Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

زکوٰۃ کی ادا ئیگی کی شرائط

    زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہونے کی 2 شرائط ہیں (۱)نیت اور(۲) مستحق زکوٰۃ کو اس کا مالک بنادینا ۔الاشباہ والنظائر میں ہے:” زکوٰۃ کی ادائیگی نیت کے بغیر درست نہیں ہے ۔”
 (الاشباہ والنظائر ، القاعدۃ الاولٰی،ما تکون النیۃ الیٰ آخرہ،ص۱۹ )
نیّت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامُّل بتا سکے کہ زکوٰۃ ہے۔
زکوٰۃ دیتے وقت نیت کرنا بھول گیا تو؟
    اگر زکوٰۃ میں وہ مال دیا جو پہلے ہی سے زکوٰۃ کی نیت سے الگ کر رکھا تھا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی اگرچہ دیتے وقت زکوٰۃ کا خیال نہ آیا ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو جب تک محتاج کے پاس موجود ہے دینے والا نیتِ زکوٰۃ کر سکتا ہے ،اور اگر اس کے پاس بھی نہیں ہے تو اب نیت نہیں کرسکتا ،دیا گیا مال صدقہ نفل ہوگا ۔ درمختار میں ہے :”ادائیگیئ زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لئے وقتِ ادا نیت کا مُتَّصِل (یعنی ملا ہوا )ہونا ضروری ہے ،خواہ یہ اِتِّصال(یعنی متصل ہونا) حکمی ہو مثلاً کسی نے بلانیت زکوٰۃ ادا کر دی اور ابھی مال فقیر کے قبضہ میں ہو تو نیت کرلی یا کل یا بعض مال برائے زکوٰۃ جدا کرتے وقت نیت کر لی ، ”
(الدرالمختار ، کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۲۲،۲۲۴)
زکوٰۃ کے الفاظ
    زکوٰۃادا کرتے وقت زکوٰۃ کے الفاظ بولنا ضروری نہیں فقط دل میں نیت
ہونا کافی ہے چاہے زبان سے کچھ اور کہے ۔ فتاویٰ شامی میں ہے :”نام لینے کا کوئی اعتبار نہیں ، اگر کسی نے زکوٰۃ کو ہبہ، تحفہ یا قرض کہہ دیا تب بھی صحیح ترین قول کے مطابق اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ۔”
(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،مطلب فی ثمن المبیع ،ج۳،ص۲۲۲)
زکوٰۃکی ادائیگی میں تاخیرکرنا
    زکوٰۃ فرض ہوجانے کے بعد فوراً اداکرنا واجب ہے اور اس کی ادائیگی میں بلا عذر شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ ، فصل فی مال التجارۃ،الباب الاول ،ص۱۷۰)
زکوٰۃ یک مشت دیں یاتھوڑی تھوڑی؟
    اگر زکوٰۃسال مکمل ہونے سے قبل پیشگی ادا کرنی ہو تو چاہے تھوڑی تھوڑی کر کے ديں یا ایک ساتھ دونوں طرح سے دُرُست ہے ۔اور اگر سال گزرنے پر زکوٰۃ فرض ہوچکی ہو تو فوراً ادا کرنا واجب ہے تاخیر پر گنہگار ہوگا ،لہٰذا اب یک مشت دینا ضروری ہے ۔(ماخوذفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۷۵)
زکوٰۃ یک مشت دیجئے
    سال مکمل ہوجانے کے بعد ایک ساتھ زکوٰۃ دے دیجئے کیونکہ بتدریج یعنی تھوڑی تھوڑی کر کے دینے میں گناہ لازم آنے کے علاوہ دیگر آفتیں بھی ممکن ہیں ۔ مثلاً ہوسکتا ہے کہ ایسا شخص زکوٰۃ نہ دینے کا وبال اپنی گردن پر لئے دنیا سے رُخصت ہوجائے یا پھر اس کے پاس زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے مال ہی نہ رہے اور یہ بھی ممکن
error: Content is protected !!