Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۱۱)نماز تحیۃ الوضو

حدیث:
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ یَابِلَالُ حَدِّثْنِیْ بِاَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہٗ فِی الْاِسْلَامِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ مَاعَمِلْتُ عَمَلًا اَرْجٰی عِنْدِیْ اَنِّیْ لَمْ اَتَطَہَّرْ طُھُوْرًا فِیْ سَاعَۃِ لَیْلٍ اَوْ نَھَارٍ اِلاَّ صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّھُوْرِ مَا کُتِبَ لِیْ اَنْ اُصَلِّیَ (1)
                     (بخاری،ج۱،ص۱۵۴)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے نمازِ فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے بلال !رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم نے اسلام میں سب سے زیادہ امید والا جو عمل کیا ہے اس کو مجھ سے بیان کرو اس لئے کہ میں نے جنت میں تمہارے جوتوں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے، توحضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاکہ سب سے زیادہ امید والاعمل یہی میراہے کہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے میرے مقدر میں جو نماز لکھی ہوئی ہے اُس کو پڑھ لیتا ہوں۔

تشریحات و فوائد

    جنت میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جوتوں کی آہٹ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے آگے سنی، اِس کا مطلب یہ ہے کہ شبِ معراج میں جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنت کی سیر فرما کر جنت میں اپنے امتیوں کے درجات کا حال دیکھاتوحضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے آگے آگے جنت میں چلتے ہوئے دیکھا۔ حضرت بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے آگے آگے چلنا یہ کوئی بے ادبی کی بات نہیں۔ بادشاہ کے کچھ خادم بادشاہ کے پیچھے پیچھے اور کچھ خادم مثلاًنقیب اورچوبدارآگے آگے چلاکرتے ہیں اوریہ دونوں بادشاہ کے باادب خادم ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس حدیث سے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بلند درجے کا پتا چلتا ہے کہ وہ جنت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نقیب بن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے آگے آگے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی آمدآمدکااعلان کرتے ہوئے چلیں گے اور حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رُتبہ بلند ان کو نماز تحیۃ الوضوء کی بدولت ملا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب التھجد،باب فضل الطھور…الخ،الحدیث:۱۱۴۹،ج۱، ص۳۹۰
error: Content is protected !!