Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نماز میں رکوع و سجود کامل طور پر ادانہ کرنے پر وعیدیں:

(6)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو عبد اللہ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايک شخص کودیکھا کہ رکوع پورا ادانہیں کرتا اور سجدوں ميں ٹھونگيں ماررہا ہے تو ارشاد فرمايا :”اگر اس شخص کا اسی حالت ميں انتقال ہو جائے تو يہ حضرت سیدنامحمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ملت کے علاوہ پر مرے گا۔”پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”نماز ميں رکوع پورا نہ کرنے اور سجدوں ميں ٹھونگے مارنے والے کی مثال اس بھوکے شخص کی سی ہے جو ايک يا دو کھجوريں کھانے پر اکتفا کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے کسی کام نہيں آتيں۔”
   ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۳۸۴۰ ، ج۴ ، ص ۱۱۵)
 (7)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آد می ساٹھ 60سال تک نماز پڑھتا رہتا ہے مگر اس کی کوئی نماز قبول نہيں ہوتی، شايد وہ رکوع تو پورے کرتا ہو مگر سجدے پورے نہ کرتا ہو یاپھر سجدے پورے کرتا ہو مگر رکوع پورے نہ کرتا ہو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( الترغیب والترھیب ،کتاب الصلوۃ ، باب الترھیب من عدم اتمام ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۷۵۷، ج۱ ، ص ۲۴۰)
 (8)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے (ایک ستون کی طرف اشارہ کرکے)ارشادفرمایا :”اگر تم ميں سے کسی کے پاس يہ ستون ہوتا تو وہ اسے توڑناہرگزپسند نہ کرتا پھر وہ جان بوجھ کراپنی نماز کيسے توڑ ديتا ہے؟ حالانکہ وہ تو اللہ عزوجل کے لئے ہوتی ہے، نماز پوری کيا کرو کيونکہ اللہ عزوجل کامل نماز ہی قبول فرماتا ہے۔”
 (المعجم الاوسط، الحدیث:۶۲۹۶،ج۴ ، ص۳۷۶،’یعمد”بدلہ”یعہد”)
 (9)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ايک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع و سجود پورے ادانہیں کررہا تو ارشاد فرمايا :”اگر يہ مر گيا تو حضرت سیدنامحمد مصطفٰے ا حمد مجتبٰی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ملت کے علاوہ مرے گا۔”
 (مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ، باب فیمن لایتم صلاتہ ۔۔۔۔۔۔الخ ،، الحدیث ۲۷۲۹ ، ج ۲ ، ص ۳۰۳)
 (10)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ايک شخص کو دیکھاکہ رکوع و سجود پورے نہیں کررہاتو ارشاد فرمايا :”تم نے نماز نہيں پڑھی اور اگر تم یہ نمازاسی طرح پڑھتے ہوئے مر گئے تو حضرت سیدنا محمدمصطفٰی احمد مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ملت کے علاوہ مرو گے۔”
    ( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب اذا لم یتم الرکوع ، الحدیث ۷۹۱، ص۶۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (11)۔۔۔۔۔۔ابو داؤد شريف کی روايت ميں اتنا اضافہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :”تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟” اس نے کہا :”چالیس سال سے۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے ارشاد فرمايا :”تم نے چالیس سال سے کوئی نماز نہيں پڑھی اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر گئے توملتِ محمدی علیٰ صاحبھاالصلوٰۃ والسلام کے خلاف مرو گے۔”
(12)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل اس بندے کی طرف نظرِ رحمت نہيں فرماتاجو رکوع اور سجود کے درميان اپنی کمر کو سيدھا نہيں کرتا (پھر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے استفسارفرمایا)اور شرابی، زانی اورچور کے بارے ميں تمہاری کیارائے ہے؟”(یہ اس وقت تھاکہ ابھی حدود کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے ) تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”يہ بدکارياں ہيں اور ان پر سزا ہے اور سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز ميں چوری کرتا ہے۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”آدمی نماز ميں چوری کيسے کرتا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”وہ اس کے رکوع اور سجود پورے نہيں کرتا۔”
   (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث طلق بن علی،الحدیث:۱۶۲۸۳،ج۵،ص۴۹۲)
(مؤطاامام مالک،کتاب قصرالصلاۃ فی السفر،باب العمل فی جامع الصلاۃ،الحدیث:۴۱۰،ج۱،ص۱۶۴)
 (13)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو کامل طريقے سے وضو کرتا ہے پھر نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے رکوع و سجود اور قراء ت اچھی طرح اداکرتا ہے تو نماز کہتی ہے :”اللہ عزوجل تيری حفاظت فرمائے جيسا کہ تو نے ميری حفاظت کی۔” پھر وہ نماز آسمان کی طرف اٹھا دی جاتی ہے اور وہ روشن اور منور ہوتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دئيے جاتے ہيں تا کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر اس بندے کے لئے سفارش کرے اور جب بندہ نماز کے رکوع و سجوداور قراء ت پوری نہيں کرتا تو نماز کہتی ہے :”اللہ عزوجل تجھے برباد کرے جس طرح تو نے مجھے ضائع کيا۔” پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے اور اس پر تاريکی چھائی ہوتی ہے، اس پر آسمانوں کے دروازے بند کر دئيے جاتے ہيں پھر اسے بوسيدہ کپڑے کی طرح لپيٹ کر نمازی کے منہ پر مار ديا جاتا ہے۔”
 ( شعب الایمان ،باب فی الطہارت، باب فضل الوضو،الحدیث:۲۷۲۹،ج۳،ص۱۰،مختصر)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (14)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے وقت کے علاوہ نماز پڑھی اور اس کے لئے کامل وضو نہ کيا اور اس کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادانہ کيا اوراس کے رکوع و سجود پورے نہ کئے تو وہ کالی سياہ ہو کر نکلتی ہے اور کہتی ہے :” اللہ عزوجل تجھے ضائع کرے جس طرح تُو نے مجھے ضائع کيا۔” يہاں تک کہ اللہ عزوجل جہاں چاہتا ہے وہ اس جگہ پہنچ جاتی ہے پھر اسے بوسيدہ کپڑے کی طرح لپيٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار ديا جاتا ہے۔”  ( المعجم الاوسط،الحدیث:۳۰۹۵،ج۲،ص۲۲۷)
error: Content is protected !!