Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بغیر طلب و خواہش کے ملنے والا مال لینے میں حرج نہیں

حضرت سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں کہ مخزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے عطا فرمايا کرتے، تو ميں عرض کرتا:”يہ چيز اس شخص کو عطا فرما ئيے جو مجھ سے زيادہ اس کا محتاج ہو۔”توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”لے لو! جب اس مال ميں سےکوئی چيز تمہارے پاس آئے اور تمہيں نہ اس کی خواہش ہو نہ ہی تم اس کا سوال کرو تو اسے لے لو اور جمع کر لو پھر اگر چاہو تو اسےکھا لو اور چاہو تو صدقہ کر دو اور جو مال اس طرح حاصل نہ ہو اس کے پيچھے نہ پڑو۔” حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بيٹے حضرت سیدنا سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں :”اسی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نہ کسی سےکوئی چيز مانگتے اور نہ ہی جو چیز انہیں دی جاتی اسے واپس لوٹاتے۔”
 (صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ ، باب من اعطاہ اللہ شیأا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۴۷۳،۷۱۶۳،۷۱۶۴،ص۱۱۶،ص۵۹۷)
 (8)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سيدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی چيز بھيجی تو انہوں نے اسے لوٹا ديا۔” توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان سے استفسار فرمایا:” تم نے وہ چيز کيوں لوٹا دی؟” انہوں نے عرض کی،”کيا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہميں نہيں بتايا کہ آدمی کی بھلائی اسی ميں ہےکہ وہ کسی سےکوئی چيز نہ لے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”یہ حکم تو سوال کرنےکی صورت ميں ہے اور جو چيز سوال کے بغير حاصل ہو وہ تو رزق ہے جو اللہ عزوجل نے اسے عطا فرمايا ہے۔” تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی،”اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں ميری جان ہے! ميں کسی سےکوئی شئے نہ مانگوں گا اور جو چيز سوال کئے بغير ميرے پاس آئے گی اسے لے ليا کروں گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (کنزالعمال، کتاب الزکاۃ،قسم الافعال،باب ادب الاخذ،الحدیث: ۱۷۱۴۷،ج۶،ص۲۶۹)
 (9)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جسے سوال اورخواہش کے بغير اپنے بھائی سےکوئی بھلائی پہنچے اسے چاہےکہ وہ شئے قبول کر لے اور نہ لوٹائےکيونکہ يہ اس کا رزق ہے جسے اللہ عزوجل نے اس کی طرف بھيجا ہے۔”
       (المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث:۱۷۹۵۸،ج۶،ص۲۷۶)
 (10)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس کو اللہ عزوجل کوئی مال بن مانگے عطا فرمائے تو اسے چاہےکہ وہ اسے قبول کر لےکیونکہ یہ اسی کا رزق ہے جو اللہ عزوجل نے اس کے پاس بھیجا ہے۔”
 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ ،الحدیث: ۷۹۲۶،ج۳،ص۱۴۵)
 (11)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جسے اِس رزق سےکوئی شئے سوال اور خواہش کئے بغير حاصل ہو اسے چاہےکہ اس کے ذريعے اپنے رز ق کو وسيع کرے پھر اگر وہ غنی ہو تو وہ چيز ايسے شخص کو دے دے جو اس سے زيادہ اس چيز کا حاجت مند ہو۔”
     (المعجم الکبیر، الحدیث: ۳۰،ج۱۸،ص۱۹)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (12)۔۔۔۔۔۔حضرت عبد اللہ بن احمد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے والد گرامی سيدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خواہش اور آرزو کے بارے ميں دریافت فرمایا تو انہوں نے ارشاد فرمايا”اس سے مراد يہ ہےکہ تم اپنے دل ميں کہو کہ عنقريب فلاں شخص مجھے يہ چيز بھيجے گا يا فلاں چيز مجھے ملے گی۔”
 (المسند للامام احمدبن حنبل،حدیث رافع بن عمروالمزنی،تحت الحدیث:۲۰۶۷۴،ج۷،ص۳۶۲)
 (13)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:”وسعت ميں عطا کرنے والا محتاجی ميں قبول کرنے والے سے زيادہ فضيلت رکھتا ہے۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث:۸۲۳۵،ج۶،ص۱۲۷)
error: Content is protected !!