Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جا تا :

 (12)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو لوگوں پر رحم نہيں کرتا اللہ عزوجل بھی اس پر رحم نہيں فرماتا۔”
 ( صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ، باب رحمتہ الصبیان والعیال، الحدیث: ۶۰۳۰ ، ص ۱۰۸۷ )
 (13)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم اس وقت تک ہر گز مؤمن نہيں ہو سکتے جب تک آپس ميں رحم نہ کرنے لگو۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہم ميں سے ہر ايک رحم دل ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنے دوست پر رحم کرنا مراد نہيں بلکہ عام رحمدلی مراد ہے۔”
(مجمع الزوائد،کتاب البر والصلۃ ، باب رحمۃ الناس ، الحدیث: ۱۳۶۷۱ ،ج۸،ص ۳۴۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (14)۔۔۔۔۔۔سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:”رحم کيا کرو تم پر بھی رحم کيا جائے گا اور معاف کر ديا کرو تمہيں بھی معاف کر ديا جائے گا۔”آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مزیدارشاد فرمایا:”بات کو بے توجہی سے سننے والے کے لئے ہلاکت ہے اورجان بوجھ کراپنے (برے اعمال) پراصرارکرنے (یعنی ڈٹ جانے) والوں کے لئے ہلاکت ہے ۔”
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص،الحدیث:۶۵۵۲،ج۲ص۵۶۵)
    اورحدیث پاک میں وارد لفظ”اَقْمَاعُ الْقَوْل”سے مراد وہ شخص ہے:”جو سنتا تو ہے لیکن نہ ياد رکھتا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرتا ہے۔” اوراس کو ”قمع”اور”جامع” سے تشبيہ دی گئی۔قمع سے مراد وہ چيز(یعنی قیف یاکُپّی) ہے جو تنگ برتن کے سر پر رکھی جاتی ہے يہاں تک کہ برتن بھر جائے۔اور جامع سے مراد يہ کہ پانی اس کے پاس سے گزر جاتا ہے ليکن اس ميں نہيں ٹھہرتا، اسی طرح نصيحت ان کے کانوں پر سے گزر جاتی ہے ليکن وہ اس پر عمل نہيں کرتے۔

تنبیہ:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ميں نے ان پانچ  گناہوں کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا اگرچہ ميں نے کسی کو انہيں کبيرہ گناہوں ميں شمار کرتے نہيں ديکھا اس کی وجہ يہ ہے کہ پہلے پانچ  گناہوں کے کبيرہ گناہ ہونے پر پہلی حدیثِ پاک ميں وارد شديد وعيد صراحت کرتی ہے، جبکہ دوسری حدیثِ پاک مثلہ کے کبيرہ ہونے پر دليل ہے، تيسری اور چوتھی حدیثِ پاک داغنے پر جبکہ پانچويں حدیثِ پاک نشانہ بازی کے لئے حیوان کوباندھ کر نشانہ بنانے پراور چھٹی حدیثِ پاک کھانے کی ضرورت کے بغير شکار کرنے کے کبيرہ گناہ ہونے پر دليل ہے ۱؎، جبکہ چھٹے گناہ پر چھٹی حدیثِ پاک بھی دلالت کر رہی ہے اور اسے مثلہ اور دا غنے پر بھی قياس کيا جاسکتاہے، کيونکہ يہ 
حيوان کو ايذاء پہنچانے يا مردار ہو جانے کے بعد اسے کھانے کا سبب ہے اور سخت ايذاء کے کبيرہ ہونے ميں کوئی شک نہيں، جيسے آئندہ آنے والے مردار کھانے کے بيان سے ظاہر ہے۔
     پھر ميں نے ايک جماعت کو مطلقاًيہ بيان کرتے ديکھا کہ”حيوان کو عذاب دينا کبيرہ گناہ ہے۔” بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے حيوان کو بھوکا پياسا قيد رکھنے يہاں تک کہ وہ مر جائے اور اس کے چہرے کو آگ سے داغنے يا چہرے پر مارنے کو کبيرہ گناہ شمار کيا ہے اور بخاری و مسلم شریف


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

کی اُس روايت سے استدلال کيا ہے جس ميں ايک عورت کے بلی کو قيد کرنے کا تذکرہ ہے کہ بلی نے اسے جہنم ميں داخل کر ديا، نيز انہوں نے شرح مسلم کے يہ الفاظ بھی دليل کے طور پر پيش کئے ہيں کہ” وہ عورت مسلمان تھی اور اس کی نافرمانی کبيرہ گناہ تھی۔”
سوال:ہمارے شافعی ائمہ علیہم الرحمہ نے کُند چھری سے جانور ذبح کرنے کو مکروہ قرار ديا، اس صورت ميں بیان کردہ بُرا سلوک کبيرہ گناہ کيسے ہوسکتا ہے؟
جواب:ان کے کلام کو اس صورت پر محمول کرنا متعين ہے جب کہ چھری کُند ہو لیکن وہ ذبيحہ کی حرکت سے قبل ہی کھانے اور سانس والی رگ کو کاٹ دے تواس صورت میں تھوڑی سی تکليف کے باوجودیہ جائز ہے،شافعی ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی بھی یہی مراد ہے کہ یہ اس دليل کی وجہ سے مکروہ ہے کہ اگر کُند چھری کے ساتھ ذبح کرنے سے صرف ذبح کرنے والے کی طاقت سے ذبح ہو تو جائز نہيں، اوراگر وہ کھانے او رسانس والی بعض رگ کٹنے سے پہلے ہی مر جائے تو يہ اسے حرام اور مردار کر دے گا، جيسا کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے تصريح کی ہے لہذا اس گناہ کے کبيرہ ہونے کے قول کو اس صورت پر محمول کرنا متعين ہو جاتاہے کيونکہ حيوان کو مردار کر دينا بلاشبہ کبيرہ گناہ ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎:صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارِشریعت میں فرماتے ہیں:”شکارکرناایک مباح فعل ہے مگرحرم یااحرام میں خشکی کا جانور شکار کرنا حرام ہے اسی طرح اگرشکارمحض لہو کے طورپرہوتووہ مباح نہیں۔اکثراس فعل سے مقصودہی کھیل اورتفریح ہوتی ہے اسی لئے عرفِ عام میں شکار کھیلنا بولا جاتا ہے۔ جتنا وقت اورپیسہ شکارمیں خرچ کیاجاتاہے۔اگراس سے بہت کم داموں میں گھربیٹھے ان لوگوں کووہ جانورمل جایاکرے توہرگزراضی نہ ہوں گے یہی وہ چاہیں گے جوکچھ ہوہم توخوداپنے ہاتھ سے شکارکریں گے اس سے معلوم ہواکہ ان کامقصدکھیل اورلہوہی ہے۔ شکار کرنا جائزومباح اس وقت ہے کہ اس کاصحیح مقصد ہو مثلاً کھانایابیچنایادوست واحباب کوہدیہ کرنااس کے چمڑے کوکام میں لانایااس جانورسے اذیت کااندیشہ ہے اس لئے قتل کرنا وغیر ذالک۔”(بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۷،ص۱۱)

error: Content is protected !!