Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

رات میں صدقہ دینے والا

حدیث:
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے صدقہ دینے کا ارادہ کیا اور اپنا صدقہ لے کر خفیہ طریقے سے نکلا لیکن رات کی تاریکی میں بجائے کسی فقیر کو دینے کے ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا جو چوری کے ارادے سے گھوم رہا تھا۔ صبح کو لوگوں میں چرچا ہوا کہ کسی نے رات میں ایک چور کو صدقہ دے دیا اس آدمی نے چرچا سن کر کہا کہ الٰہی !عزوجل تیرے ہی لئے سب تعریف ہے آج میں پھر صدقہ دوں گا چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر رات میں نکلا تو ایک زنا کار عورت اپنے گاہک کی تلاش میں چکر لگارہی تھی اس نے اس کو کوئی مسکین عورت سمجھ کر صدقہ دے دیا پھر صبح کو لوگوں میں چرچا ہوا کہ رات میں کوئی شخص ایک زانیہ کو صدقہ دے گیا تو اس شخص نے چرچا سن کر کہا کہ اے اللہ! عزوجل تیرے ہی لئے سب تعریف ہے آج میں پھر صدقہ دوں گا۔ چنانچہ پھر یہ شخص رات میں چھپ کر صدقہ کا مال لے کر چلا تو ایک مالدار شخص رات میں کہیں جارہا تھاتو اس نے اس مالدار کو مسکین سمجھ کر صدقہ دے دیا۔ صبح کو پھر اس کا چرچا ہونے لگا کہ کوئی شخص رات میں بہت بڑے مالدار کو صدقہ دے کر چلا گیا۔ جب اس نے یہ سنا تو نہایت ہی افسوس کے ساتھ یہ کہا کہ یااللہ !عزوجل تیرے ہی لئے حمد ہے ،افسوس کہ میرا صدقہ ایک چور، ایک زانیہ، ایک مالدار کے ہاتھ میں پڑ گیا۔ حالانکہ ہر رات میں اپنا صدقہ اُن سبھوں کو مسکین سمجھ کر دیتا رہا اسی افسوس میں رنجیدہ ہو کر یہ شخص سو گیا۔ تو خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ نے آکر یہ کہا کہ تو نے چور کے ہاتھ میں صدقہ دے دیا تو شاید وہ چوری سے بچ جائے اور توبہ کرلے اور تیرا صدقہ زانیہ کو مل گیا تو شاید وہ زنا کاری سے بچ جائے اور توبہ کرلے اور تو نے مالدار کے ہاتھ میں صدقہ دے دیا تو شاید وہ عبرت حاصل کرے اور خود بھی اپنا مال خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرنے لگے۔(1)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۵)
    مطلب یہ ہے کہ چور اور زانیہ اور مالدار کو صدقہ دیا گیا یہ اچھا نہیں ہوا مگر چونکہ لاعلمی میں ہوا اور صدقہ دینے والے کی نیت اچھی تھی اس لئے تینوں راتوں کا صدقہ مقبول ہو گیا۔کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
”اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ” یعنی عمل کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
    لہٰذا یہ بڑی اہم بات ہے کہ مؤمن کو چاہے کہ عمل کرنے سے پہلے اپنی نیت کو درست کرلے کہ ہر نیک عمل کرنے میں یہی نیت رکھے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے خوش ہوجائے ہر گز ہرگز نام و نمود اور عزت وشہرت وغیرہ کی نیت دل میں نہ لائے ورنہ عمل صالح کرنے کے باوجود کوئی اجرو ثواب نہیں ملے گا۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب اذاتصدق…الخ،الحدیث:۱۴۲۱،ج۱،ص۴۷۹
error: Content is protected !!