Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۲۱) جہاد

  عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللہِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَوْجَلَسَ فِیْ اَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ اَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ اَعَدَّھَا اللہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ(2)  (بخاری،ج۱،ص۳۹۱)
    حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور رمضان کا روزہ رکھا تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ اس شخص کو جنت میں داخل کردے خواہ وہ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرے یا جس زمین میں وہ پیدا ہوا وہیں بیٹھا رہے۔ یہ سن کر صحابہ علیہم الرضوان نے کہا کہ یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ! کیا ہم یہ خوشخبری لوگوں کو نہ سنادیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں ایک سو درجات ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کے لیے تیار کررکھا ہے جو لوگ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور ان درجات کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنی کہ آسمان و زمین کے درمیان دوری ہے۔
حدیث:۲
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْتَدَبَ اللہُ لِمَنْ خَرَجَ فِیْ سَبِیْلِہٖ لَا یُخْرِجُہٗ اِلَّا اِیْمَانٌ بِیْ وَتَصْدِیْقٌ بِرُسُلِیْ اَنْ اُرْجِعَہٗ بِمَا نَالَ مِنْ اَجْرٍ وَّغَنِیْمَۃٍ اَوْاُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔متفق علیہ(1)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۲۹)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے ذمہ داری قبول کرلی ہے کہ جو مجھ پر ایمان لاتے ہوئے اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے جہاد میں نکلا اس کو میں یا تو ثواب اور مال غنیمت دے کر اس کے گھر لوٹاؤں گا یا اس کو جنت میں داخل کردوں گا۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔
حدیث:۳
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ مَرَّ رَجَلٌ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِیْہِ عُیَیْنَۃٌ مِّنْ مَّاءٍ عَذْبَۃٌ فَاَعْجَبَتْہٗ فَقَالَ لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَاَقَمْتُ فِیْ ھٰذَا الشِّعْبِ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَاِنَّ مَقَامَ اَحَدِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَفْضَلُ مِنْ صَلٰوتِہٖ فِیْ بَیْتِہٖ سَبْعِیْنَ عَامًا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ وَیُدْخِلَکُمُ الْجَنَّۃَ اُغْزُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ مَنْ قَاتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔رواہ الترمذی(1)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۳۲)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ علیہم الرضوان میں سے ایک مرد کا ایک ایسی گھاٹی میں گزر ہوا کہ اس میں میٹھے پانی کا ایک چشمہ تھا۔جس نے اس کو تعجب میں ڈال دیا تو وہ کہنے لگا کہ کاش! میں تمام لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں مقیم ہوجاتا جب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اُس شخص کا ذکرکیاگیاتو آپ نے اُس شخص سے فرمایاکہ تم ایسا مت کرو اس لیے کہ تم لوگوں میں سے کسی کا جہاد میں ایک پڑاؤ کرنا اپنے گھر میں رہ کر ستر برس نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔ کیا تم لوگ اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما کر تمہیں اپنی جنت میں داخل کر دے۔ تم لوگ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرتے رہو،جو شخص اونٹنی دوہنے کی مدت بھر بھی اللہ عزوجل کی راہ میں جنگ کریگا تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۴


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْلَا اَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَا تَطِیْبُ اَنْفُسُھُمْ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنِّیْ وَلَا اَجِدُ مَا اَحْمِلُھُمْ عَلَیْہِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُوْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُ اَنْ اُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ۔متفق علیہ(1)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۲۹)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ کچھ مومن مرد ایسے ہیں کہ مجھ سے بچھڑ جانا ان کے دلوں کو اچھا نہیں لگتا اور میں اِتنی سواریاں نہیں پاتاکہ ان کو سوار کرادوں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو میں کبھی کسی ایسے لشکرسے پیچھے نہ رہ جاتا جو اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے جارہاہو۔ اور مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یقیناً میری یہ تمناہے کہ میں اللہ عزوجل کی راہ میں قتل کیاجاؤں پھرزندہ کیاجاؤں، پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔ یہ بخاری ومسلم کی حدیث ہے۔
حدیث:۵
    عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِبَاطُ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَّقِیَامِہٖ وَاِنْ مَاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ وَاُجْرِیَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ وَاَمِنَ الفَتَّانَ۔رواہ مسلم(2)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۲۹)
    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک دن اور ایک رات جہاد میں گھوڑا باندھنا ایک مہینے کے روزوں اور رات میں نمازوں سے بہتر ہے اور اگر وہ جہاد میں مرگیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کرتا تھا جاری رکھاجائے گا اور اس کی روزی جاری رکھی جائے گی اوروہ تمام فتنوں میں ڈالنے والوں(شیطان و دجال وغیرہ)سے بے خوف کردیا جائے گا ۔اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

تشریحات و فوائد


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (۱) اس عنوان کی حدیث نمبر ۳ سے معلوم ہوا کہ مسلمان اپنے گھر میں بیٹھ کر چاہے جتنی عبادت زیادہ کرسکے کرے مگر وہ کبھی ہر گز ہرگز کسی مجاہد کے برابر ثواب حاصل نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ مجاہد جہاد کے سفر میں کہیں آتے جاتے کسی منزل پر صرف پڑاؤ کرلے اور کوئی عبادت نہ کرے پھر بھی اس کو ستر برس کے لگاتار دن کے روزوں اور رات بھرکی نمازوں سے بڑھ کرثواب ملے گااوراونٹنی دوہنے کی مدت بھریعنی دس یاپندرہ منٹ تک جو جہاد میں جنگ کریگا اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے سبحان اللہ ، سبحان اللہ بڑا رتبہ ہے مجاہد فی سبیل اللہ کا۔خداوندِ کریم ہر مسلمان کو اللہ کی راہ میں جہاد کی کرامت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۴سے ظاہرہوتاہے کہ خدا کے محبوب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کوجہادمیں شہیدہونے کی کس قدر زیادہ تمنا تھی کہ آپ علی الاعلان فرماتے ہیں کہ میری دلی تمنا یہی ہے کہ میں تین مرتبہ خدا عزوجل کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور تین مرتبہ زندہ کیاجاؤں اورپھرچوتھی مرتبہ قتل کیاجاؤں توزندہ نہ کیاجاؤں کیونکہ چوتھی مرتبہ
قتل ہونے کے بعدزندہ ہونے کی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمناظاہرنہیں فرمائی۔
(۳)حدیث نمبر۵ میں مجاہد کے عمل جاری رہنے کا یہ مطلب ہے کہ مجاہد اپنی زندگی میں نمازو روزہ اور دوسری قسم قسم کی عبادتیں جو کیا کرتا تھا اگر حالت جہاد میں وہ اگرچہ اپنے بستر پر مرگیا۔مگرچونکہ جہاد کے دوران اس کی موت ہوتی ہے اس لیے اس کو یہ کرامت نصیب ہوگی کہ وہ اپنی زندگی میں جتنی عبادتیں کیا کرتا تھا اب وہ مرگیا اور کوئی عبادت بھی نہیں کرتا مگر اس کے نامہ اعمال میں ان سب عبادتوں کا ثواب روزانہ لکھا جائے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور برابر جنت میں اس کی روزی اس کو ملتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ اس کو تمام فتنہ میں ڈالنے والوں یعنی شیطان،دجال، وغیرہ سے بے خوف کردے گا اور قبر میں منکر و نکیر کے سوال و جواب کی آزمائش اور قیامت کے زلزلہ کی ہولناکیوں وغیرہ کی تمام آزمائشوں اور امتحانوں سے وہ بے خوف ہوجائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

بہرحال ان سب حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ جہاد جنت میں لے جانے والا ایک بہت ہی اعلیٰ درجے کا عمل ہے اوردر حقیقت جہاد بہشت کی کنجیوں میں سے ایک بڑی کنجی اور جنت کی سڑکوں میں سے بہت بڑی سڑک بلکہ شاہراہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھادوالسیر،باب درجات…الخ،الحدیث:۲۷۹۰،ج۲، ص۲۵۰
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الاول،الحدیث:۳۷۸۹،ج۲،ص۲۳
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الثانی،الحدیث:۳۸۳۰،ج۲،ص۳۰
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الاول،الحدیث:۳۷۹۰،ج۲،ص۲۳
2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجہاد،الفصل الاول،الحدیث:۳۷۹۳،ج۲،ص۲۴
error: Content is protected !!