Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چوتھی حدیثِ پاک

مام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ۱؎ (235-159ھ)اپنی” مُسْنَد۲؎ ”میں فرماتے ہیں کہ زید بن حباب، موسیٰ بن عبیدہ سے وہ ہود بن عطاء یمانی سے او روہ حضرت سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہيں کہ ہم میں ایک بہت ہی عبادت گزار، صاحب زُہدوتقویٰ او ر عقل مند نوجوان تھا۔ہم نے بارگاہِ رسالت علی صاحبھاالصلوٰۃ والسلام میں اس نوجوان کا نام ذکرکیا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اسے پہچان نہ سکے۔ ہم نے اس کی صفات بیان کیں، پھر بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اسے نہ پہچان سکے ۔ابھی ہم گفتگوہی کر رہے تھے کہ وہ شخص آتا دکھائی دیا۔ہم نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!یہی وہ شخص ہے۔”توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”مجھے تواس کے چہرے پرشیطان کی سیاہی(یعنی منافقت کی علامات ) دکھائی دے رہی ہے۔اس نے آکر سلام کیاتونبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمايا:”کیاتیرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کرتا کہ تُواس قوم کابہترین شخص ہے؟”اس نے جواب دیا: ”اللہ عزوجل کی قسم! ہاں،سچ تو یہ ہے کہ مجھے یہ خیال آتارہتاہے ۔”پھر وہ چلا گیا او رمسجد میں داخل ہوگیا۔
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کون اس شخص کو قتل کریگا؟”
 حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”میں اسے قتل کروں گا ۔”چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے مگر وہ نمازمیں کھڑا تھا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوچا کہ کیا میں ایسے شخص کو قتل کرد وں جو نماز ادا کر رہا ہے حالانکہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ ِقلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازیوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے؟
    سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِشمار،ہم بے کسوں کے مددگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ ارشادفرمایا:”کون ہے جو اسے قتل کرے؟”حضرت سیدنا عمرِفارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!مَیں ۔” پس جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تووہ سجدے میں تھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی (اپنے دل میں)وہی بات کہی جوحضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہی تھی۔ مزید یہ بھی کہاکہ” مَیں ضرور واپس لوٹوں گا کیونکہ وہ(يعنی سيدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بھی واپس چلے گئے تھے جو مجھ سے بہترہیں۔نبئ پاک، صاحب ِ لولاک،سیاحِ اَفلاک صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!ٹھہرو(اوربتاؤکيا ہوا) تو حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سارامعاملہ عرض کرديا۔
    تاجدارِ مدینہ،فیض گنجینہ،باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا:”کون ہے جو اِس کو قتل کرے ؟”حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے عرض کی:”یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !مَیں اسے قتل کرو ں گا۔” تونبئ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اگر تم نے اسے پالیا تو ضرور قتل کردوگے ۔”چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے لیکن وہ جا چکا تھا ۔
(مسندابی یعلٰی،مسندابی بکرالصدیق،الحدیث:۸۵،ج۱،ص۵۹،بتغیر)
 حضورنبئ پاک،صاحبِ لولاک صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کی قسم! اگرتم اسے قتل کردیتے تو وہ پہلا اور آخری شخص ہوتااس کے بعد میری اُمت میں کبھی دوآدمی بھی آپس میں اختلاف نہ کرتے۔”
    علامہ ابن المدینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۱ ؎ (234-161ھ)نے اسے اپنی مُسند ”اَلصِّدِّيْق”میں حضرت زید بن حباب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا،حضرت ہُودبن عطاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ”ان سے اس حدیثِ پاک کے علاوہ اور کوئی حدیث محفوظ نہ کی جاسکی۔”
    امام ابویعلٰی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(307-210ھ) نے اسے اپنی مُسند میں موسیٰ کی ایک سندسے روایت کیا۔موسیٰ اور ان کے شیخ دونوں حدیث میں نرم تھے لیکن حدیث کی متعدد اسنادہیں جو اس کے ثبوت کا تقاضا کرتی ہیں۔
۱ ؎ حافظ الحدیث ،المحدث ، المفسر، الفقیہہ ابو بکر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم بن عثمان الکوفی ، العبسی المعروف بابن ابی شیبہ آپ کا وصال ماہ محرم الحرام میں ہوا آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: المسند فی الحدیث ، السنن فی الفقہ ، کتاب التفسیر ، التا ریخ ، الایمان ،کتاب الزکاۃ ، المصنف فی الاحادیث والآثار وغیرہ۔(الاعلام للزرکلی،ج۴،ص۱۱۷)
۲؎ مسند ابن ابی شیبہ للامام ابو بکر عبداللہ بن محمدابن القاضی ابی شیبہ الحافظ۔ (کشف الظنون،ج۲،ص۱۶۷۸)
۱؎ الحافظ المحدث ابو الحسن علی بن عبداللہ بن جعفر بن نجیح السعدی البصری المدینی آپ بصرہ میں پیدا ہوئے اور رأی کے علاقے بسر میں ذی القعدہ کے آخر میں انتقال فرمایا اور مقام عسکر میں دفن کیا گیا آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں ،الطبقات ، الاسامی والکنی ، المسند فی الحدیث ، تفسیر غریب الحدیث وغیرہ۔
(معجم المؤلفین،ج۲،ص۴۶۵،الاعلام للزرکلی،ج۴،ص۳۰۳)
error: Content is protected !!