Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خطبہ امامِ اہلِسنت، عاشقِ ماہِ نبوّت حامی سنت،ماحی بدعت،اعلی حضرت مجدددین وملت حضرت علامہ مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن

” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْمُسَلْسَلِ اِحْسَانُہ، اَلْمُتَّصِلِ اِنْعَامُہ،، غَیْرِ مُنْقَطِعٍ وَلَا مَقْطُوْعٍ فَضْلُہٗ وَاِکْرَامُہ،، وَذِکْرُہ، سَنَدُ مَنْ لَا سَنَدَ لَہٗ، وَاِسْمُہ، اَحَدُ مَنْ لَا اَحَدَ لَہٗ، وَاَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ العَوَالِي المَنْزُوْلِ، وَاَکْمَلُ السَّلَاَمِ الْمُتَوَاتِرِ الْمَوْصُوْلِ، عَلٰی أَجَلِّ مُرْسَلٍ، کَشَّافِ کُلِّ مُعْضَلٍ، اَلْعَزِیْزِ الْاَعَزِّ الْمُعِزِّ الْحَبِیْبِ، الْفَرْدِ فِیْ وَصْلِ کُلِّ غَرِیْبٍ، فَضْلُہٗ الْحَسَنُ مَشْہُوْرٌ مُّسْتَفِیْضٌ، وَبِالْاِسْتِنَادِ اِلَیْہِ یَعُوْدُ صَحِیْحاً کُلُّ مَرِیْضٍ، قَدْ جَاءَ جُوْدُہٗ الْمَزِیْدُ، فِیْ مُتِّصِلِ الْاَسَانِیْدِ، بَلْ کُلُّ فَضْلٍ اِلَیْہِ مُسْنَدٌ، عَنْہ، یُرْوٰی وَاِلَیْہِ یُرَدُّ، فَسُمُوْطُ فَضَائِلِہِ الْعُلْیَۃِ مُسَلْسَلَاتٌ بِالْاَوَّلِیَّۃِ، وَکُلُّ دُرٍّ جَیِّدٍ مِنْ بَحْرِہٖ مُسْتَخْرَجٌ، وَکُلُّ مُدِرِّجُوْدٍ فیْ سَائِلِیْہٖ مُدْرَجٌ، فَھُوَ الْمُخْرِجُ مِنْ کُلِّ حَرَجٍ، وَھُوَ الْجَامِعُ، وَلَہٗ الْجَوَامِعُ، عَلَمُہ، مَرْفُوْعٌ، وَحَدِیْثُہ، مَسْمُوْعٌ، وَمُتَابِعُہ، مَشْفُوْعٌ، وَالْاِصْرُ عَنْہ، مَوْضُوْعٌ، وَغَیْرُہ، مِنَ الشَّفَاعَۃِ قَبْلَہٗ مَمْنُوْعٌ، فَاِلَیْہِ الْاسْنَادُ فِیْ مَحْشَرِ الصُّفُوْفِ، وَاَمْرُ الْمُوْقِفُ عَلٰی رَاْیِہٖ مَوْقُوْفٌ، حَوْضُہ، الْمَوْرُوْدُ لِکُلِّ وَارِدٍ مَسْعُوْدٍ، فَیَافَوْزَ مَنْ ھُوَ مِنْہ، مُنْہِلٌ وَمَعْلُوْلٌ، فَبِہٖ کُلُّ عِلَّۃٍ مِّنْ مُعَلَّلٍ تَزُوْلُ، حِزْبُہ، الْمُعْتَبَرُ، وَالشُّذُوْذُ مِنْہُ مُنْکَرٌ، وَطَرِیْقُ الشَّاذِ اِلٰی شَوَاظِ سَقَرَ،
حَافِظُ الْاُمَّۃِ مِنْ الْاُمُوْرِ الدَّلْہَمَۃِ، اَلذَّابُ عَنَّا کُلَّ تَلْبِیْسٍ وَتَدْلِیْسٍ، وَالْجَابِرُ لِقَلْبِ بَائِسٍ مُضْطَرِبٍ مِنْ عَذَابٍ بَئِیْسٍ، اَلْحَاکِمُ الْحُجَّۃُ الشَّاہِدُ الْبَشِیْرُ، مُعْجَمٌ ِفیْ مَدْحِہٖ کُلُّ بَیَانٍ وَتَقْرِیرٍ، عُلُوُّہ، لَا یُدْرَکُ، وَمَا عَلَیْہِ مُسْتَدْرَکٌ، مَقْبُوْلُہٗ یُقْبَلُ، وَمَتْرُوْکُہ، یُتْرَکُ، تَعَدَّدَ طُرُقُ الضَّعِیْفِ اِلَیْہِ، فَمِنْ سُنَنَہٖ الصِّحَاحِ اَلتَّعَطُّفُ عَلَیْہِ، فَیَجْبُرُ بِاِعْتِضَادِہِ قَلْبُہ، الْجَرِیْحُ، وَیَرْتَقِيْ مِنْ ضُعْفِہٖ اِلٰی دَرَجَۃِ الصَّحِیْحِ، مَدَارُ اَسَانِیْدِ الْجُوْدِ وَالْاکْرَامِ، مُنْتَہٰی سَلاَسِلِ الْانْبِیَاءِ الْکِرَامِ، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ وَسَلَّمَ، مَلأَ آفَاقِ السَّمَاءِ وَاَطْرَافِ الْعَالَمِ، وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَکُلِّ صَالِحٍ مِّنْ رِجَالِہٖ وَحِزْبِہٖ، رُوَاۃِ عِلْمِہٖ وَدُعَاۃِ شَرْعِہٖ وَوُعَاۃِ اَدَبِہٖ، وَعَلٰی کُلِّ مَنْ لَہٗ وِجَادَۃٌ وَمُنَاوَلَۃٌ مِنْ اَفْضَالِہِ الْوَاصِلَۃِ الدَّارَۃِ الْمُتَوَاصِلَۃِ بِحُسْنِ ضَبْطٍ مَحْفُوْظِ النِّظَامِ، مِنْ دُوْنِ وَہْمٍ وَلَا اِیْہَامٍ، وَلَا اِخْتِلاَطٍ بِالْاَعْدَاءِ اللِّیَامِ، مَا رُوِیَ خَبْرٌ وَحُوِیَ اِجَازَۃٌ، وَغَلَبَ حَقِیْقَۃُ الْکَلاَمِ مَجَازَہ،۔ آمِیْن اَمَّا بَعْدُ:
    یہ خطبہ امام اہلسنت مجدددین وملت حضرت علامہ مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا تحریر کردہ ہے جس میں تقریبا اسی(۸۰)مصطلحات حدیث کو بطوربراعۃاستہلال نہایت فصاحت وبلاغت کے ساتھ ذکر کیا گیاہے جو آپ کی ذہانت، فطانت اورجودتِ طبع پر دال ہے۔مصطلحات مشمولہ  ہیں   ٭حدیث٭خبر٭تقریر٭مسموع٭سند٭اسناد٭طریق٭متواتر ٭مشہور٭مستفیض٭عزیز٭غریب٭فرد٭احد٭مقبول٭مردود ٭صحیح ٭متصل ٭موصول ٭وصل ٭متصل الاسانید ٭معلل٭علت ٭شاذ ٭شذوذ ٭ضبط ٭حسن ٭ضعیف ٭اعتضاد ٭محفوظ ٭منکر ٭متابع٭شاہد٭معتبر٭مرسل٭معضل٭منقطع٭مدلس ٭موضوع ٭متروک ٭معلول ٭مدرج ٭مضطرب ٭مزید فی متصل الاسانید ٭اختلاط ٭وہم ٭مرفوع٭ موقوف ٭مقطوع ٭منتھی ٭عوالی ٭نوازل٭ علیۃ ٭علو ٭رجال ٭مسلسل بالاولیت ٭وداۃ ٭دعاۃ ٭صحب ٭روی ٭یروی ٭اجازۃ ٭مناولۃ ٭وجادۃ ٭مجاز ٭صالح ٭جید ٭حافظ ٭حاکم ٭حجت ٭جامع ٭جوامع ٭سنن ٭مسند ٭معجم ٭مستخرج ٭مستدرک ٭صحاح ٭مخرج ۔
ترجمہ:
    تمام تعریفیں اللہ کیلئے جس کا احسان مسلسل و انعام متصل ہے، اس کا فضل ختم ہوتا ہے ا ور نہ ہی اسکا کرم روکا جاسکتاہے، اس کا ذکر بے کس کاسہارا اور اس کا نام بے بس کا یار اہے۔اور افضل ترین درود جو نزول میں اعلی ترین ہو اور کامل ترین سلام جوپے درپے بغیر فاصلہ کے ہو، نازل ہورسولوں کے سردار پرجوکہ ہرپیچیدگی کوحل کرنے والے، عزیز ، عزیزتر، معزز بنانے والے محبوب ہیں۔ یکتاہیں ہر غریب کی دستگیری کو پہنچنے میں۔ان کا فضل حسن مشہور اور ہر ایک کو عام ہے اور ان کے سہارے سے ہر مریض صحیح ہوجاتاہے ان کی زائد ترسخاوت متصل سندوں میں وارد ہے۔بلکہ ہر فضل انہی کی طرف بلند کیا جاتاہے انہی سے سیراب ہوتاہے اور ا نہی کی طرف پھرتاہے لہذاان کے اعلی فضائل کی لڑی اولیت کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ہر عمدہ موتی انہی کے بحر ذخار سے نکالا جاتاہے اور ہر سخاوت کا(دریا) بہانے والا ان کے مانگنے والوں میں ضم ہے لہذا وہ ہر تنگی سے نکالنے والے ہیں اور کمالات کے جامع ہیں اور انہیں کیلئے جوامع الکلم ہیں ان کا پرچم بلند ہے اور ان کی بات سنی جاتی ہے اور ان کی اتباع کرنے والے کی شفاعت مقبول ہے اور ان سے مستغنی ہونا خسران ہے ، ان سے پہلے اور کوئی شفاعت کیلئے ماذون نہیں تو انہی کی پناہ(سہارا)ہے صف بستہ قوم کے محشر میں اور موقف کا (ہولناک)معاملہ انہی کی رائے پر موقوف ہے ان کا حوضِ (کوثر) ہرسعادت مند کیلئے ہے، تو اس کی کامیابی قابل رشک ہے جوان سے بار بار سیراب ہو،پس انہی سے ہر بیمار کا روگ دور ہوتا ہے انہی کا گروہ قابل تقلید ہے اوراس سے علیحدگی بری ہے اور علیحدہ ہونے والے کا رستہ جہنم کے شعلوں کی طرف ہے،امت کی حفاظت کرنے والے ہیں تاریک حادثات سے، ہم سے دور کرنے والے ہیں ہر شک و عیب کو اور جوڑنے والے ہیں پریشان کے دل کو جو کہ بے چین ہو سخت عذاب کے خوف سے ۔حاکم، دلیل، گواہ اور خوشخبری دینے والے ہیں، جن کی مدح میں ہر بیان وتقریر تشنہ ہے، ان کی بلندی تک نہیں پہنچا جاسکتا دریں حال کہ ان پر کوئی عیب نہیں،انکا مقبول مقبول ہے اور ان کا دھتکارا ہوا مردود ہے، ناتواں کے لئے ان کی بارگاہ تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں پس ان کی عمدہ سنتوں میں سے کمزور پر مہربانی کرنابھی ہے لہذا ان کا دامن تھا منے سے اس کا زخمی دل دلاسہ پاتاہے اور اپنی کمزوری سے درست ہوکر تندرست کے مرتبے تک بلند ہوجاتاہے، آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سخاوت وکرم کی سندوں کے سرچشمہ ہیں انبیاء کرام کے سلسلے کو انتہاء تک پہنچانے والے ہیں، اللہ تعالی کا درود وسلام ہو ان پر اور دیگر انبیاء پرایسا درود وسلام جوآسمان کے افق اور عالم کے کناروں کو بھردے، اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی آل واصحاب پر اور آپ کے عہد مبارک اور لشکر کے ہرفرد ِصالح پر درود وسلام ہوجو کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علم کے راوی اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شریعت کے داعی اور آپ کے ادب کے محافظ ونگہبان ہیں اور ہر اس شخص پر درودوسلام ہوجو کہ پانے والا اور حاصل کرنے والا ہے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مسلسل ولگاتار متواتر فضل سے قوی حافظہ کے ذریعے محفوظ نظام کو کسی وہم وایہام کے بغیر اور کمینے دشمنوں سے ملے بغیر اس حال میں کہ اس نے کوئی اپنی تجرباتی بات اور من مانی سند بیان نہیں کی ،اور اس کے کلام کی حقیقت اس کے مجاز پر غالب ہے۔آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!