Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۶۰) صالحین کی خدمت

حدیث:
    عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَفُّ اَھْلُ النَّارِ فَیَمُرُّ بِھِمُ الرَّجُلُ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ الرَّجُلُ مِنْھُمْ یَا فُلَانُ اَمَا تَعْرِفُنِیْ اَنَا الَّذِیْ سَقَیْتُکَ شَرْبَۃً وَقَالَ بَعْضُھُمْ اَنَا الَّذِیْ وَھَبْتُ لَکَ وَضُوْءً فَیَشْفَعُ لَہٗ فَیُدْخِلَہٗ الْجَنَّۃَ۔رواہ ابن ماجہ (1)
 (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۴)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنمی لوگ ایک قطار میں کھڑے کیے جائیں گے تو ایک جنتی آدمی کا ان لوگوں کے پاس گزر ہوگا تو جہنمیوں میں سے ایک آدمی اُس سے کہے گا کہ اے فلاں !کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ میں وہی ہوں کہ آپ کو شربت پلایا تھا اور کوئی جہنمی کہے گا کہ میں وہی ہوں کہ آپ کو وضو کا پانی دیا تھا تو وہ جنتی اُس جہنمی کی شفاعت کریگااوراس کوجنت میں داخل کردے گا۔ اس حدیث کو ابنِ ما جہ نے روایت کیا ہے۔

تشریحات وفوائد

     صالحین یعنی علمائے ملت و مشایخ کے ساتھ عقیدت و محبت اور اِن حضرات کی مخلصانہ خدمت دونوں جہاں میں خیر و برکت کا باعث اور قیامت کے لئے بہترین سامانِ آخرت ہے۔ آپ نے حدیث میں پڑھ لیا کہ ایک گھونٹ شربت یاپانی پلانے والے اور وضو کے لیے پانی دینے والے آدمی کو صالحین کی اتنی ہی سی خدمت کی بنا ء پر ایک نیک بندے کی شفاعت سے جنت مل گئی اور جہنم سے ہمیشہ کے لیے رہائی حاصل ہوگئی۔ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
شنیدم کہ در روز امید و بیم 
بداں را بہ نیکاں بہ بخشد کریم
    یعنی میں نے سُنا ہے کہ قیامت کے دن خداوندِ کریم بہت سے گناہگاروں کو نیکوں کی و جہ سے بخش دے گا۔ فقط ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
    وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہِ وَھُوَحَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِہٖ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔
تمت بالخیر
error: Content is protected !!