Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ناقص وُضو، نماز میں شُبہ پیداکرتاہے :

 (9)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نماز ميں سورۂ روم کی تلاوت فرمائی اور اس ميں شبہ پيدا ہو گيا تو (نماز مکمل ہونے کے بعد)آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”شيطان نے ان لوگوں کی وجہ سے ہم پر قرأ ت مشتبہ کر دی جو بغير وضو نماز کے لئے آجاتے ہيں، لہٰذا جب تم نماز کے لئے آيا کرو تو اچھی طرح وضو کر ليا کرو۔”
 (المسندللامام احمدبن حنبل ،الحدیث:۱۵۸۷۲،ج۵،ص۳۸۰)
 (10)۔۔۔۔۔۔ايک اور روايت ميں ہے :”(آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو)ايک آيت ميں تردد ہوا توشفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نماز مکمل فرمانے کے بعد اِرشاد فرمايا :”ہم پر قراءَ ت اس لئے مشتبہ ہو گئی کہ تم ميں سے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے کچھ لوگ اچھی طرح وضو نہيں کرتے، لہٰذا جو ہمارے ساتھ نماز ميں حاضر ہو اسے چاہے کہ اچھی طرح وضو کر ليا کرے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

         (المسندللامام احمد بن حنبل ، الحدیث:۱۵۸۷۴،ج۵،ص۳۸۰)
 (11)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہيں ہوتی جب تک کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق اچھی طرح وضونہ کر لے يعنی  جب تک چہرہ، کہنيوں سميت دونوں ہاتھ، سر کا مسح اور دونوں پاؤں ٹخنوں سميت نہ دھو لے۔”
 (سنن ابن ماجہ ،ابواب الطہارۃ سننھا،باب ماجاء فی الوضوء علی ماامر ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۴۶۰،ص۲۶۹)
 (12)۔۔۔۔۔۔راوی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہمارے پاس تشريف لائے تو ارشاد فرمايا :”ميری اُمت کے خلال کرنے والے لوگ کتنے اچھے ہيں۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :” يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! خلال کرنے والے لوگ کون ہيں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جو وضو کے دوران اور کھانے کے بعد خلال کرتے ہيں۔”    (المعجم الکبیر، الحدیث: ۴۰۶۱،ج۴،ص۱۷۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وضو کے خلال سے مراد کلی کرنا،ناک ميں پانی چڑھانا اور انگليوں کا خلال کرنا ہے جبکہ کھانے کا خلال کھانے کے بعد ہوتا ہے کيونکہ کراماً کاتبين پر اس سے زيادہ گراں کوئی بات نہيں گزرتی کہ ان کا رفیق نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے دانتوں کے درميان کھانے کے ذرات پھنسے ہوئے ہوں۔
تنبیہ:
    ان احاديثِ مبارکہ سے ہاتھ اور پاؤں دھونے کے فرائض ميں سے کسی چیز کو ترک کرنے پر سخت وعيد ظاہر ہوئی، وضو کے بقيہ فرائض کو بھی اسی پر قياس کيا جائے تو وہ بھی اس وعيد کی بناء پران کی طرح کبيرہ گناہوں ميں داخل ہو جائيں گے اور يہ نماز کے ترک کولازم ہے لہٰذا يہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس قول کے تحت داخل ہو گا کہ نماز ترک کرنا کبيرہ گناہ ہے۔
error: Content is protected !!