Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث کون ہو گا؟ کسی نے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ لوہے کا ہے یا لکڑی کا؟ کسی نے یہ پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کیا کھاتا پیتا ہے؟
ان سوالوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ قُلْ ھُوَا للہُ نازل فرمائی اور اپنی ذات و صفات کا واضح بیان فرما کر اپنی معرفت کی راہ روشن کردی اور کفار کے جاہلانہ خیالات و اوہام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات و صفات کے نورانی بیان سے دور فرما دیا۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶،پ۳۰، اخلاص: ۱)
    ارشاد فرمایا کہ:
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿1﴾اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿2﴾لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿3﴾وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿4﴾ 
                (پ30،الاخلاص:1۔4)
ترجمہ کنزالایمان:۔تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔
درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ قل ھو اللہ کی چند آیتوں میں ”علم الہیات” کے وہ نفیس اور اعلیٰ مطالب بیان فرما دیئے ہیں کہ جن کی تفصیلات اگر بیان کی جائیں تو کتب خانے کے کتب خانے پُر ہوجائیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیت میں صفت عظمت و کمال کے ساتھ موصوف ہے۔ مثل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔
وہ کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، نہ کسی کا محتاج ہے بلکہ سب اس کے محتاج ہیں وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث کی شان ہے اس لئے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ کسی کا باپ ہے نہ اس کا کوئی مجانس ہے اور نہ اس کا عدیل و مثیل ہے۔
اس سورۃ مبارکہ کی فضیلتوں کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اسکو تہائی قرآن کے برابر بتایا گیا ہے یعنی اگر تین مرتبہ اس سورۃ کو پڑھا جائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے گا۔
ایک شخص نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے اس سورۃ سے محبت ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کر دے گی۔
    (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶، پ۳۰، اخلاص:۱)
error: Content is protected !!