Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مدینہ منورہ کے فضائل:

 (8)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ميرا جو اُمتی مدينہ منورہ کی سختی اور تنگدستی پر صبر کریگا ميں قيامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا ياوہ مسلمان ہو گاتو اس کے حق میں گواہی دوں گا۔”
 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ،باب الترغیب فی سکنی المدینہ۔۔۔۔۔۔ الخ الحدیث: ۳۳۴۷ ، ص۹۰۷،بدون”اذاکان مسلما”)
 (9)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ميں مدینہ منورہ کے ان دو پہاڑوں کے درميان کے درخت کاٹنے کو يا اس کے شکار کو حرام قرار ديتا ہوں، مدینہ منورہ ان لوگوں کے لئے بہتر تھا اگر وہ جانتے جو اس سے روگردانی کرتے ہوئے اِسے چھوڑے گا اللہ عزوجل اس کی جگہ اس سے بہتر کو بدل دے گا۔”  (المرجع السابق، الحدیث:۳۳۱۸،ص۹۰۵)
 (10)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اہل مدینہ پر ايک زمانہ ايسا ضرور آئے گا کہ لوگ خوشحالی کی تلاش میں یہاں سے چراگاہوں کی طرف نکل جائيں گے، پھر جب وہ خوشحالی پاليں گے تو لوٹ کر آئيں گے اور اہلِ مدینہ کو اس کشادگی کی طرف جانے پر آمادہ کريں گے حالانکہ اگر وہ جان ليں تو مدینہ منورہ ان کے لئے بہتر ہے۔”
 (المسندلامام احمدبن حنبل،مسندجابربن عبداللہ والحدیث:۱۴۶۸۶،ج۵،ص۱۰۶،”الاریاف”بدلہ”الافاق”)
error: Content is protected !!