Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تکبر کی وجوہات:

  علم وعمل، نسب ومال، حسن وجمال، طاقت وقوت اور مریدین کی کثرت کی وجہ سے غیر سے کامل امتیاز کا اعتقاد رکھنا تکبر پر ابھارنے کا سبب ہے، جن علما کو اللہ عزوجل کی جانب سے توفیق کا نور عطا نہیں کیا گیا وہ دوسروں کے مقابلے میں جلد تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو اپنے مقابلے میں چوپائے کی طرح سمجھتا ہے، اس لئے وہ اس کے ان شرعی حقوق کی ادائیگی میں کمی کرتاہے جن کا مطالبہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا ہے جیسے سلام کرنا، عیادت کرنا اور ملاقات کے وقت خوشی کا اظہار وغیرہ کرنا، اور اس سے ان معاملات میں اس پر رفعت کی خواہش کی بنا پر کمی کی امید نہیں رکھتا، اور حقیقتاً ایسا کرنے والا ہی سب سے بڑا جاہل ہے کیونکہ وہ اپنی اوقات، اپنے رب عزوجل کی شان وعظمت، موت کے وقت کے خطرات اور حالات کے بدل جانے سے بے خبر ہے کیونکہ علم کی شان تو یہ ہے کہ وہ بندے کے خوف اور تواضع میں اضافہ کرے اس لئے کہ اللہ عزوجل اپنے علم حقیقی کی بنا پر اس کے خلاف ایک بہت بڑی حجت ہے، نیز اس وجہ سے بھی کہ وہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ البتہ اس کا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا علم یا تو دنیا کی خاطر ہو گا یا اسے حاصل کرنے میں اخلاص کی نیت نہ ہوگی اور اس نے کسی اور نیت سے علم حاصل کیا ہوگا اسی لئے یہ قباحتیں اسے لاحق ہو ں گی۔ اسی طرح جوعلما ء نیک نامی کی وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں، ان کی طرف بھی تکبر جلد آ جاتا ہے کیونکہ لوگ اپنے معاملات کے فیصلے کے لئے ان کے پاس آتے ہیں اور ان کی عزت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ ارفع واعلیٰ ہیں اور دیگر لوگ ان کے اعمال تک نہ پہنچنے کی وجہ سے ان سے کم تر ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ گمان ان سے علم چھن جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ جیسا کہ، بدکار کی وجہ سے عالم کے اعمال برباد ہوگئے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بنی اسرائیل کے ایک بدکار شخص کا واقعہ ہے کہ وہ کسی عابد کے پاس اس سے نفع اٹھانے کے لئے بیٹھ گیا تو اس عابد کو اس کا بیٹھنا ناگوار گزرا اور اس نے اسے دھتکار دیا تو اللہ عزوجل نے اس وقت کے نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی طرف وحی فرمائی کہ ”اس نے بدکار کوبخش دیااور عابد کے عمل برباد کر دیئے۔”
اطاعت میں کبھی جاہل عالم سے بڑھ جاتا ہے:
    عام اَن پڑھ شخص جب اللہ عزوجل کی ہیبت اور اس کے خوف سے تواضع اور عاجزی کرتا ہے تو دل سے اس کی اطاعت کرنے لگتا ہے، لہٰذا وہ متکبر عالم اور خود پسندی میں مبتلا عابد سے زیادہ اطاعت گزار ہو جاتا ہے۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بعض اوقات کچھ لوگوں کی حماقت اور بیوقوفی اس وقت اِنتہا کو پہنچ جاتی ہے جب انہیں ایذا ء دی جائے تووہ ایذا دینے والے کو دھمکاتے ہوئے کہتے ہیں :”عنقریب تم اس کا انجام دیکھ لو گے۔” اب اگر انہیں ایذاء دینے والا اتفا ق سے کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تووہ لوگ اپنی قدرو منزلت کو اعلیٰ سمجھتے ہوئے جہالت کے غلبہ کی وجہ سے اسے اپنی کرامت شمار کرنے لگتے ہیں، 
کیونکہ جہالت خودپسندی، تکبر اور اللہ عزوجل کی مشیت سے دھوکا کھانے کے مجموعہ کا نام ہے، بلاشبہ بہت سے بدبختوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو شہیدکیا مگر جب انہیں دنیا میں اس کی سزا نہیں ملی تو پھراس جاہل کی حیثیت کیا ہے؟
error: Content is protected !!