Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نماز کا چور:

(3)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز ميں چوری کرتا ہے۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کوئی شخص اپنی نماز ميں کس طرح چوری کرسکتا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”وہ اس کے رکوع و سجود پورے نہيں کرتا۔” يا ارشاد فرمايا : ”وہ رکوع و سجود ميں اپنی پيٹھ سيدھی نہيں کرتا۔” ۱؎
 ( المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث:۲۲۷۰۵،ج۸،ص۳۸۶)
 (4)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اپنی نماز ميں چوری کرنے والا سب سے بڑا چور ہے۔” عرض کی گئی :” يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کوئی شخص اپنی نماز ميں کيسے چوری کر سکتا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”وہ نماز کے رکوع و سجود پورے نہیں کرتااور لوگوں ميں سب سے بڑا بخيل وہ ہے جو سلام کرنے ميں بخل کرے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   (المعجم الصغیر للطبرانی،الحدیث:۳۳۶،ج۱،ص۱۲۱)
 (5)۔۔۔۔۔۔ (نماز ادا کرتے ہوئے )رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے پیچھے ایک شخص کو گوشۂ چشم سے دیکھاجو رکوع اور سجدے میں اپنی پشت کو سیدھا نہیں کر رہا تھا تو جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی نماز مکمل فرما لی تو ارشاد فرمایا :”اے گروہِ مسلمین! جو نماز میں رکوع و سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ”
 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات ۔۔۔۔۔۔الخ ،باب الرکوع فی الصلاۃ،الحدیث:۸۷۱،ص۲۵۲۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱ ؎:شیخ طریقت ،امیر اہلسنّت،بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ نازکتاب ”نماز کے احکام” میں ص۱۷۹پر نقل فرماتے ہیں کہ مفسر شہیر، حکیم الا ُمت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان اس حدیث کے تحت فرما تے ہیں : ”معلوم ہوا کہ مال کے چور سے نمازکا چور بدتر ہے کیوں کہ مال کا چور اگر سزابھی پاتا ہے تو کچھ نہ کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چورسزاپوری پا ئے گا اس کے لئے نفع کی کوئی صورت نہیں۔ مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے جبکہ نماز کا چور اللہ عزوجل کا حق،یہ حالت ان کی ہے جو نماز کو ناقص پڑھتے ہیں اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جو سِرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔”        (بحوالہ مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح،ج۲،ص۷۸)
error: Content is protected !!