Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

فرقۂ قدریہ کی پہچان اور ان کی مذمت

    بعض مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جَبرِیہ فرقے کا کہنا ہے :”جو یہ کہے کہ نیکی اور گناہ میرے اپنے فعل سے ہے وہ قدری ہے کیونکہ وہ تقدیرکامنکرہے۔” جبکہ معتزلہ کا کہناہے :”جَبرِیہ فرقہ ہی قدری ہے کیونکہ اس فرقے کا کہنا ہے کہ اللہ عزوجل نے مجھ پر خیر وشر مقدر فرمایا ہے، تو چونکہ یہ تقدیر کو ثابت کرتا ہے لہٰذا یہ قدری ہے۔” جبکہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں :”جوسُنِّی اس بات کا قائل ہو کہ افعال اللہ عزوجل کی مخلوق ہیں جبکہ کسب بندے کی جانب سے ہوتاہے وہ قدری نہیں۔”
        (سنن ابن ماجۃ،کتاب السنۃ،باب من کان مفتاحاللخیر،الحدیث: ۲۳۸، ص ۲۴۹۲)
    اگر یہ بات درست ہو تو اس میں جہنم کی طرف جاتے ہوئے معتزلہ کے عَلمبردار علامہ زمخشری کا بھی رد ہے کہ جس نے اپنے گمان میں بہت سے مقامات پر کہا ہے :”قَد ْرِیَہ ہی اہلسنت ہیں۔” حالانکہ یہ اس کی کذب بیانی اور اللہ عزوجل وسیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اور ان کے صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر بہتان ہے، اور اسے اس بہتان پر اس کے خبیث عقیدے اور عقل کی خرابی نے ہی ابھارا ہے، لہٰذا یہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر یہ آیاتِ مبارکہ پڑھی جائیں:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(1) وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً
ترجمۂ کنز الایمان:وہ تویہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافرہو جاؤ جیسے وہ کافرہوئے توتم سب ایک سے ہوجاؤ۔(پ5،النسآء:89)
(2) وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ اِیۡمَانِکُمْ کُفَّارًا ۚۖ حَسَدًا مِّنْ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ
ترجمۂ کنز الایمان:بہت کتابیوں نے چاہا کا ش تمہیں ایمان کے بعد کفرکی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے۔(پ1، البقرۃ:109)
(3) اَمْ یَحْسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ فَقَدْ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبْرٰہِیۡمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلْکًا عَظِیۡمًا ﴿54﴾فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنْہُ ؕ وَکَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿55﴾
ترجمۂ کنز الایمان:یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتا ب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا اور کسی نے اس سے منہ پھیرا اور دوزخ کا فی ہے بھڑکتی آگ۔(پ5، النسآء:54۔55)
    سیدناامام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:”حق یہ ہے کہ قدری اس شخص کو کہتے ہیں جو تقدیر کا انکار کرتا ہو اور حوادث کو ستاروں کے اتصال کی طرف منسوب کرے، کیونکہ قریش کے بارے میں مروی ہے کہ وہ تقدیر میں جھگڑتے تھے اور ان کا مذہب یہ تھا کہ اللہ عزوجل نے بندے کوا طاعت اور معصیت پر قدرت دی ہے، لہٰذا وہ مخلوق میں یہ صلاحیتیں پیدا کرنے پر قادر ہے اور فقیر کو کھانا کھلانے پر بھی قادر ہے، اسی لئے انہوں نے محتاجوں کو کھانا کھلانے کے معاملہ میں اللہ عزوجل کی قدرت کاانکارکرتے ہوئے یہ کہاتھا :
 اَنُطْعِمُ مَنۡ لَّوْ یَشَآءُ اللہُ اَطْعَمَہٗۤ ٭
ترجمۂ کنز الایمان: کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلا دیتا۔(پ23،یٰسۤ:47)
(8)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قَدْرِیَہ اس اُمت کے مجوسی ہیں۔”
             (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ،باب فی القدر،الحدیث:۴۶۹۱،ص۱۵۶۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس حدیثِ پاک میں اگر اُمت سے مراد اُ مّتِ دعوت ہے تو اس سے مراد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی حیاتِ ظاہری کے مشرکین ہیں جو حوادث پر اللہ عزوجل کی قدرت کے منکر تھے۔ اس صورت میں معتزلہ اس میں داخل نہ ہوں گے، اور اگر اس سے اُمتِ اجابت مراد ہے تو اس صورت میں قَدْرِیَہ کی ا س اُمت کی طرف نسبت اسی طرح ہے جیسے پچھلی اُمتوں کی طرف مجوس کی نسبت ہے، کیونکہ شبہ کے اعتبار سے یہ تمام اُمتوں میں کمزور اور عقل کی مخالفت کے اعتبار سے سب سے سخت ہیں۔ اسی طرح اس اُمت میں قَدْرِیَہ اوران کا مجوسی ہونا ان کے کفر پر جزم کو ختم نہیں کرتا، لہٰذا حق یہ ہے :”قدری اسی کو کہتے ہیں جو اللہ عزوجل کی قدرت کا انکارکرتاہے۔”
    اللہ عزوجل کافرمان کلاشتغال کی بناء پر منصوب ہے اور قراء تِ شاذ میں اسے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے مگر چونکہ یہ ایسی چیز کا وہم پیدا کرتا ہے جو اہلِ سنت کے نزدیک جائز نہیں لہٰذا اسے مرفوع پڑھنا مردود ہے، کیونکہ (رفع دینے کی صورت میں) کل مبتدا ہے اور خلقنٰہ اس کی یاشیء کی صفت ہے، اور بقدراس کی خبر ہے یعنی کل شیء ،خلق کے ساتھ موصوف ہے اور خلق اپنی ماہیت اور زمانہ میں تقدیر سے متصف ہے۔ 
    اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ جو چیز اللہ عزوجل کی پیدا کردہ نہیں وہ تقدیر سے نہیں اور یہی معتزلہ کا مذہب ہے کہ جو چیز اللہ عزوجل کی مخلوق نہیں وہ اللہ عزوجل کے علا وہ دوسروں کی مخلوق ہے جیسے انسان اپنے افعال کا خالق ہے، جبکہ اسے منصوب پڑھنے کی صورت میں جو کہ مجمع علیہ ہے یہ اللہ عزوجل کے ہر شئے کو خلق فرمانے کے عموم کا افادہ کرتی ہے، کیونکہ تقدیر عبارت یہ ہے کہ” انا خلقنا کل شی خلقناہ” دوسرا” خلقناہ” پہلے خلقنا کی تفسیر اور تاکید ہے کسی شئے کی صفت نہیں، کیونکہ صفت موصوف سے ماقبل شے میں عمل نہیں کرتی، اس لئے یہ کلکے نصب کو ختم نہیں کر سکتی، لہٰذا یہ بات متعین ہو گئی کہ اس کا ناصب یعنی نصب دینے والا پوشیدہ ہے، اور یہ کہ دوسراخلقناہ پہلے کی تفسیر اور تاکید ہے، لہٰذا کل شیء اپنے تمام مخلوق کو شامل ہونے کے عموم پر باقی ہے اوربقدرحال ہے۔ یعنی ہم نے ہر چیز کواس حال میں پیداکیا ہے کہ وہ ہماری تقدیر سے ملی ہوئی ہے یا اپنی ذات وصفات کی مقدار میں ہماری تقدیر سے ملی ہوئی ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے۔لہٰذا یہ آیتِ مبارکہ اہلِ سنت کے مذہب کے حق ہونے اور معتزلہ کے مذہب کے بطلان پرصریح دلالت کرتی ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    یہاں پر حسبِ عادت رفع کی دلیل کے ضعیف ہونے کی وجہ سے علامہ زمخشری کے تعصب میں شدت پیدا نہیں ہوئی بخلاف اس قوم کے جس کا گمان ہے :”اختیار سے مراد صناعت ہے۔” بلکہ بعض کا گمان ہے :”عربی میں یہی طریقہ ہے۔” حالانکہ یہ درست نہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس سے فعل کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لہٰذا صناعت کے اعتبار سے بھی نصب ہی مختار ہے۔

    آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم یہاں مرفوع پڑھنا تسلیم کر بھی لیں تب بھی اس میں معتزلہ کے لئے کوئی دلیل نہیں کیونکہ خلقناہ جس طرح کل کا وصف ہونے کااحتمال رکھتاہے اسی طرح خبر ہونے کا احتمال بھی رکھتا ہے، اور یہ دونوں خبریں ہیں تویہ وہ افادات ہیں جو عموم کی صورت میں نصب کا فائدہ دیتے ہیں تو جب عموم اور غیرِ عموم کا احتمال پیدا ہو گیا تو اس بات پر دلالت نہ رہی اور عَلیٰ سَبِیْلِ التَّنَزُّل اگر اسے صفت تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی امر کی غایت یہی ہو گی کہ اس سے وہی مفہوم حاصل ہو گا جسے معتزلہ اور اہلسنّت دونوں کے مذہب پر محمول کرنا ممکن ہے کیونکہ ہمارے نزدیک جو مخلوق نہیں وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے، اور آیتِ مبارکہ کا یہی مفہوم ہے تو ایسی صورت میں اس بات پر کون سی دلیل ہے کہ اس آیت سے اس معنی کے علاوہ کوئی اور معنی مفہوم یعنی سمجھا جاتا ہو؟ حالانکہ مفہوم کی دلالت تو نہایت ہی ضعیف ہوتی ہے کیونکہ جب ظنیات میں مفہوم کے حجت ہونے میں اختلاف ہے تو آپ کا قطعیات کے بارے میں کیا خیال ہے؟
    علمِ عربی کے لطائف میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اس کی جلالت پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ اس آیت میں رفع اور نصب دونوں اعراب پڑھنے اوراگلی آیت یعنی کُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ میں صرف رفع پڑھنے کی صورت میں کچھ دقیق معانی بھی سمجھا دیتا ہے کیونکہ اگر یہاں کل پر نصب پڑھا جائے تو معنی فاسد ہو جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں معنی یہ ہو گا :”انہوں نے ہر وہ کام کیا جو صحیفوں میں ہے۔” جو کہ خلاف واقع ہے کیونکہ بہت سی ایسی چیزیں بھی صحیفوں میں ہیں جو انہوں نے نہیں کیں جبکہ رفع کی صورت میں معنی یہ ہو گا :”انہوں نے جوکام بھی کیا ہے وہ صحیفوں میں لکھ دیا گیا ہے۔” جو کہ واقع کے عین مطابق ہے۔
    اہلِ سنت کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اشیأ کو مقدّر فرما دیا یعنی ان کی تقدیریں، ان کے احوال، زمانوں اور ان کے وجود میں آنے سے پہلے ان پر آنے والے احوال کو جان لیا، پھر اپنے سابقہ علم کی بناء پرانہیں وجود بخشا لہٰذا عالم علوی اورسفلی میں جو چیز بھی پیدا ہوگی فقط اس کے علم، قدرت اورارادے ہی سے وجود میں آئے گی۔اوران انواع میں بندوں کے لئے کوئی کسب، محاولہ، اورنسبت واضافت نہیں اوریہ تمام چیزیں تو مخلوق کو اللہ عزوجل کی طرف سے آسانی میسر کرنے، اس کی قدرت اور الہام سے حاصل ہوئی ہیں جیسا کہ کتاب وسنت اس پر دلالت کرتے ہیں، ایسا نہیں جیسا قدریہ وغیرہ افترأ کرتے ہیں کہ اعمال تو ہمارے ہاتھ میں ہیں جبکہ ان کا انجام غیر کے ہاتھ میں ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(9)۔۔۔۔۔۔جب سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ہم پر گناہ لکھ دیئے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی وجہ سے عذاب بھی ہو گا؟” توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن تم اللہ عزوجل کے مخالف ہو گے۔”

(تفسیر قرطبی، سورۃ القمر،تحت الآ یت ۴۸،ج۹،الجز۱۷، ص۱۰۹)
(10)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل کی تقدیر کے منکر اس اُمت کے مجوسی ہیں، جب وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو، مر جائیں تو ان کے جنازے میں نہ جاؤ اور جب ان سے ملو تو انہیں ہر گز سلام نہ کرو۔”
        (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۹۲،ص۲۴۸۳)
(11)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس اور حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میری اُمت میں دوگروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں، وہ مُرْجِئَہ اور قَدْرِیَہ ہیں۔”
             (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی الایمان، الحدیث:۷۳،ص۲۴۸۱)
    مُرْجِئَہ وہ لوگ ہیں جوکہتے ہیں :”ایمان کی موجودگی میں کوئی گناہ نقصان نہیں دیتاجیسے کفر کی صورت میں کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔” اور قَدْرِیَہ کو اللہ عزوجل کا مخالف اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ اس بات میں جھگڑ تے ہیں کہ بندوں پر گناہ مقدّر کر دینے کے بعد اس گناہ کے سبب انہیں عذاب دینا جائز نہیں۔
(12)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” جب اللہ عزوجل قیامت کے دن مخلوق کو جمع (کرنے کا ارادہ) فرمائے گا تو ایک منادی کو اعلان کرنے کا حکم دے گا، وہ ایسی آواز سے اعلان کریگا کہ جسے اگلے پچھلے سب سن لیں گے، وہ کہے گا :”اللہ عزوجل کے مخالفین کہا ں ہیں؟” تو قَد ْرِیَہ کھڑے ہوں گے، پھر انہیں جہنم میں لے جانے کا حکم ہو گا اوراللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ﴿۴۸﴾اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿۴۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بے شک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔(پ۲۷، القمر:۴۸۔۴۹)
(تفسیر الخازن ، سورۃ القمر،فصل فی سبب النزول ، آیت،۴۹،۵۰،۵۱،ج۴،ص۲۰۶)
(13)۔۔۔۔۔۔سیدناامام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے معجم الاوسط میں یہ روایت ان الفاظ سے نقل کی ہے :”قیامت کے دن ایک منادی ندا دے گا :”اللہ عزوجل کے مخالفین کھڑے ہو جائیں اور وہ قَد ْرِیَہ ہوں گے۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۵۱۰ ، ج ۵ ، ص ۹ ۳ )
 (14)۔۔۔۔۔۔اسی لئے حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا :” اگر کوئی قدری اتنے روزے رکھے کہ سوکھ کر رسی کی طرح ہو جائے اور پھر اتنی نمازیں پڑھے کہ کمان کی طرح ٹیڑھا ہو جائے تب بھی اللہ عزوجل اسے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا اور اس سے کہا جائے گا:
(1) ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ﴿48﴾اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بے شک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔(پ27،القمر:48۔49)
(2)وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿96﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اوراللہ نے تمہیں پیدا کیا اورتمہارے اعمال کو۔(پ23، الصفّٰت:96)
    یعنی تمہیں اورتمہارے اعمال کو پیدا کیا یا مراد یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے جو عمل کرتے ہوانہیں اللہ عزوجل ہی نے پیدا فرمایا ہے، اس میں اس بات پر دلیل ہے :”بندوں کے تمام افعال اللہ عزوجل ہی کے پیدا کردہ ہیں چنانچہ، اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :
فَاَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقْوٰىہَا ﴿8﴾
ترجمۂ کنز الایمان:پھراس کی بد کاری اوراس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی۔(پ30، الشمس:8)
    الہام کہتے ہیں دل میں کوئی بات ڈالنے کواور چونکہ اللہ عزوجل ہی دل میں فجور اور تقویٰ الہام فرماتا ہے لہٰذا اللہ عزوجل ان دونوں کا خالق ہوا۔ اسی لئے حضرت سیدناسعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس پر نافرمانی اور پرہیزگاری کو لازم کیا۔” حضرت سیدنا ابن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیرمیں ارشاد فرمایا: ”اسے اپنی توفیق سے تقویٰ کا اہل بنایا یا اسے اپنی جانب سے رسوا کرتے ہوئے فجور کا اہل بنایا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(15)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے ایک قوم پر احسان فرمایا تو انہیں خیر کا الہام فرمایا اور انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمایا، جبکہ ایک قوم کو آزمائش میں مبتلا فرمایا تو انہیں رسوا کر دیا اور ان کے افعال پر ان کی مذمت فرمائی، جب ان لوگوں نے آزمائش سے نکلنے کی استطاعت نہ پائی تو اللہ عزوجل نے انہیں عذاب میں مبتلا فرما دیا اور وہ پھر بھی عادل ہی ہے کیونکہ،
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿23﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہو گا۔(پ17، الانبیاء:23)
(جامع الاحادیث، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۴۷۵،ج۲،ص۲۹۱،بتغیر قلیل)
    عنقریب اس جیسی اوربہت سی احادیث بیان ہوں گی۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ وَمَنۡ یُّرِدْ اَنۡ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا
ترجمۂ کنز الایمان:اورجسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتاہے اورجسے گمرا ہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہواکردیتا ہے ۔(پ8، الانعام:125)
    یہ آیت مبارکہ، پچھلی آیتوں کی طرح قَد ْرِیَہ کی گمراہی اور ان کے راہ ِاستقامت سے روگردانی کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
error: Content is protected !!