Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اُمور تین طرح کے ہوتے ہیں:

(۱)ولایا ت: سب سے بڑی آفت اسی میں ہے ۔لہٰذا کمزور لوگوں کو اسے سرے سے چھوڑ ہی دینا چاہے، 
(۲)نماز اور دیگر بدنی عبادات: انہیں نہ تو کوئی کمزور چھوڑ سکتا ہے نہ ہی طاقتور مگروہ ان میں پیدا ہونے والے ریا کے شائبے کو دور کرنے کے لئے کو شش کرسکتے ہیں، 
(۳)ضرورت سے زائد علوم کے حصول کی کوشش: یہ ان دونوں کا درمیانی مرتبہ ہے مگریہ ولایات کے زیادہ مشابہ ہے اور آفات سے زیادہ قریب ہے، لہٰذا کمزور لوگوں کے حق میں اس سے بچنا ہی زیادہ مناسب ہے، 
    باقی رہ گیا چوتھا مرتبہ یعنی مال جمع کرنا اور اسے خر چ کرنا: تو بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسے ذکر اور نوافل میں مشغول ہونے سے افضل قرار دیا ہے ۔جبکہ بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان کے بر عکس فرمایا ہے ۔حق یہ ہے کہ اس میں بھی بڑی آفا ت ہیں مثلا تعریف کی تمنا، دلوں کو اپنی جانب مائل کرنا اورخود کو سخاوت کے ساتھ ممتاز کرنا وغیرہ، لہٰذا جو ان آفات سے چھٹکارا پا لے تو اس کے لئے مال جمع کرنااور اسے راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنا افضل ہے، کیونکہ یہ بچھڑوں کو ملانے، مستحقین کی ضرورت پوری کرنے اور ان کی مدد سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قرب پانے کا ذریعہ ہے اور جو اِن آفات سے خلاصی نہ پا سکے اسے عبادات کو لازم پکڑنااور ان سے حاصل ہونے والے آداب وکمالات کے لئے کشادگی سے فارغ ہونا ہی زیادہ مناسب ہے، علم کے معاملہ میں عالم کے اخلاص کی علامت یہ ہے کہ اگر اس سے اچھا کوئی واعظ یا اس سے زیادہ علم والا کوئی شخص ظاہر ہو جائے اور لوگ اسے زیادہ پسند کرنے لگیں تو وہ اس سے خوش ہو اور حسد نہ کرے، البتہ اس پر رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ رشک سے مراد یہ ہے کہ وہ عالم اپنے لئے اس جیسے علم کی تمنا کرے، اور ایک علامت یہ بھی ہے کہ اگر اس کی مجلس میں اکابر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰآ جائیں تو اس کا کلام متغیر نہ ہو بلکہ وہ ساری مخلوق کو ایک ہی نظر سے دیکھے اور اس بات کو پسند نہ کرے کہ راستوں میں لوگ اس کے پیچھے چلیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

error: Content is protected !!