Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

یتیم کا مال کھانے پر وعیدیں:

(2)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اے ابو ذر! ميں تجھے کمزور ديکھتا ہوں اور ميں تيرے لئے وہی چيز پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں، 2آدميوں کا کبھی حاکم نہ بننااوريتيم کے مال کی جانب مائل نہ ہونا۔”
( صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ، باب کراھۃ الامارۃ بغیر ضرورۃ ، الحدیث: ۴۷۲۰ ، ص ۱۰۰۵)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”7ہلاک کرنے والی چيزوں سے بچو۔” صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون سی ہيں؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا، جادو کرنا، اللہ عزوجل کی حرام کردہ جان کو نا حق قتل کرنا، سود کھانا، يتيم کا مال کھانا،جہاد سے پیٹھ پھیرکربھاگنااور پاک دامن سیدھی سادی مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا ۔”
 ( صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ تعالی،ان الذین یاکلون۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۶۶،ص۲۲۳)
(4)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اکرم، شفيع مُعظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”کبيرہ گناہ 7ہيں: اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا، کسی مؤمن کونا حق قتل کرنا، سود کھانا، يتيم کا مال کھانا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا،میدانِ جہاد سے بھاگ جانا اور ہجرت کے بعداعرابی بن جانا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( مجمع الزوائد ،کتاب الایمان ، باب فی الکبائر ، الحدیث: ۳۹۰ ، ج ۱ ، ص ۲۹۴)
(5)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”4شخص ايسے ہيں کہ اللہ عزوجل انہيں جنت ميں داخل نہ کریگا اور نہ ہی اس کی نعمتيں چکھائیگا:(۱) شراب کا عادی (۲)سود کھانے والا(۳)ناحق يتيم کا مال کھانے والا اور (۴)والدين کا نافرمان۔”
( المستدرک ،کتاب البیوع ، باب ان اربی الربا عرض الرجل المسلم ، الحدیث: ۲۳۰۷ ، ج ۲ ، ص ۳۳۸)
(6)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جو خطوط حضرت سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے کر اہل يمن کی طرف بھيجے ان ميں يہ لکھاتھا:”اللہ عزوجل کے نزديک قيامت کے دن سب سے بڑے گناہ يہ ہيں: (۱)شرک کرنا (۲)ناحق مؤمن کو قتل کرنا (۳)جنگ کے دن ميدانِ جہاد سے بھاگنا (۴)والدين کی نافرمانی کرنا (۵)پاک دامن عورت پر تہمت لگانا(۶)جادو سيکھنا (۷)سود کھانا اور (۸)يتيم کا مال کھانا۔”
(صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ،باب کتب النبی علیہ السلام،الحدیث:۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸۱)
(7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”برورِقيامت کچھ لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائيں گے جن کے مونہوں سے آگ بھڑک رہی ہو گی۔” عرض کی گئی:”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! وہ کون لوگ ہوں گے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”کيا تم نے اللہ عزوجل کا يہ فرمانِ عالیشان نہيں پڑھا:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪10﴾
ترجمۂ کنز الايمان: وہ جو يتيموں کا مال نا حق کھاتے ہيں وہ تو اپنے پيٹ ميں نری آگ بھرتے ہيں اور کوئی دم جاتاہے کہ بھڑکتے دھڑے (آتش کدے )ميں جائيں گے۔(پ4، النساء:10)
(مسند ابی یعلی الموصلی،حدیث:ابی برزۃ الاسلمی،الحدیث:۷۴۰۳،ج۶،ص۲۷۲)
(8)۔۔۔۔۔۔حدیثِ معراج میں شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”پھر ميں ايسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن پر کچھ لوگ مقرر تھے جو ان کے جبڑوں کو چيرتے اور دوسرے آگ کے پتھر لے کر آتے اور ان کے مونہوں ميں ڈال ديتے جو ان کی پيٹھوں سے جا نکلتے۔” ميں نے دریافت کیا:”اے جبرئيل ! يہ کون لوگ ہيں؟” تو انہوں نے کہا :”یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں ۔”
 (تفسیر ابن کثیر،سورۃ النساء،تحت الآیۃ:۱۰،ج۲،ص۱۹۵،مفہومًا)
(9)۔۔۔۔۔۔حضرت ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:”ميں نے معراج کی رات ايسی قوم ديکھی جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے اور ان پر ايسے لوگ مقرر تھے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتے پھر ان کے مونہوں ميں آگ کے پتھر ڈالتے جو ان کے پيچھے سے نکل جاتے۔” ميں نے پوچھا:”اے جبرائيل (علیہ السلام)!يہ کون لوگ ہيں؟” تو انہوں نے بتایا:”یہ وہ لوگ ہيں جو يتيموں کامال ظلم سے کھاتےتھے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(تفسیرقرطبی،الجزء الخامس،سورۃ النساء،تحت الآیۃ:۱۰،ج۳،ص۳۹)

تنبیہ:

    يہ بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے اور علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کم يا زيادہ مال کھانے ميں کوئی فرق نہيں اگرچہ ايک دانہ ہی ہو جيسا کہ کم تولنے اور کم ناپنے کے بيان ميں گزر چکا ہے، اس کے اور غصب اور چوری کے درميان اسی طرح فرق ہے جس طرح ميں نے ان دونوں(یعنی چوری اورغصب) کے درميان فرق کيا اور ناپ تول ميں کمی کرنا بھی اسی ميں داخل ہے کيونکہ يہ بھی يتيم کے مال ميں تصرف کرنے پر قدرت ديتا ہے۔
    اگریتیم کا کم مال کھانے کو کبيرہ نہ قرار ديا جائےتو يہ زيادہ کھانے کی طرف لے جاتا ہے کيونکہ اسے کوئی منع کرنے والا نہيں کیونکہ وہ يتيم کےتمام مال کا والی ہے، لہذا کم لينے پر بھی کبيرہ گناہ ہو نے کا حکم متعين ہو گا بخلاف چوری اور غصب کے اور اسی سے ان کے قول کا بھی رد ہو جاتا ہے جنہوں نے يہ گمان کياکہ”يتيم کے مال سےتھوڑا سا لينا صغيرہ ہے۔”
error: Content is protected !!