Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مائیوں ،اُبٹن اور مہندی کی رَسْم

مائیوں ،اُبٹن اور مہندی کی رَسْم 

شادی کی رَسْموں میں سے ایک رَسْم مائیوں بٹھانا بھی ہےکہ  جس میں دُولھا دُلہن کو زرد کپڑے پہنا کر اپنے اپنے گھروں میں بٹھادیا جاتا ہے ، خاص کر لڑکی کو ایسی جگہ بٹھایا جاتا ہے جہاں اس کی سہلیوں کے علاوہ کوئی اور نہیں جاتا۔ یونہی اُبٹن کے نام سے بھی ایک رَسْم کی جاتی ہے جس میں دُولھا  اور دُلہن کے جسم کو نکھارنے اور نرم و ملائم کرنے کیلئے اُبٹن لگایا جاتا ہے ۔ اس حد تک تو ان دونوں رَسْموں میں خِلافِ شرع کوئی بات نہیں لہٰذا مائیوں بٹھانے اور اُبٹن لگانے میں شَرْعاً کوئی حرج نہیں ۔ جیساکہ صَدْرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ مفتی محمد اَمجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : دُولھا ، دولہن کو بُٹنا (اُبٹن) لگانا ، مائیوں بٹھانا ، جائز ہے ان میں کوئی حرج نہیں ۔ (2)یونہی مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : شادی سے پہلے دُولھا ، دولھن کو جو اُبٹن مَلا جاتا ہے جس میں خُوشبو اور صفائی والی چیزیں ہوتی ہیں یہ بِلاکراہت جائز ہے کہ یہ   صابون کی طرح جسم کی صفائی ، نرمی کیلئے ہے۔ (1)
________________________________
2 –   بہارِ شریعت ، حصہ۷ ، ۲ / ۱۰۵
1 –   مرآۃ المناجیح ، ۵/ ٧۷۲
error: Content is protected !!