فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت کو اس کی ہر نوع میں ظاہر کرنے والے بہت سے وہ امور بیان کئے ہیں جنہیں قبول کئے بغير کوئی چارہ نہیں اس لئے میں نے اپنے ماقبل کلام میں بیان کیا تھا کہ اس میں سے بعض کی حرمت میں قیاس کو دخل نہیں، ان میں سے چند امور یہ ہيں:
(۱)۔۔۔۔۔۔جب ایک درہم کو دودرہموں سے نقدیااُدھار بیچے تو پہلے درہم میں وہ بغیرکسی عوض کے زیادتی کولے گا جبکہ مسلمان کے مال کی حرمت بھی اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے، اسی طرح یہی معاملہ دوسرے درہم میں ہے ، کیونکہ زائد درہم کو لے کر نفع حاصل کرناایک وہم میں ڈالنے والا اَمرہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اگررباالفضل جائز ہوتا تو تمام کاروبارِ تجارت باطل ہو کررہ جاتے کیونکہ جب دو درہم ایک درہم کے بدلے میں حاصل ہو رہے ہوں توکیونکرکوئی محنت ومشقت کریگا، پس جب کاروبارِ تجارت ہی نہ ہو گا تومخلوق کے مفادات ہی ختم ہو جائیں گے اس لئے کہ ساری دنیا کا انتظام وانصرام اسی تجارت اور صنعت و حرفت پرہی توہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔سود،قرض دینے کی نیکی اوراحسان جیسے دروازے کوبندکردے گا کیونکہ جب ایک درہم کے بدلے دو درہم مل رہے ہوں توپھر کوئی بھی ایک درہم کے بدلے میں ایک ہی درہم لیناقطعاً گوارہ نہ کریگا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔عام طور پر قرض خواہ امیروغنی اور مقروض تنگ دست وفقیرہوتاہے، اب اگر غنی کو قرض سے زیادہ لینے کی کی اجازت دی جائے تو یہ فقیر کے لئے زیادہ تکليف دہ ہے۔ اور وہ (سود لینے والا)اللہ رحمن ورحیم کی رحمت وبخشش کو بھی نہ پاسکے گا۔
error: Content is protected !!