Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بنیادِ ابراہیمی پر تعمیر نوکی خواہش:

 (26)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم نے جاہليت کا دورنیانیا نہ چھوڑا ہوتا تو ميں کعبہ کو گرانے کا حکم ديتا اور اس کے جو حصے اس سے نکال دئیے گئے تھے انہيں اس ميں داخل کر ديتا(يعنی حجرِاسودسے 6يا7ہاتھ تک کا چھوڑاہواحصہ)اور اس کا دروازہ زمين سے ملاديتااوراس کے دودروازے بنا ديتا،مشرقی دروازہ اورمغربی دروازہ،پس يہ حضرت ابراہيم علیہ السلام کی بنيادکوپہنچ جاتا۔”
 ( صحیح البخاری ،کتاب الحج ، باب فضل مکۃ وبنیانھا ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۱۵۸۶ ، ص ۱۲۵)
 (27)۔۔۔۔۔۔مسلم شريف ميں يہ اضافہ ہے:”کعبہ کا خزانہ اللہ عزوجل کی راہ ميں خرچ کر ديتا۔”
 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب نقض الکعبۃ وبنائھا، الحدیث: ۳۲۴۳،۸۹۹)
 (28)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے:”قريش نے جب بیت اللہ شریف کوبناياتوان کانفقہ کم پڑگيا۔”
 ( سنن النسائی ،کتاب المناسک ، باب بناء الکعبۃ ، الحدیث: ۲۹۰۴ ، ص۲۲۷۴)
    کيونکہ انہوں نے اسے صرف اسی مال سے بناياتھاجس کی حلّت کا انہيں يقين تھا، لہذاوہ محتاج ہوگئے اورشاذروان (یعنی ديوارکے پايہ کے ساتھ عرض ميں چھوڑا ہوا حصہ) اور حجرِاسود سے مذکورہ حصے چھوڑ دئیے اور اس کی بلندی کوکم کر ديا اور غربی دروازہ بندکرکے مشرقی دروازہ اونچا کر ديا تاکہ جسے چاہیں اس ميں داخل ہونے ديں اور جسے چاہیں روک ديں۔
error: Content is protected !!