Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بخل سے نجات کاذریعہ :

(61)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے زکوٰۃ ادا کی اور مہمان کی ضيافت کی اور ناگہانی آفت ميں عطيہ ديا وہ بُخْل سے آزاد ہے۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۰۹۶،ج۴،ص۱۸۸)
(62)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو خصلتيں جوان رہتی ہيں: (۱)مال کی حرص اور (۲)لمبی عمر کی حرص۔”
(صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب کراہۃ الحرص علی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۴۱۲،ص۸۴۲)
(63)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بوڑھے کا دل دو چيزوں کی محبت ميں جوان ہی رہتا ہے (۱) زندگی اور (۲)مال کی محبت۔”
    (المرجع السابق،الحدیث:۲۴۱۰،ص۸۴۲)
(64)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِ جُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مجھے اپنی اُمت پر سب سے زيادہ نفسانی خواہشات اور لمبی اميدوں کا خوف ہے۔”
 (الکامل فی ضعفاء الرجال، احادیث علی بن ابی علی اللہبی۳۷۶ ،ج۶، ص ۶ ۳۱)
(65)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل سچے حاجت مند سائل کی خاطر ا سی طرح ناراض ہوتا ہے جيسے اپنی ذات کے لئے ناراض ہوتا ہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث:۷۳۹۸،ج۳،ص۱۸۲)
(66)۔۔۔۔۔۔خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بُخْل سے بچتے رہو کيونکہ بُخْل نے جب ايک قوم کو اُکسايا تو انہوں نے اپنی زکوٰۃ روک لی اور جب مزيد اُکسايا تو انہوں نے رشتہ دارياں توڑ ڈاليں اور جب مزيد اُکسايا تو وہ خونريزی کرنے لگے۔”
       (المرجع السابق،الحدیث:۷۴۰۱،ج۳،ص۱۸۲)
(67)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لالچ سے بچتے رہو کيونکہ تم سے پچھلی قوموں کو لالچ ہی نے ہلاکت ميں ڈالا، لالچ نے انہيں جھوٹ پر اُبھارا تو وہ جھوٹ بولنے لگے اور جب لالچ نے ظلم پر اُبھارا تو ظلم کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خيال دلايا تو قطع رحمی کرنے لگے۔”
   (المرجع السابق،الحدیث:۷۴۰۲،ج۳،ص۱۸۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(68)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بُخْل کے 10حصے ہيں، ان ميں سے 9حصے فارس(یعنی ايران) ميں جبکہ ايک حصہ ديگر لوگوں ميں ہے۔”
(جامع الاحادیث للسیوطی،حرف البا، الحدیث: ۱۰۱۱۹،ج۴،ص۵۲)
(69)۔۔۔۔۔۔ حضورنبئ پاک،صاحبِ لولاک،سیَّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :”لوگ کہتے ہيں يا تم ميں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے :”لالچی انسان ظالم سے زيادہ دھوکے باز ہوتا ہے اور اللہ عزوجل کے نزديک لالچ سے بڑا ظلم کون سا ہے، اللہ عزوجل اپنی عزت وجلال اور عظمت کی قسم اس بات پر فرماتا ہے کہ جنت ميں کوئی بخيل يا لالچی داخل نہيں ہو گا۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث:۷۴۰۴،ج۳،ص۱۸۲)
(70)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے ملامت کو پيدا فرمايا تو اسے بخل اور مال سے ڈھانپ ديا۔”
  (المرجع السابق،الحدیث:۷۴۰۷،ج۳،ص۱۸۳)
 (71)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بندے کے دل ميں لالچ اور ايمان کبھی اکٹھے نہيں ہو سکتے۔”
 (سنن النسائی،کتاب الجھاد،باب فضل من عمل فی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۱۱۲،ص۲۲۸۷)
 (72)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کسی مؤمن بندے کے دل ميں لالچ اور ايمان کبھی جمع نہيں ہو سکتے۔”
 (الکامل فی ضعفاء الرجال،عبدالغفور بن عبدالعزیزابو الصباح الواسطی،الحدیث: ۱۴۸۱،ج۷،ص۲۱)
 (73)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اے ابنِ آدم !تُو جب تک زندہ رہا بُخْل کرتا رہا اور جب تيری موت کا وقت آيا تو اپنا مال لٹانے لگا، دو خصلتوں کو جمع نہ کر: (۱)زندگی ميں برائی اور (۲)موت کے وقت بھی برائی، بلکہ اپنے ان رشتہ داروں کی طرف ديکھ جو محروم ہيں اور وارث نہيں بنتے، لہٰذا ان کے لئے بھلائی کے ساتھ وصيت کر۔”
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث:۷۴۱۳،ج۳،ص۱۸۳)

تنبیہات

تنبیہ1:

    زکوٰۃ ادا نہ کرنے کو علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اجماع کی وجہ سے کبيرہ گناہ شمار کيا گيا ہے کیونکہ گذشتہ بیان کردہ احادیثِ مبارکہ میں اس پر شدید وعید آئی ہے، علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام کا ظاہری مفہوم يا وضاحت يہ ہے کہ منع زکوٰۃ ميں قليل و کثير کا کوئی فرق نہيں مگر آئندہ غصب کے بيان ميں آئے گا کہ يہ چوری کے نصاب کے ساتھ مقيد ہے، ايک قول يہ ہے کہ منع زکوٰۃ ميں بھی اسی قيد کا احتمال ہے مگر يہ ايسی قيد ہے جس کی کوئی سند نہيں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    مَیں(مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) کہتا ہوں ! اگر غصب کے بارے ميں آنے والے بيان کو تسليم کر ليا جائے تب بھی ہم یہاں پراس کے قائل نہيں کيونکہ زکوٰۃ مالک کے سپرد ہوتی ہے لہٰذا اگر قليل زکوٰۃ روکنے کو کبيرہ نہ قرار دے کر اسے رخصت دے دی جائے تو يہ( رخصت )اسے پوری زکوٰۃ روکنے کی طرف لے جائے گی جيسا کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں کہ خمر (یعنی انگوری شراب) کا ايک قطرہ بھی پينا کبيرہ گناہ ہے حالانکہ اس سے نشہ نہ ہونا متحقق ہے اور اس کی علت يہ بيان کی کہ اس کی قلت اس کی کثرت کی طرف لے جاتی ہے، لہٰذا اس اِمکان کو مکمل طور پر ختم کر ديا گيا، اسی طرح مال کی کثرت کو نفس کا پسند کرنا بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر قليل ميں اسے سہولت دی گئی تو وہ اسے کثير زکوٰۃ روک لينے کا ذريعہ بنا لے گا، لہٰذا واضح ہو گيا کہ يہاں قليل و کثير زکوٰۃ روک لينے ميں کوئی فرق نہيں جبکہ زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد اس ميں بلاعذر تاخير کرنے کو کبيرہ گناہ ميں شمار کرنا حضرت سيدنا ابنِ مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روايت سے واضح ہے کہ”صدقہ کو مؤخر کرنے والے ان بد بختوں ميں سے ہيں جن پراللہ کے رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبان سے لعنت کی گئی ہے۔”
    اسی لئے بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کے کبيرہ گناہ ہونے پر جزم فرمايا ہے۔
error: Content is protected !!