Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی بحیثیت فقیہ وصدر الصدور

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
بحیثیت فقیہ وصدر الصدور 

بقلم : مولاناقاضی محمد قادر علی ، صدر قاضی شریعت پناہ بلدہ، حیدرآباد

مملکت آصفیہ کے ساتویں تاجدار سلطان العلوم نواب  میر عثمان علی خاں نے ناظم امور مذہبی و صدر الصدور صوبہ جات دکن کے اہم ترین عہدوں کے لیے شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقیؒکا انتخاب کیا۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ بہ حکم کشن پرشاد صیغہ امور مذہبی کی جانب سے مولانا کے نام مورخہ ۲۳؍رجب ۱۳۳۰؁ھ جاری ہوا جس میں مولانا کو بحیثیت ناظم امور مذہبی اور خدمت صدارت کا جائزہ، مولوی لطیف احمد مینائی اور نواب نظامت جنگ بہادر سے لینے کے لیے عرض کیا گیا تھا۔ یہ مراسلہ والی دکن میر عثمان علی خاں کے فرمان مزینہ ۱۹؍جمادی الاول ۱۳۳۰؁ھ کے مطابق تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقی نے مہاراجہ سر کشن پرشاد کو امور مذہبی کے دفتر نظامت کے جائزہ اور معائنے کے بعد اس کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے مراسلے کا جواب ارسال کیا۔ مولانا کے اس جوابی مراسلے کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’دعاء گو نے اجمالی طور پر دفتر نظامت امور مذہبی دیکھا۔ معلوم ہو کہ نہایت ابتر اور ناقابل اعتماد ہے نہ امثلہ باضابطہ ہیں نہ عملہ قابل اطمینان۔ صدہا مثلیں ایسی ہیں کہ جن کی فہرست ہی نہیں جس سے معلوم ہوسکے کہ کل کواغذ مثل محفوظ ہیں۔ امیدوار جن کی کچھ ماہوار نہیں وہ صیغہ دار بنائے گئے ہیں۔ سالہا سال کے مقدمات ملتوی اور کس مپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔ (۱)
دفتر کی ذمہ داریوں اور مطلوبہ کارگذار کے متعلق مولانا اس مراسلے میں یوں اظہار خیال کرتے ہیں:
’’پھر اس وقت کی ذمہ داریاں بھی بہ نسبت اور دفاتر کے بڑھی ہوئی ہیں، کیونکہ کل مذاہب کا تعلق بحیثیت امور مذہبی اسی دفتر سے ہے۔ کل اہل خدمات شرعیہ اور معاہد، اوقاف وغیرہ کا تعلق اسی دفتر سے ہے جن کے مصارف لاکھوں روپیوں کے ہیں، غرضکہ یہاں کے عہدیدار خصوصاً مددگار جب تک اعلیٰ درجے کے دیانت دار اور کارگذار نہ ہوں جس طرح چاہے کام نہیں چل سکتا چونکہ سب ذمہ داریاں دعا گو سے متعلق کی گئی ہیں اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ مولوی سید احمد صاحب سوم تعلقہ دار مددگار صوبہ گلبرگہ شریف کا تبادلہ میری مددگاری پر فرمایا جائے۔ کیونکہ زمانہ دراز سے میں ان کی دیانت داری اور کارگذاری سے واقف ہوں اور میرا پورا اعتماد ان پر ہے۔ اصولاً اور قانوناً مسلم ہے کہ مددگار ناظم کا معتمد علیہ ہونا چاہیے اس لیے مجھے امید قوی ہے کہ یہ میری درخواست قبول فرمائی جائے‘‘۔ (۲)
حضرت شیخ الاسلام کے اس مذکورہ جوابی مراسلے پر مہاراجہ سرکشن پرشاد نے ایک تجویز پیش کی جو معتمد صاحب عدالت کے نام ہے۔ تجویز کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’مولوی صاحب کی خواہش بالکل واجبی ہے۔ مددگار مولوی 
صاحب کے اطمینان کے قابل ہونا ہر حال میں مناسب ہے۔ باضابطہ اس بارے میں کارروائی کی جائے تاکہ اس تغیر و تبدل میں واجبی حقوق پر کسی کے اثر نہ پڑے۔‘‘ (۳)
ان عہدوں کی قبولیت کے لیے مولانا نے عذر خواہی بھی کی تھی لیکن شاہِ وقت کی نظر میں آپ سے زیادہ موزوں کوئی دوسری شخصیت ملک میں موجود نہ تھی اس لیے مولانا کی عذر خواہی کے باوجود ان ہی کو منتخب کیا گیا۔ مفتی رکن الدین صاحب کے مطابق مولانا نے اس طرح والی دکن سے کہا تھا کہ ’’جہاں پناہ، سرکاری ملازمت کے لیے انتہائی عمر پچپن سال مقرر ہے اور پچپن سال سے متجاوز ہوں‘‘ تو شاہِ وقت نے عرض کیا کہ مولانا ’’اس وقت ملک میں ان خدمات کے لیے آپ سے زیادہ کوئی موزوں نہیں‘‘۔ اس طرح حکم شاہی کی بنا پر مولانا نے ۱۲؍تیر ۱۳۲۱؁ف کو ان خدمات کا جائزہ حاصل کیا اور اس کام کو بہت خوبی سے انجام دیا اور انہوں نے نواب مظفر جنگ بہادر معین المہام امور مذہبی کے انتقال کے بعد وزارت امور مذہبی کا عہدہ بھی سنبھالا۔ (۴) 
اس طرح حضرت شیخ الاسلام، ناظم امور مذہبی کے عہدے پر ۹؍خوردار ۱۳۲۳؁ف سے دم آخر تک فائز رہے۔ اس عہدے کے ذریعے مولانا نے ملک و قوم کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دئے ہیں۔ نواب میر لائق علی خاں سالارجنگ دوم کو بھی مولانا پر بہت اعتماد تھا وزیراعظم کی حیثیت سے امور مذہبی کے علاوہ دوسرے امور سلطنت میںبھی وہ مولانا کی رائے پر عمل کرتے اور کونسل میں بھی ان کے مشورے بڑی وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔
مولانا کی ان خدمات کا اندازہ نظام ہفتم میر عثمان علی خاں کے اس اعتراف سے بھی ہوتا ہے جو انہوں نے اپنے فرمان مورخہ ۳۰؍رجب ۱۳۳۶؁ھ میں لکھا ہے کہ ’’مولوی صاحب (مولانا انوار اللہ فاروقی) نے سر رشتۂ مذہبی میں جو اصلاحات شروع کیں وہ قابل قدر ہیں۔(۵)
حضرت شیخ الاسلام کے وصال کے بعد والی دکن نے صدر الصدور کے عہدے پر مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کو منتخب کیا جنہوں نے شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ کی کارگزاری پر ان الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے:
’’محکمہ صدارت العالیہ نے ابتدائے زمانہ صدارت حضرت فضیلت جنگ مرحوم سے ۱۳۲۸؁ف تک کلی امور کے علاوہ جزئی امور پر بھی توجہ کی ہے۔ یہ امور ایسے ہیں کہ انتظامی نقطہ نظر سے شمار میں آنے کے قابل ہیں اور ان سے اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت فضیلت جنگ علیہ الرحمہ کی انتظامی نظر بھی بہت وسیع تھی۔ انہوں نے محکمہ صدارت العالیہ میں انتظام کی ایسی داغ بیل ڈالی ہے کہ اس کی وجہ سے صدارت العالیہ بھی نہ صرف شرعی بلکہ انتظامی حیثیت سے باضابطہ محکمہ سمجھا جاسکتا ہے۔ خداوند تعالیٰ مسلمانوں کی طرف سے جناب مغفور کو جزائے خیر بخشے‘‘۔ (۶)
حضرت شیخ الاسلام نے اپنے دور صدارت میں سینکڑوں احکام اور گشتیات جاری فرمائے جس کی دو جلدیں نواب صدر یار جنگ بہادر صدر الصدور ممالک محروسہ کے دور میں شائع کی گئیں جن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام نے احکامات کے صادر کرنے میں بھی اپنی فقہی بصیرت کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔ قارئین کے استفادہ کے لیے یہاں ان دو جلدوں میں صرف ایک فہرست پیش کی جارہی ہے جو دفتر شریعت پناہ بلدہ حیدرآباد کی وقیع لائبریری میں محفوظ ہے۔

فہرست ابواب مجموعۂ احکام محکمۂ صدارت العالیہ سرکار عالی (حصہ اول)

ابواب نوعیت تفصیل
۱ ۲ ۳
باب اول اختیارات (۱) اختیارات محکمہ صدارت العالیہ 
(۲) اختیارات عہدہ داران مقامی
(۳) اختیارات قضاۃ
باب دوم افعال ممنوعہ (۱) اہل خدمات شرعیہ کو چند افعال کی ممانعت
باب سوم طریقۂ کارروائی (۱)طریقہ کارروائی محکمۂ صدارت العالیہ
(۲) طریقۂ کارروائی دفاتر قضاۃ
(۳) تنقیح دفاتر قضاۃ وغیرہ
(۴)انتظام اجرائی کار اہل خدمات شرعیہ بذریعہ نائبین۔
(۵) قواعد رخصت اہل خدمات شرعیہ
(۶) انتظام تقسیم سرویس ٹکٹ دفاتر قضاۃ
باب چہارم انتظام عطائے اسناد (۱) انتظام عطائے اسناد اہل خدمات شرعیہ و مذہبیہ
(۲) اصلاح طریقۂ میلاد خوانی و انتظام عطائے اجازت نامجات
باب پنجم انتظام تربیت و تنظیم تحفظ و سیاہجات نکاح (۱) انتظام ترتیب و تنظیم تحفظ سیاہجات
باب ششم اصلاح حالات مسلمانان دیہات (۱) اصلاح حالات مسلمانان دیہات
(۲) دورہ اہل خدمات شرعیہ
باب ہفتم انتظام تعلیم فرزندان اہل خدمات شرعیہ (۱) انتظام تعلیم فرزندان اہل خدمات شرعیہ
باب ہشتم امتحان اہل خدمات شرعیہ (۱) امتحان اہل خدمات شرعیہ
(۲) امتحان ائمہ و موذنین بلدیہ
(۳) امتحان غسالان
باب نہم تحفظ آداب اسلام و پابندی احکام شرعیہ (۱) ارکان اسلام
(۲) انسداد نکاح ممارح
(۳) احترام اوراق متبرکہ
باب دہم انتظام تشہیر رویت ہلال (۱) انتظام تشہیر رویت ہلال
باب یازدہم متفرقات (۱) منظوری رقم برائے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
(۲) نکاحانہ عقود خرچ سواری
(۳) اصلاح طریقہ استعمال خلعت عیدین
(۴) انتظام مسالخ
(۵)ترتیب صدر فہرست اہل خدمات شرعیہ
(۶) نکاح خوانی بلا اجازت قضاۃ
(۷) متفرق احکام
تفصیلی فہرست ابواب مجموعہ احکام صدارت العالیہ سرکار عالی (حصہ اول)
نشان تاریخ مقدمہ صفحہ
۱ ۲ ۳ ۴ ۵
باب اول 
اختیارات فصل (۱)
اختیارات محکمۂ صدارت العالیہ
رزولیوشن ۳؍۱۱ متفرقات ۱۱۔فروری ۱۳۲۰؁ف صدر الصدور کو اختیار ہوگا کہ جو اہل خدمات شرعیہ اپنے فرائض منصبی کی ادائی میں قصور کریں اُن پر ماہانہ معاش کے ربع تک جرمانہ کریں۔
۳۰۶
اعلان ۔ ۶۔ بہمن ۱۳۲۹؁ف محکمۂ صدارت العالیہ کو راست بارگاہ خسروی جہاں پناہی میں معروضات پیش کرنے کا شرف حاصل ہے
۱۶۵
گشتی ۱۲ ۲۳۔خورداد ۱۳۳۱؁ف بلدہ میں بلا اجازت قاضی نکاح پڑھانے والوں کو جرمانہ کرنے کا اختیار ناظم امور مذہبی کو اور ان کی تجویز کے مرافعہ کی سماعت کا اقتدار صدر الصدور کو ہوگا
۲۰۳
گشتی ۹۹ ۶۔بہمن ۱۳۰۷؁ف اہل خدمات شرعیہ علاقہ دیوانی و صرف خاص و پائیگاہ و جاگیرات مستثنیٰ کو محکمہ صدارت العالیہ سے سند دینے کا اختیار ۷
فصل(۲)
اختیارات عہدہ داران مقامی
گشتی ۱۲ ۲۳۔خورواد ۱۳۳۱؁ف بلدہ حیدرآباد میں بلا اجازت قاضی نکاح پڑھانے والوں کو جرمانہ کرنے کا اختیار ناظم امور مذہبی سرکار عالی کو ہوگا
۲۰۳
؍؍ ۳ ۱۳۔اسفندار ۱۳۲۷؁ف نظمائے امور مذہبی اضلاع و تعلقات کو دفاتر قضاۃ کی تنقیح کرنے کا اختیار ۱۱۲
؍؍ ۳ ۳۔ اسفندار ۱۳۲۳؁ف عہدہ داران مقامی کو بحیثیت نظماء مذہبی اہل خدمات شرعیہ کے فرائض مفوضہ کی انجام دہی کی نگرانی رکھنے کا اختیار
۳۳
؍؍ ۱ ۲۷۔ بہمن ۱۳۳۳؁ف نظماء عدالت ہائے اضلاع کو دفاتر اہل خدمات شرعیہ کی تنقیح کا اختیار ۲۵۳
؍؍ ۱ ۳۔وی ۱۳۲۴؁ف مقدمات عقد خوانی بلا اجازت قاضی میں سزائے جرمانہ کی نسبت نظماء مذہبی اضلاع کے اختیارات
۶۴
گشتی ۱۷ ۴۔ شہریور ۱۳۳۱؁ف ناکحین اور ان کے اولیاء پر جرمانہ کرنے کا اختیار تعلقہ داروں کو بارگاہ خسروی جہاں پناہی سے عطا ہوا ہے
۲۰۸
فصل (۳)
اختیارات قضاۃ
گشتی ۹ ۹۔خورداد ۱۳۲۲؁ف سرکاری سندی ملا کے سوائے قاضیوں کو دیگر ملاؤں کی بحالی و برطرفی کا اختیار
۲۵
؍؍ ۶ ۴۔ تیر ۱۳۲۴؁ف قاضیوں کو درخواست زد و کوب شوہران لینے کا اختیار ۷۱
؍؍ ۲ ۷۔ آذر ۱۳۲۹؁ف قضاۃ کو امور ملازمت سے متعلق ہر محکمہ میں معافی رسوم و اسٹامپ درخواست پیش کرنے کا اختیار
۱۵۵
؍؍ ۶ ۲۸۔ اروی بہشت ۱۳۳۳؁ف نائبین کی جزا و سزا کی نسبت قاضیوں کے اختیارات
۲۵۹
اعلان ۶۰۲ ۲۹۔دی ۱۳۳۴؁ف قاضی یا نائب قاضی کو فارغخطی کی تصدیق کا اختیار ۳۰۵
گشتی ۱۶ ۱۸۔ تیر ۱۳۲۳؁ف دفتر قضاء ت کے لفافہ جات سیت سندیوں کے ذریعہ روانہ کرنے کا اختیار ۴۶
؍؍ ۳ ۲۳؍اسفندار ۱۳۳۳؁ف قضاۃ کو فارغخطی کی تصدیق کا اختیار ۲۵۶
؍؍ ۹ ۱۵۔فروردی ۱۳۲۳؁ف اوزان ومکیال کی جانچ پڑتال کا کام محتسبوں کا ہے اور جہاں محتسب نہ ہوں قضاۃ سے متعلق کیا گیا ہے
۳۸
گشتی ۵ ۳۱۔ اروی بہشت ۱۳۳۰؁ف اہل خدمات شرعیہ کو مدارس کی دینی تعلیم کا معائنہ کرنے اور کتاب الرائے پر اندراج کا اختیار
۱۷۶
باب دوم افعال ممنوعہ
فصل(۱)
اہل خدمات شرعیہ کو چند افعال کی ممانعت
گشتی ۷ ۵۔فروردی ۱۳۲۲؁ف (۲۹) تاریخ کو چاند نہ ہو تو اس کی اطلاع دینے اور کسی مہینے میں نکاح نہ ہو تو تختہ صفر زدہ روانہ کرنے کی ممانعت
۲۲
؍؍ ۸ ۳۰۔اسفندار ۱۳۲۳؁ف مسلمانوں اور ملاؤں سے اہل خدمات شرعیہ کو پٹیاں وصول کرنے کی ممانعت
۳۷
؍؍ ۶ ۴۔ تیر ۱۳۲۴؁ف مقدمات طلاق۔ خلع طلب مہر کے درخواستیں قضاۃ کو لینے کی ممانعت ۷۱
؍؍ ۶ ۲۹۔ تیر ۱۳۲۶؁ف ہندو مسلمان اور مذاہب کے وارڈز جو زیر نگرانی ہوں ان کا عقد بلا منظوری کورٹ آف وارڈز نہیں ہوسکتا۔
۱۰۶
؍؍ ۱ ۲۹۔ اسفندار ۱۳۲۸؁ف مشروط الخدمت معاش متصدیان خدمت کے ذاتی قرضہ میں مکفول کرنے کی ممانعت۔
۱۲۷
؍؍ ۱ ۳۔ آذر ۱۳۲۹؁ف اوزان میزان مکیال کی جانچ کا اختیار اہل خدمات شرعیہ کو نہیں بلکہ تعلقہ دار و تحصیلدار اور ناظم عدالت اور محکمۂ صفائی کو ہے۔
۱۵۴
؍؍ ۷ ۹۔ امرداد ۱۳۳۳؁ف وارڈز جو زیر نگرانی کورٹ آف وارڈز ہیں اُن کی فہرست اور ان کا عقد بلا اجازت پڑھنے کی ممانعت۔
۲۶۰
؍؍ ۸ ۲۰۔ امرداد ۱۳۳۰؁ف بلا اجازت محکمۂ صدارت العالیہ اہل خدمات شرعیہ کو ملازمت یا کوئی پیشہ اختیار کرنے کی ممانعت۔
۱۸۰
؍؍ ۱۰ ۱۲۔ آبان ۳۳۳؁ف نائبین قضاۃ کو بلا اجازت ملازمت یا کوئی پیشہ کرنے کی ممانعت۔ ۲۶۷
؍؍ ۴ ۲۳۔ دی ۱۳۳۱؁ف نکاح ثانی میں فیس نکاحانہ سے زیادہ وصول کرنے کی ممانعت۔ ۱۹۲
گشتی ۱۲ ۹۔ آبان ۱۳۲۸؁ف قاضی یا نائب قاضی کو اپنی ولایت سے کسی نابالغ کا (جس کے اولیائے جائز موجود نہ ہوں) عقد پڑھنے کی ممانعت۔
۱۴۳
؍؍ ۱ ۴۔دی ۱۳۲؁ف شافعی المذہب شخص کا نکاح مذہب حنفی کی تقلیدمیں پڑھنے کی ممانعت۔ ۲۲۷
؍؍ ۶ ۸۔خورداد ۱۳۳۰؁ف نابالغ جس کا ولی جائز موجود نہ ہو اس کے ولایت کی اجازت نظماء عدالت سے حاصل کرنے کی ہدایت۔
۱۷۷
مراسلہ ۶۹۵۶ تا ۶۹۵۸ ۲۳۔ آبان ۱۳۳۲؁ف بلدہ میں اجازتی چٹھیات نکاح خوانی کے طریقہ کی مسدودی۔
۲۵۱
؍؍ ۱۹۵، ۱۹۶، ۱۹۷ ۲۵۔ آذر ۱۳۳۳؁ف قاضی صاحبان بلدہ قلعہ محمد نگر لشکر فیروزی سے اجازتی چٹھیات کا حکم اٹھا لینے کی اطلاع
۲۸۴
گشتی ۶ ۲۔ اسفندار ۱۳۳۱؁ف اہل خدمات شرعیہ کو دیہاتی مسلمانوں پر اخراجات دورہ کا بار ڈالنے کی ممانعت۔
۱۹۴
باب سوم
طریقہ کاروائی محکمۂ صدارت العالیہ و دفاتر اہل خدمات شرعیہ
فصل (۱)
طریقہ کارروائی محکمہ صدارت العالیہ
گشتی ۱۷ ۱۸۔ تیر ۱۳۲۳؁ف بلحاظ نوعیت کار نظامت کے مراسلات بنام ناظم امور مذہبی اور صدارت کی مراسلت بنام صدر الصدور ہوا کرے۔
۴۷
اعلان ۷۲۹ ۲۵۔دی ۱۳۲۵؁ف درخواست کے ساتھ ٹکٹ ٹپہ نہ ہو تو فہمائش نہیں دی جائے گی ۹۰
گشتی ۷ ۱۳۔امرداد ۱۳۲۷؁ف مراسلت بنام مولٰنا مولوی حبیب الرحمن خان شروانی صدر الصدور ہوا کرے۔ ۱۱۵
اعلان ۔ ۲۱۔ بہمن ۱۳۲۷؁ف معافی اسٹامپ مقدمات محکمہ صدارت العالیہ ۱۲۲
؍؍ ۶۸۸۱ ۲۷۔ شہریور ۱۳۳۰؁ف وثیقہ منظوری وراثت کے خلاف محکمہ صدارت العالیہ میں کارروائی نہ ہوگی۔
؍؍ ؍؍ ؍؍ درخواست تجویز ثانی پر کارروائی سابقہ میں فروگذاشت پائی جائے تو اس کی اصلاح بذریعہ ضمیمہ گزارش کرائی جاسکتی ہے
۱۸۹
گشتی ۱۱ ۲۲۔خورداد ۱۳۳۱؁ف تقسیم نوعیت کار محکمہ صدارت العالیہ و امور مذہبی ۲۰۱
؍؍ ۱۲ ۱۳ امرداد ۱۳۳۲؁ف امور مذہبی سے متعلق کارروائیوں میں عہدہ نظامت یا معتمدی سے اور صدارت العالیہ کے معاملات میں محکمہ صدارت العالیہ سے خطاب کرنے کی اجازت
۲۴۰
فصل (۲)
طریقہ کارروائی دفاتر قضاۃ
گشتی ۲۱ ۱۳۔ شہریور ۱۳۲۳؁ف دفاتر قضاۃ میں رجسٹر فارغخطی رکھنے کی ہدایت ۵۲
؍؍ ۶ ۲۶۔بہمن ۱۳۲۹؁ف دفاتر قضاۃ کے لیے چند ضروری رجسٹرات کے نمونے ۱۵۸
؍؍ ۷ یکم اردی بہشت ۱۳۳۱؁ف دفاتر قضاۃ میں کتاب الرائے رکھنے کی ہدایت۔ ۱۹۵
گشتی ۸ ۲۱۔ امرداد ۱۳۲۷؁ف رجسٹر داخلہ فیس نکاحانہ رکھنے کی ہدایت ۱۱۶
؍؍ ۱۴ ۱۰۔امرداد ۱۳۳۱؁ف اجازتی چٹھیات نکاح خوانی کا رجسٹر رکھنے کی ہدایت ۲۰۴
؍؍ ۱۸ ۷۔ شہریور ۱۳۳۱؁ف رجسٹرر سائد نکاحانہ رکھنے کی ہدایت ۲۰۸
؍؍ ۹ ۱۱۔شہریور ۱۳۳۳؁ف رسید فیس نکاحانہ میں خرچ سواری کی فیس کا اندراج ۲۶۶
؍؍ ۴ ۲۳۔اردی بہشت ۱۳۲۶؁ف گشتیات چکٹ بک میں چسپاں کرکے رکھنے کی ہدایت ۱۰۴
؍؍ ۶ یکم مہر ۱۳۲۵؁ف دفاتر قضاۃ میں بلا مہور سادہ کاغذ پر درخواست لی جائے گی ۱۸۷
؍؍ ۵ ۱۲۔ خورداد ۱۳۲۸؁ف قضاۃ ملازم سرکار ہیں ان کے منسوبہ الزامات کی تحقیقات اگر ان کا بادائی فرائض منصبی سرزد ہونا ثابت ہوجائے تو بمتابعت دفعہ ۲۰۱ ضابطہ فوجداری ہوا کرے۔
۱۳۴
؍؍ ۶ ۸۔تیر ۱۳۲۸؁ف فارغخطی کی اطلاع دفاتر قضاۃ کو دینے کی نسبت عدالتوں کو ہدایت ۱۳۵
؍؍ ۱۱ ۱۳۔امرداد ۱۳۲۲؁ف اہل خدمات شرعیہ کے منسوبہ الزامات کی تحقیقات حسب دفعہ (۲۰۱) ضابطہ فوجداری کرنے کی ہدایت
۲۳۸
؍؍ ۱ ۱۸۔ دی ۱۳۳۴؁ف اہل خدمات شرعیہ کے کاموں میں دفاتر تحصیل و ضلع کے توسط کا لزوم۔ ۲۸۴
فصل(۳)
تنقیح دفاتر اہل خدمات شرعیہ
گشتی ۳ ۱۳۔ اسفندار ۱۳۲۷؁ف نظمائے امور مذہبی ضلع و تعلقہ کو قضاۃ کے دفاتر کی تنقیح کرنے اور تنقیح پٹی محکمہ صدارت العالیہ میں روانہ کرنے کے احکام۔
۱۱۲
مراسلہ ۷۹۲؍۷۹۳ ۲۴۔ دی ۱۳۲۷؁ف صاحبان اضلاع کو اپنے دورہ میں دفاتر قضاۃ کی تنقیح کرنے اور تنقیح پٹیاں بدرج ہدایت دفاتر قضاۃ و صدارت العالیہ میں روانہ کرنے کی ہدایت۔
گشتی ۱۳ ۲۱۔ امرداد ۱۳۳۱؁ف تنقیح دفاتر اہل خدمات شرعیہ کے لیے تنقیح پٹی کا نمونہ
؍؍ ۱ ۲۷۔ بہمن ۱۳۳۳؁ف ناظم عدالت ضلع کو تنقیح دفاتر اہل خدمات شرعیہ کا اختیار
فصل (۴)
انتظام اجرائی کار اہل خدمات شرعیہ بذریعہ نائبین
گشتی ۱ ۹۔ بہمن ۱۳۲۲؁ف نائب ایسے مقرر ہوں جو اپنے فرائض منصبی کو عمدگی سے انجام دے سکیں۔
اعلان ۱۸۴۸ ۳۱۔فروردی ۱۳۲۷؁ف امیدواران خدمت نیابت اہل خدمات شرعیہ اپنا نام بصراحت پتہ محکمہ صدارت العالیہ کے رجسٹر میں شریک کرائیں
مراسلہ ۴۴۶ ۲۷۔آذر ۱۳۳۱؁ف تقرر نائب کی اطلاع دفاتر نظماء عدالت دیوانی اضلاع کو دیا جایا کریگی۔
اعلان ۳ ۱۰۔ خورداد ۱۳۲۸؁ف بصورت وفات اہل خدمات شرعیہ ورثاء کو لازم ہوگا کہ صدارت العالیہ کو اس کی اطلاع دے کر اجرائی کار کی نسبت حکم حاصل کریں۔
رزولیوشن ۱۱؍۳ ۱۱۔فروردی ۱۳۲۰؁ف امام موذن ملا امتحان اہل خدمات شرعیہ میں کامیاب نہ ہوں تو ان کی جگہ نائب مقرر کیا جائے۔ جو ادائی خدمت کا اہل ہو
۳۰۶
گشتی ۸ ۱۸۔مہر ۱۳۲۸؁ف جو اہل خدمات شرعیہ مدرسۂ نظامیہ کی سند پیش نہ کریں ادائی خدمت کا انتظام ہونے تک اُن کی دوثلث معاش برانیدہ ہوگی
۱۲۷
اعلان ۶۲۱۴ ۲۳۔ امرداد ۱۳۳۰؁ف کوئی شخص بغیر امتحان انجام دہی خدمت کا مجاز نہ ہوگا اگر کسی کو ایسے وقت کام شروع کرنا پڑے کہ امتحان سالانہ ہوچکا ہو یا منعقد ہونے میں تین ماہ سے زائد عرصہ درکار ہے تو تعلقہ دار ضلع کے اجلاس پر امتحان دے اور ضلع سے اجازت حاصل کرکے کام شروع کرے۔
۱۸۶
فصل (۵)
قواعد رخصت اہل خدمات شرعیہ
گشتی ۷ ۷۔ مہر ۱۳۲۵؁ف بیرون ملک سرکار عالی اہل خدمات شرعیہ کو سفر کرنے کی ممانعت۔ ۸۸
؍؍ ۳ ۲۹۔اردی بہشت ۱۳۳۰؁ف اہل خدمات شرعیہ کے رخصتوں کا قاعدہ ۱۷۱
؍؍ ۲ ۵۔ اسفندار ۱۳۳۳؁ف اہل خدمات شرعیہ کی درخواست رخصت خاص و بیماری کے ساتھ تختہ رخصت بھیجنے کی ہدایت ۲۵۴
؍؍ ۴ ۸۔ اردی بہشت ۳۳؁ف توضیح قواعد رخصت اہل خدمات شرعیہ ۲۵۷
فصل (۶)
انتظام تقسیم سرویس ٹکٹ دفاتر قضاۃ
مراسلہ ۴۱۱ مہر ۱۳۱۹؁ف طلب تختہ سرویس ٹکٹ دفاتر قضاۃ ۱۱
؍؍ ۸۴۹ یکم فروروی ۱۳۲۳؁ف دفاتر قضاۃ کو سرویس ٹکٹ کی منظوری کی اطلاع ۵۹
گشتی ۲۰ الف ۳۰۔امرداد ۱۳۲۳؁ف سرویس ٹکٹ حاصل کرنے کا طریقہ ۵۱
مراسلہ ۲۶۲۹ ؍؍ صاحبان اضلاع کو اجرائی اجازت نامہ سرویس ٹکٹ کی تحریک۔ ۶۲
گشتی ۸ یکم مہر ۱۳۲۴؁ف مطلوبہ سرویس ٹکٹ کی اجرائی دفتر تنقیح ضلع سے ہوگی ۷۳
؍؍ ۲ ۲۱۔ بہمن ۱۳۲۵؁ف سرویس ٹکٹ کے مطلوبہ کے ساتھ رسید گودام خزانہ کا رہنا ۸۲
؍؍ ۹ ۲۱۔ آبان ۱۳۲۵؁ف ہر دفتر قضاء ت کے لیے (۱۲؍عہ) کے سرویس ٹکٹ کی منظوری ۸۹
گشتی ۲ ۲۳۔بہمن ۱۳۲۶؁ف موازنہ منقسمہ سرویس ٹکٹ بابتہ ۱۳۲۶؁ف کی تقسیم ۹۹
مراسلہ ۸۵۴ ۳۔ بہمن ۱۳۲۷؁ف علاقہ پائیگاہ کے قضاۃ کو دیوانی علاقہ سے سرویس ٹکٹ نہیں دیئے جاسکتے۔ ۱۲۱
گشتی ۴ ۱۰۔ خورداد ۱۳۲۸؁ف بلحاظ وزن لفافہ ٹکٹ نصب کئے جائیں اور لفافوں پر دستخط بھی ثبت ہوا کرے۔
۱۳۳
مراسلہ ۱۱۳۳ ۲۹۔ اسفندار ۱۳۲۸؁ف مطلوبہ رقم سرویس ٹکٹ دفتر تنقیح میں پیش کرکے رقم کا اجازت نامہ حاصل کرنا چاہیے۔ ۱۴۵
گشتی ۸ ۲۱۔ فروروی ۱۳۲۹؁ف موازنہ منقسمہ ۱۳۲۹؁ف کی تقسیم۔ ۱۶۲
؍؍ ۴ ۳۱۔ اروی بہشت ۱۳۳۰؁ف سرویس ٹکٹ کو سرکاری مراسلت میں صرف کرنے کی ہدایت ۱۷۳
؍؍ ۳ ۵۔دی ۱۳۳۱؁ف موازنہ منقسمہ  ۱۳۳۰؁ف کی تقسیم۔ ۱۹۱
؍؍ ۸ ۴۔ اسفندار ۱۳۳۲؁ف دفاتر اضلاع کو ( للعہ) کے سرویس ٹکٹ تقسیم کرنے کی اطلاع ۲۳۶
مراسلہ ۸۶۹ ۲۲۔ دی ۱۳۳۳؁ف (الماء ۸؍) کے سرویس ٹکٹ تقسیم کرنے کی اطلاع ۲۶۹
؍؍ ۸۱۱ ۱۷۔ بہمن ۱۳۳۴؁ف تقسیم موازنہ ۱۳۳۴؁ف ۳۰۴
باب چہارم
فصل (۱)
انتظام عطائے اسناد اہل خدمات شرعیہ
گشتی ۹۹ ۶۔بہمن ۱۳۰۷؁ف اہل خدمات شرعیہ کا تقرر بلا سند دفتر صدارت العالیہ کے مستند نہ سمجھائے۔ ۷
اعلان ۴۴۶۹ ۲۹۔ شہریور ۱۳۳۴؁ف کارروائی عطائے سند میں ناراضی فیصلہ صدارت کے متعلق اندرون (۹۰) یوم عذرداری پیش ہونی چاہیے۔ ۷۹
اعلان ۳ ۱۰۔ خورداد ۱۳۲۸؁ف بصورت وفات اہل خدمات شرعیہ ورثاء کو لازم ہوگا کہ سر رشتہ مال میں رجوع ہوکر بعد تصفیہ حکم آخر کی نقل پیش کرکے سند کی درخواست کریں۔
۱۳۲
گشتی ۷ ۲۸۔ تیر ۱۳۳۰؁ف معاشداروں کے تختہ وراثت کے ساتھ وارث نے مدرسہ نظامیہ یا جس دینی مدرسہ میں تعلیم پائی اس کی سند کی نقل منسلک رہے
۱۷۸
؍؍ ۹۰ ۱۸۔ شہریور ۱۳۳۰؁ف جو اہل خدمات شرعیہ نصاب مقررہ کی تکمیل نہ کریں ان کو شاہی سند کے عوض صداقتنامہ دیا جائے گا۔
۱۸۱
اعلان ۶۸۸۱ ۲۷۔ شہریور ۱۳۳۰؁ف سر رشتہ مال سے معاش بحال ہونے کے بعد با اعتبار وثیقہ منظوری وراثت بحصول منظوری سرکار سند دی جائے گی۔
۱۸۹
؍؍ ۶۸۸۱ ۲۷۔ شہریور ۱۳۳۰؁ف متولیان معابد اہل اسلام و ہنود جن کو سرکار سے معاش نہیں ہے ان کو بھی اسناد دئے جائیں گے۔
۱۸۹
گشتی محکمہ سرکار صیغہ مالگزاری ۲۷ ۲۴۔ شہریور ۱۳۲۸؁ف معاشداران مشروط الخدمت مذہبی کو لازم ہوگا کہ بفور منظوری وراثت بغرض حصول سند محکمۂ صدارت العالیہ میں رجوع ہوجائیں۔
۳۱۴
فصل (۲)
اصلاح طریقۂ میلاد خوانی و انتظام عطائے اجازت نامجات
اعلان ۴۴۲ ۱۵۔ اردی بہشت ۱۳۳۱؁ف پیشہ ور مولود خوانان بلدہ کو اقرار نامہ داخل کرکے اجازت نامہ میلاد خوانی حاصل کرنا چاہیے۔
۲۱۴
اعلان ۳۹۶۷ ۴۔شہریور ۱۳۳۱؁ف ہدایات میلاد خوانی کی پابندی کا اطمینان ہونے کے بعد مولود خوانوں کو اجازت نامے عطا کئے جائیں گے۔
۲۲۴
اعلان ۳۹۶۷ ۴۔ شہریور ۱۳۳۱؁ف میلاد خوانان اضلاع کو بھی اقرار نامہ پابندی آداب میلاد خوانی داخل کرکے اجازت نامہ میلاد خوانی حاصل کرنا چاہیے
۲۲۴
؍؍ ۵۱۷۰ ۸۔ آبان ۱۳۳۲؁ف زنانہ جماعتہائے میلاد خوانی کو بھی اقرار نامہ پابندی آداب میلاد خوانی داخل کرکے اجازت نامہ میلاد خوانی حاصل کرنا چاہیے۔
۲۵۰
؍؍ ۔ ۲۳۔ اسفندار ۱۳۳۳؁ف فہرست مولود خوانان اجازت یافتہ محکمہ صدارت العالیہ ۲۷۳
؍؍ ۵۲۰۲ ۱۲۔ آبان ۱۳۳۳؁ف بجز جماعت ہائے میلاد خوانی اجازت یافتہ کے دوسرے اشخاص مولود خوانی کے مجاز نہ ہوں گے۔ ۲۸۰
باب پنجم
فصل (۱)
انتظام ترتیب و تنظیم و تحفظ سیاہجات نکاح
گشتی ۴ ۹۔بہمن ۱۳۲۲؁ف ہر نکاح خوانی میں اجازت قاضی و سیاہہ کی ضرورت ہے اگرچیکہ نکاح اپنے معتقد علیہ سے پڑہایا گیا ہو۔
۱۹
اعلان ۔ ۹۔ بہمن ۱۳۲۲؁ف قضاۃ کو ماہانہ سیاہجات محکمہ صدارت العالیہ میں روانہ کرنے کی تاکید۔ ۲۶
؍؍ ۔ ؍؍ سیاہہ شرعی دستاویز ہے بصورت نزاع عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں اور ان کو شہادت کا منصب ملتا ہے۔
۲۶
اعلان ۔ ۹۔بہمن ۱۳۲۲؁ف جن دفاتر کو نقل سیاہہ کی ضرورت ہوگی وہ مقامی قاضی سے طلب کرکے محکمہ صدارت العالیہ سے تصدیق کرالیا کریں گے۔
۲۶
؍؍ ۱ ۲۰۔بہمن ۱۳۲۳؁ف سیاہجات کی ترتیب کی نسبت ہدایات ۳۰
؍؍ ۲ یکم اسفندار ۱۳۲۳؁ف ماہانہ سیاہہ مرتب اور دوسرے مہینہ کی دس تاریخ تک محکمہ صدارت میں روانہ کرنے کی تاکید۔
۳۲
؍؍ ۴ ۴۔اسفندار ۱۳۲۳؁ف سیاہجات عقد خوانی کی نقل عدالت مقامی میں روانہ کرنے کی ہدایت۔ ۳۳
گشتی ۱۱ ۵تیر ۱۳۲۳؁ف صفر زدہ سیاہہ بھیجنے یا بذریعہ مراسلہ اطلاع دینے کی ممانعت ۴۰
؍؍ ۱۰ ۳۰۔آبان ۱۳۲۴؁ف سیاہہ پروکیل منکوحہ کی دستخط کافی ہوسکتی ہے۔ ۷۶
؍؍ ۱ ۲۴۔ دی ۱۳۲۵؁ف بلا اجازت قاضی نکاح پڑھانے والوں کو جرمانہ کرنے کے بعد صاحبان اضلاع سیاہہ کو بغرض اندراج رجسٹر سیاہہ دفاتر قضاۃ میں بھیج دیا کریں۔
۸۱
گشتی ۱ ۱۰۔ آذر ۱۳۲۶؁ف صدارت العالیہ سے مطبوعہ سیاہجات روانہ کرنے کی اطلاع اور اس کی تکمیل کی نسبت مفصل ہدایات
۹۴
؍؍ ۴ ۲۳۔اروی بہشت ۱۳۲۶؁ف غیر مطبوعہ کاغذات پر سیاہجات بھیجنے کی ممانعت ۱۰۴
؍؍ ۵ ۲۹۔ خورداد ۱۳۲۶؁ف قواعد ترتیب و ترسیل سیاہجات کی نسبت گشتی مجلس عالیہ عدالت کی ترمیم۔ ۱۰۵
؍؍ ۵ ؍؍ ماہانہ گوشوارہ سیاہہ عدالت ضلع و صدارت العالیہ میں بھیجنے کی ہدایت۔ ۱۰۵
؍؍ ۵ ؍؍ رجسٹرات سیاہہ پر عدالتہائے اضلاع کی مہر و دستخط کی خصوصیت نہیں تحصیل سے بھی مہر و دستخط کرائی جاسکتی ہے۔
۱۰۵
گشتی ۵ ۲۹۔ خورداد ۱۳۲۶؁ف بلدہ وحوالی بلدہ کے دفاتر قضاۃ کے رجسٹرات سیاہہ پر محکمہ صدارت العالیہ کی مہر و دستخط ثبت ہوا کرے گی۔ ؍؍
اعلان ۔ ۱۳۲۶؁ف سیاہہ کی نقل کیلئے محکمہ صدارت العالیہ میں درخواست کرنے کی ممانعت ۱۰۸
گشتی ۲ ۲۸۔ بہمن ۱۳۲۷؁ف سال تمام کے عقود کے لحاظ سے وقت واحد میں رجسٹرات سیاہہ مطبوعہ طلب کرنے کی ہدایت
۱۱۱
؍؍ ۳ ۱۳۔ اسفندار ۱۳۲۷؁ف سیاہجات کی تکمیل اور ان کے مثنے محکمۂ صدارت العالیہ و عدالت میں ارسال ہوا کرتے ہیں یا نہیں اس کی تنقیح کی عہدہ داران اضلاع کو ہدایت۔
۱۱۲
؍؍ ۵ ۱۱۔تیر ۱۳۲۷؁ف اصل پرت سیاہہ کو رجسٹر میں محفوظ رکھنے مثنیٰ محکمہ صدارت اور مثلث مقامی عدالت میں بھیجنے کی ہدایت۔ نیز اس امر کی توضیح کہ مقامی عدالت سے (نظامت عدالت دیوانی مراد ہے)
۱۱۴
؍؍ ۲ ۲۰۔ اروی بہشت ۱۳۲۸؁ف صدر رجسٹر سیاہہ کے ہر ورق پر عدالت دیوانی ضلع یا تحصیل یا منصفی کی مہر ثبت کرنے کی ہدایت۔
۱۳۱
گشتی ۱۳ ۱۱۔آبان ۱۳۲۸؁ف سیاہجات ماہانہ عدالت و صدارت میں روانہ کرنے اور عدالت کوئی سقم برآمد کرکے اصلاح کا حکم دے تو اس کی تعمیل کرنے کے احکام
۱۴۴
؍؍ ۷ ۲۸۔اسفندار ۱۳۲۹؁ف تنقیح سیاہجات کے لیے صاحبان اضلاع و نظماء عدالتہائے اضلاع کے پاس فہرست قضاۃ کی تقسیم۔
۱۶۱
؍؍ ۱ ۲۲۔آذر ۱۳۳۰؁ف سیاہجات میں زر مہر الفاظ و ہندسہ میں لکھا جانا چاہئے۔  ……… اور مکمل خانہ پری سیاہجات کی ہونی چاہئے
۱۷۰
گشتی ۲ ۲۹۔ اردی بہشت ۱۳۳۰؁ف نومسلمین کے اصلی والدوں کا نام سیاہجات عقد میں لکھا جانا چاہیے۔
۱۷۰
؍؍ ۶ الف ۴۔تیر ۱۳۳۰؁ف سوالات مندرجہ سیاہہ کے جوابات میں بجائے صفر کے لفظ (نہیں) لکھا جانا ضرور ہے۔
۱۷۷
؍؍ ۵ ۲۶۔دی ۱۳۳۲؁ف عدالت ہائے اضلاع میں سیاہجات وصول نہ ہوں یا دیر سے وصول ہوں تو اُن کی نسبت تحصیلات کو لکھ کے مثنیٰ محکمہ صدارت میں روانہ کرنے کی ہدایت
۲۳۲
گشتی ۲ ۱۰۔ بہمن ۱۳۳۴؁ف ترتیب سیاہہ نومسلمین و معافی نکاحانہ عقود ۲۸۶
باب ششم
فصل (۱)
اصلاح حالات مسلمانان دیہات
گشتی ۱۴ ۱۶ تیر ۱۳۲۳؁ف لڑکی والوں کو لڑکے کے اولیاء سے زر نقد لے کے لڑکی بیاہ دینے کے طریقہ کا انسداد۔
۴۳
؍؍ ۵ ۱۴۔ خورداد ۱۳۲۴؁ف اہل خدمات شرعیہ منا ہی و منکرات میں مبتلا ہوں تو اس کی اطلاع محکمۂ صدارت میں کرنے کی ہدایت
۷۰
؍؍ ۳ ۶۔اسفندار ۲۶؁ف اہل خدمات شرعیہ کا فرض ہے کہ مسلمانان دیہات کو بت پرستی اور تقلید رسوم اہل ہنود سے باز رکھیں۔
۹۹
گشتی ۱ ۱۷۔بہمن ۱۳۲۷؁ف اہل خدمات شرعیہ کو مسلمانان دیہات کے مذموم حالات سے آگاہ ہونے اور پند و نصیحت کے ذریعہ سے اُن کے ترک پر آمادہ کرنے اور محکمۂ صدارت کو ان حالات سے اطلاع دینے کی ہدایت
۱۰۹
؍؍ ۱۲ ۱۰۔ آبان ۱۳۲۷؁ف وعظ و پند کے ذریعہ مسلمانوں کے ناموں کی اصلاح کرنے اور اہل اسلام کو اسلامی نام رکھنے کی ہدایت
۱۱۹
؍؍ ۱۱ ۲۵۔مہر ۱۳۲۸؁ف اہل خدمات شرعیہ کو اطفال لائق تعلیم کی فہرست قلمبند کرکے مدرس کے حوالے کرنے اور ورثاء اطفال کو شریک مدرسہ کرانے کی ہدایت
۱۴۲
اعلان ۳۰۔ اسفندار ۱۳۲۹؁ف نفاذ قانون انسداد طریقہ مخنثاں ۱۶۵
فصل (۲)
دورہ اہل خدمات شرعیہ
گشتی ۴۳ ۱۲۔ دی ۱۳۲۱؁ف اہل خدمات شرعیہ دورہ کی رپورٹ نہ روانہ کریں تو اُن کی ماہانہ معاش کے ربع تک جرمانہ کیا جائے گا۔
۱۲
رزولیوشن ۱۱؍۳ ۱۱۔فروروی ۱۳۲۰؁ف اہل خدمات شرعیہ پر لازم ہوگا کہ وہ خود یا اپنے نائبین کو بھیج کے اپنے حدود ارضی میں دورہ کریں اور اس دورہ میں ان کو چاہیے کہ اہل خدمات شرعیہ مثل امام موذن ملا کے متعلق اطمینان حاصل کریں کہ آیا وہ مسائل اسلام سے واقف ہیں اور جو لوگ واقف نہ ہوں اُن کو اس کی تعلیم دیں۔ 
اہل خدمات شرعیہ پر لازم ہوگا کہ وہ مسائل مذہب اسلام متعلقہ عبادات و عقائد کے متعلق وعظ و نصائح سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائیں اور اپنے دورہ کی مفصل رپورٹ صدر الصدور کے پاس پہنچایا کریں۔
۳۰۶
مراسلہ ۲۵۷ ۱۳۔ فروری ۱۳۲۲؁ف اہل خدمات شرعیہ کے تختہ جات دورہ کی نگرانی میں تعویق ہوگی تو جرمانہ کیا جائے گا۔
۲۸
؍؍ ۲۱۹۷ ۸۔مہر ۱۳۲۲؁ف انتظام اخراجات دورہ کے لیے عہدیداران اضلاع کی رائے کا مطالبہ۔ ۲۹
گشتی ۳ ۳۔ اسفندار ۱۳۲۳؁ف عہدیداران مقامی بحیثیت نظماء مذہبی اہل خدمات شرعیہ کے دورہ کی نگرانی رکھیں۔
۳۳
مراسلہ ۳۳۲ ۱۶۔ آبان ۱۳۲۱؁ف عہدہ داران مقامی بحیثیت نظماء مذہبی اہل خدمات شرعیہ کو بوقت ضرورت امداد دیں گے۔
۱۶
گشتی ۸ ۵۔فروردی ۱۳۲۲؁ف اہل خدمات شرعیہ کو مواضعات متعلقہ کا دورہ کرکے ماہانہ رپورٹ بھیجنے کی ہدایت۔
۲۳
؍؍ ۲۲ ۲۸۔شہریور ۱۳۲۳؁ف امور نگرانی دورہ اہل خدمات شرعیہ کی تفصیل اور دورہ کے فرائض۔ ۵۴
؍؍ ۲۰ ۲۶۔ تیر ۱۳۲۳؁ف امور متعلقہ دورہ میں پٹیل پٹواری مدد دینے کیلئے تحصیلداروں کو ہدایت۔ ۵۰
؍؍ ۹ ۲۲۔ آبان ۱۳۲۴؁ف اہل خدمات شرعیہ سب سے پہلے دورہ میں ملاؤں کو تعلیم دینے کا فریضہ ادا کریں۔
۷۴
گشتی ۴ ۲۲۔ امرواد ۱۳۳۵؁ف اہل خدمات شرعیہ کے دورہ کی رپورٹیں تحصیلات مقامی میں بھیجنے اور ضلع اور صوبہ کے توسط سے محکمۂ صدارت العالیہ میں روانہ کرنے کی ہدایت۔
۸۴
گشتی ۵ ۹۔ شہریور ۱۳۲۵؁ف قضاۃ کو چاہیے کہ دورہ میں قاری النکاح اور ملاؤں کو حرام رشتے یاد کرائیں۔ ۸۴
مراسلہ ۲۵۔۴ ۱۲۔ آبان ۱۳۲۷؁ف اہل خدمات شرعیہ کی رپورٹ دورہ تحصیلدار و تعلقہ دار کے ریویو کے بعد محکمۂ صدارت العالیہ میں وصول نہیں ہوتی ہے اس لیے ان کی توجہ کرنے کی ہدایت۔
۱۲۴
گشتی ۷ ۱۴۔ تیر ۱۳۲۸؁ف اہل خدمات شرعیہ کو ایام و با میں مزید دورہ کرنے کی ہدایت اور التواء دورہ کی ممانعت۔
۱۳۶
؍؍ ۱۱ ۲۵۔ مہر ۱۳۲۸؁ف اہل خدمات شرعیہ بوقت دورہ اطفال اہل اسلام لائق تعلیم کی فہرست مدرس کو دین اور ورثاء اطفال کو شرکت مدرسہ کی تاکید کریں۔
۱۴۲
گشتی ۳ ۴۔ بہمن ۱۳۲۹؁ف رسالہ واعظ سے اہل خدمات شرعیہ فائدہ اٹھائیں اور دورہ میں اس کے مضامین سے جاہل مسلمانوں کو فائدہ پہنچائیں۔
۱۵۵
؍؍ ۱۰ ۲۸۔اردی بہشت ۱۳۲۹؁ف اہل خدمات شرعیہ کو ہر موضع میں دس دس یوم قیام کرکے مسلمانان دیہات اور بالخصوص ملاؤں کو ضروری مسائل سکھلانے کی ہدایت۔
۱۶۳
مراسلہ ۱۵۰۱
۱۵۱۶ یکم اسفندار ۱۳۳۱؁ف اہل خدمات شرعیہ کے ایام دورہ کا تعین اور ترسیل روزنامچہ دورہ کا انتظام
۲۱۹
گشتی ۳ ۲۴۔ دی ۱۳۳۲؁ف رپورٹ ہائے دورہ اہل خدمات شرعیہ دفاتر تحصیل و ضلع میں دو ہفتہ سے زیادہ نہ رہیں بلکہ بعد ریویو محکمۂ صدارت العالیہ میں روانہ ہوا کریں۔
۲۳۰
گشتی ۱۰ ۲۷۔ اردی بہشت ۱۳۳۲؁ف اہل خدمات شرعیہ اطلاع دیں کہ کتنی اور کن نشانات کے ذریعہ دورہ کی رپورٹیں تحصیلات میں روانہ کی گئی ہیں۔
۲۳۷
باب ہفتم
 فصل(۱)
انتظام تعلیم فرزندان اہل خدمات شرعیہ
رزولیوشن ۳؍۱۱ ۱۱۔فروردی ۱۳۲۰؁ف اہل خدمات شرعیہ جن کی آمدنی سالانہ دو سو سے زائد ہو اُن کی اولاد کی تعلیم لازم ہوگی وہ اپنے ایک ایسے لڑکے کو جو شرعاً اس کا قائم مقام ہو مدرسہ نظامیہ میں تعلیم دلائیں۔ ۳۰۶
؍؍ ۳؍۱۱ ۱۱۔فروردی ۱۳۲۰؁ف جن اہل خدمات شرعیہ کی معاش دو سو سے کم ہو اُن پر بھی ان کے لڑکے کی تعلیم مذہبی لازمی ہوگی۔
گشتی ۷ ۳۰۔ اسفندار ۱۳۲۳؁ف دفاتر تحصیلات سے اطلاع ملنی چاہیے کہ اہل خدمات شرعیہ اپنے لڑکوں میں سے کس لڑکے کو بغرض تعلیم مدرسہ نظامیہ بھیجیں گے۔ ۳۷
مراسلہ ۴۹۵۱ ۲۴۔امرداد ۱۳۲۵؁ف ہدایت نسبت پابندی فقرہ (۵) دستور العمل تعلیم قضاۃ و ائمہ ۹۱
اعلان ۔ ۱۷۔ اردی بہشت ۱۳۲۸؁ف فرزندان اہل خدمات شرعیہ کی تعلیم کا نصاب ۱۵۳
گشتی ۸ ۱۸۔مہر ۱۳۲۸؁ف اہل خدمات شرعیہ کی اولاد جب تک مدرسۂ نظامیہ میں تعلیم پاکے وہاں کی سند پیش نہ کرے بجائے سالم معاش کے ایک ثلث معاش اجرا ہوگی۔
۱۳۷
گشتی ۴ ۴۔بہمن ۱۳۲۹؁ف اہل خدمات شرعیہ کی برادری کے اطفال بھی مدرسہ نظامیہ میں شریک کئے جاسکتے ہیں۔
اعلان ۶۲۱۴ ۲۳۔امرداد ۱۳۳۰؁ف فرزندان اہل خدمات شرعیہ جن کی عمریں ۲۰ سال سے متجاوز ہو تعلیم کے لیے بلدہ کے قیام پر مجبور نہیں کئے جاسکتے۔ ۱۸۶
مراسلہ ۵۳۴۰ ۱۳۳۳؁ف فرزندان اہل خدمات شرعیہ جو زیر نگرانی محکمۂ صدارت العالیہ مدرسۂ نظامیہ میں تعلیم پارہے ہیں اُن کی رخصت کے قواعد۔ ۳۰۱
باب ہشتم 
 فصل(۱)
امتحان اہل خدمات شرعیہ
مراسلہ ۳۱۲ ۹۔ آبان ۱۳۰۰؁ف عہدہ داران اضلاع سے قضاۃ کی لیاقت کے تختہ کا مطالبہ
اعلان ۔ ۳۔شہریور ۱۳۰۱؁ف عہدۂ قصاء ت و امامت کیلئے بلحاظ عمر تعلیم کے مدارج مقرر کئے گئے ہیں۔ ۲
مراسلہ ۳۳ ۲۷۔ آذر ۱۳۰۲؁ف امتحان قضاۃ بمقام بلدہ ۴
اعلان ۔ یکم مہر ۱۳۲۱؁ف بلدہ کے ائمہ و موذنین مدرسہ نظامیہ میں امتحان دے کر سند حاصل کریں۔ ۱۵
گشتی ۶ ۱۱۔بہمن ۱۳۲۲؁ف قواعد امتحان پیش امام موذن ملا موقوعۂ اضلاع۔ ۲۱
؍؍ ۵ ۲۰۔اسفندار ۱۳۲۳؁ف منظوری نصاب امتحان نائبین قضاۃ و قاری النکاح۔ ۳۴
گشتی ۶ ۳۰۔ اسفندار اہل خدمات شرعیہ استعداد علم کی اطلاع اپنے قلم سے لکھ کر روانہ کریں۔ ۳۶
؍؍ ۱۳ ۱۶۔ تیر ۱۳۲۳؁ف طلب تختہ تعلیم و امتحان نائبین قضاۃ و ملایان از دفاتر قضاۃ ۴۱
؍؍ ۱۵ ۱۸۔ تیر ۱۳۲۳؁ف جو ملا امتحان میں کامیاب نہ ہو اس کو ضروری مسائل کی تعلیم دینا اہل خدمات شرعیہ کا فرض ہوگا۔
۴۴
مراسلہ ۶۰۱ ۱۹۔ بہمن ۱۳۲۳؁ف نتیجہ امتحان کے ساتھ مختصر رپورٹ روانہ کرنے کی ہدایت ۵۵
؍؍ ۷۳۹ ۱۰۔ اسفندار ۲۳؁ف ایک امتحان سے دوسرے امتحان میں بارہ ماہ کا فصل ہونا چاہیے۔ ۵۶
مراسلہ ۷۶۶ ۱۵۔ اسفندار ۱۳۲۳؁ف بلا لحاظ رعایت جو شخص جملہ ابواب میں کامیاب ہو اسی کو سند کا مستحق قرار دینا چاہیے۔
۵۷
؍؍ ۸۴۷ ۳۰  ۔  ؍؍ امتحان اہل خدمات شرعیہ میں عام معلومات اور واقفیت مسائل کی جانچ بھی ہونی چاہیے۔
۵۸
؍؍ ۱۷۸۱ ۳۰۔ خورداد ۱۳۲۳؁ف غیر حاضر شدہ اشخاص کے ساتھ بھی تین سال تک رعایت کی جاسکتی ہے۔ ۶۲
مراسلہ ۱۷۸۱ ۳۰۔ خورداد ۱۳۲۳؁ف امتحان نائبین قضاۃ میں غیر لوگ بھی فیس دینے پر شریک کئے جاسکتے ہیں۔ ۶۲
مراسلہ ۲۶۷۰ یکم شہریور ۱۳۲۳؁ف نتیجہ امتحان کی اشاعت جریدۂ اعلامیہ میں۔ ۶۱
گشتی ۲ ۱۸۔ دی ۱۳۲۴؁ف اہل خدمات شرعیہ ملاؤں کو ضروریات عقد نکاح و ذبیحہ سے واقف کریں اور اُن کو ادائی فرائض اور امتحان کا اہل بنادیں۔
۶۵
؍؍ ۴ ۱۴۔خورداد ۱۳۲۴؁ف تقسیم رسالہ رہبر اہل خدمات شرعیہ ترتیب نصاب امتحان تعلیم ملا قاری النکاح نائبین پیش اماموں اور موذن کو تیاری امتحان کے لیے تاکید کرنے کی ہدایت
۶۸
گشتی ۹ ۲۲۔آبان ۱۳۲۴؁ف اہل خدمات شرعیہ کو امام و موذن کی نسبت اطمینان حاصل کرنا چاہیے کہ وہ مسائل اسلام سے واقف ہیں یا نہیں۔ ملاؤں کو تعلیم نہ دی جائے گی تو اہل خدمات شرعیہ سے مواخذہ کیا جائے گا۔ اہل خدمات شرعیہ تعلیم نہ دیں گے تو عہدہ داران مقامی اس کی اطلاع محکمہ صدارت کو دیں گے۔
۷۴
مراسلہ ۱۸۲۳ ۱۰۔ اردی بہشت ۱۳۲۴؁ف مجموعہ رہبر اہل خدمات شرعیہ سے سوالات امتحان کی ترتیب میں مدد لی جاسکتی ہے۔
۷۷
؍؍ ۳۵۳۰ ۱۷۔ تیر ۱۳۲۴؁ف منظوری نمونہ صداقتنامہ کامیابی امتحان و قرار داد مدارج اعلیٰ و ادنیٰ ۷۸
؍؍ ۳۰۴۵ ۱۸۔ امرداد ۱۳۲۶؁ف منظوری اخراجات امتحان اہل خدمات شرعیہ و طریقہ ادائی رقم۔ ۱۰۹
؍؍ ۳۶۹۰
۳۶۹۱ ۹۔ مہر ۱۳۲۶؁ف قضاۃ مفتی محتسب جنہوں نے مدرسۂ نظامیہ یا کسی اور دینی مدرسہ میں عربی کی تعلیم نہ پائی ہو اور ان کی عمر بھی قابل تعلیم نہ رہی ہو تو اُن کو امتحان کا پابند کرنا اور مجالس امتحان اضلاع ہی میں ان کا امتحان لیا جانا چاہیے۔
۱۰۸
؍؍ ۳۳۳۳
۳۳۲۴ ۲۔ امرداد ۱۳۲۷؁ف قیام رجسٹر امتحان اہل خدمات شرعیہ و طریقہ تکمیل اور بذریعہ دفاتر تحصیلات تقاضہ کرکے اہل خدمات شرعیہ کو امتحان میں شریک کرنے کی ہدایت ۔ ۱۲۳
گشتی ۱۰ ۱۹۔مہر ۱۳۲۸؁ف نصاب اہل خدمات شرعیہ کی تیاری کی اطلاع اور ان میں امتحان دینے اور سوالات مرتب کرنے کی ہدایت اور نصاب ملا کی تقسیم کا طریقہ۔
۱۳۹
مراسلہ ۳۴۰ ۲۷۔ آذر ۱۳۲۹؁ف خطباء کا امتحان نصاب پیش امام میں لینے اور اُن سے بالمشافہ ایک دو خطبے سن لینے کی ہدایت
۱۶۴
گشتی ۲ ۱۴۔ آذر ۱۳۳۱؁ف اضلاع میں اسناد امتحان کی جس قدر ضرورت ہو محکمۂ صدارت العالیہ سے طلب کرنے کی ہدایت اور جز معاش کامیاب شدہ سے اس کی قیمت لینے کی ممانعت۔
۱۹۰
؍؍ ؍؍ ؍؍ اسناد و بعد دستخط صاحبان اضلاع محکمۂ صدارت العالیہ میں آئیں گے جو بعد دستخط جناب صدر الصدور صاحب واپس کردئے جائیں گے۔
۱۹۰
؍؍ ۲۰ ۱۶۔مہر ۱۳۳۱؁ف امتحان اہل خدمات شرعیہ کے ابواب کا تعین اور ان ابواب میں امتحان لینے کی ہدایت
۲۱۱
مراسلہ ۲۷۲۹ یکم خورداد ۱۳۳۱؁ف امتحان کے اسناد کی کاپیاں محکمۂ صدارت العالیہ سے روانہ کرنے کی اطلاع ۱۲۲۰
گشتی ۲ ۲۴۔دی ۱۳۳۲؁ف نصاب اہل خدمات شرعیہ کے حصہ موذنین دفاتر تحصیلات میں بھیج دئے گئے ہیں ان کی تقسیم میں تحصیلداروں کو دلچسپی لینے کی صاحبان اضلاع ہدایت فرما دیں۔
۲۲۹
گشتی ۴ ۲۶۔دی ۱۳۳۲؁ف امتحان اہل خدمات شرعیہ میں پبلک کو بھی شرکت کا موقع دیا جائے۔ ۲۳۱
؍؍ ۴ ؍؍ اہل خدمات شرعیہ کے سوا جو شخص امتحان میں شریک ہو اس سے ایک روپیہ فیس لی جاسکتی ہے۔
۲۳۱
؍؍ ۷ ۳۔ اسفندار ۱۳۳۲؁ف نصاب اہل خدمات شرعیہ حصہ پیش امام کی تقسیم کا طریقہ اور تحصیلداروں کو اس کی تقسیم میں توجہ کرنے کی ہدایت
۲۳۴
مراسلہ ۵۵؍۵۷ ۱۱۔آذر ۳۳؁ف تاریخ امتحان اہل خدمات شرعیہ ۲۹ اور ۳۰۔آذر مقرر کرنے کی ہدایت اور پرچہ جات امتحان محکمۂ صدارت سے روانہ کرنے کا اہتمام۔
۲۸۳
؍؍ ۸۶تا ۱۰۱ ۱۱۔آذر ۱۳۳۴؁ف جوابات کی تنقیح کیلئے قابل بھروسہ شخص کے انتخاب کی ہدایت درجۂ اعلیٰ کیلئے (۵۰) درجہ اوسط کیلئے (۴۰) اور درجہ ادنیٰ کیلئے (۳۰) نمبر حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
۲۹۸
؍؍ ۵۷۹۶
۵۷۹۷ ۲۷۔امرداد ۱۳۳۲؁ف امتحان کی تاریخ ممالک محروسہ سرکار عالی میں ایک ہی مقرر ہے۔ ۲۵۰
رزولیوشن
۳؍۱۱ ۱۱۔فروروی ۱۳۲۰؁ف امام مسجد موذن ملا پر امتحان مذہبی لازم ہوگا جب تک کوئی اہل خدمات امتحان کی سند پیش نہ کرے خدمت پر بحال نہ ہوگا اور اگر وہ امتحان میں کامیاب نہ ہو تو اس کی جگہ نائب مقرر کردیا جائے گا۔
۳۰۶
فصل (۲)
امتحان ائمہ و موذنین بلدہ
اعلان ؍؍ یکم مہر ۱۳۲۱؁ف بلدہ کے ائمہ و موذنین مدرسہ نظامیہ میں امتحان دے کر سند حاصل کریں۔ ۱۵
مراسلہ ۲۲۹۱ ۱۵۔فروردی ۱۳۲۵؁ف پیش امام موذن کا امتحان لینے کے بعد سند کامیابی دینے کی مدرسہ نظامیہ کو ہدایت۔ ۹۰
اعلان ۔ ۹۔ تیر ۱۳۲۵؁ف ائمہ و موذنین کو امامت اور چند سورے حفظ کراکے امتحان دینے کی ہدایت۔ ۹۱
؍؍ ۴۶۷ ۳۰۔آذر ۱۳۲۷؁ف خدمات ملاگری کا امتحان محکمۂ صدارت میں ہونے کا اعلان اور بعد کامیابی کامیاب شدہ کا نام درج رجسٹر کرنے کی ہدایت۔ ۱۲۷
فصل (۳)
امتحان غسالان بلدہ
اعلان ۶۸۹۴ ۲۲۔ آبان ۱۳۲۵؁ف بلدہ کے غسالوں کو رسالہ غسل و تجہیز و تکفین حاصل کرنے اور مفتی صاحب کو امتحان لینے اور بعد کامیابی امتحان سند محکمۂ صدارت العالیہ میں پیش کرنے کی ہدایت۔ ۹۲
؍؍ ۳۱۹۳ ۲۲۔ خورداد ۱۳۳۱؁ف معلم و معلمہ غسالان کے تقرر کی اطلاع غسالوں کو تعلیم پانے کی ہدایت اور جو لوگ کامیاب ہوں گے ان کو علاوہ سند کے برنجی بلہ دینے کی اطلاع۔ ۲۲۱
اعلان ۳۳۴۶ ۱۴۔ امرداد ۱۳۳۳؁ف امتحان غسالان میں کامیاب شدہ مرد عورتوں کو برنجی بلہ دئے جانے کی اطلاع اور عوام الناس کو ناواقف جاہل غسالوں سے کام لینے کی امتناع۔ ۲۷۷
؍؍ ؍؍ ۳۰۔ آبان ۱۳۳۳؁ف غیر تعلیم یافتہ غسالوں کو تعلیم پانے کی ہدایت۔ ۲۸۱
باب نہم
تحفظ آداب اسلام و پابندی احکام شرعیہ 
فصل (۱)
ارکان اسلام
گشتی ۸ یکم اردی بہشت ۱۳۳۱؁ف اہل خدمات شرعیہ کا فرض ہے کہ اپنے اپنے مستقر میں مسلمانوں کو نماز پنجگانہ و نماز جمعہ ادا کرنے کی ہدایت کیا کریں۔ ۱۹۶
اعلان ۱۶۷۸ یکم خورداد ۱۳۲۸؁ف آداب نماز جمعہ کے ضروری مسائل۔ ۱۴۷
؍؍ ۳۵۴۱ ۲۵۔مہر ۱۳۲۹؁ف نماز استسقاء ادا کرنے کا طریقہ ۱۶۸
؍؍ ۳۸۷۵ ۳۵۔ خورداد ۱۳۳۳؁ف ائمہ مساجد کو امامت کے وقت فرض نمازوں میں خلاف احکام شرع شریف طویل قرأت پڑھنے کی ممانعت۔ ۲۷۱
؍؍ ۔ ۱۳۲۷؁ف مسلمانوں کو بے حرمتی ماہ صیام کے ارتکاب سے روکنے اور ماہ مبارک کی حرمت و آداب کا لحاظ رکھنے کی ہدایت۔ ۱۲۶
گشتی ۱۱ ۳۰۔شہریور ماہ صیام میں خرافات اور لہولعب کے کام کرنے کی ممانعت ۱۱۸
اعلان ۲۰۸۹ ۲۶۔ ؍؍ ۱۳۲۸؁ف اضلاع کے مسلمانوں کو ماہ صیام کی پابندی کی ہدایت اور مسلمان سیندھی وشراب فروشوں کو ماہ صیام میں دن کے وقت علانیہ فروخت کرنے کی ممانعت ۱۴۹
گشتی ۹ ۱۸۔مہر ۱۳۲۸؁ف احکام ماہ صیام کی خلاف ورزی کی پاداش میں اہل خدمات شرعیہ کو سزاء اور تجویز نافذ کرنے کی ممانعت ۱۳۸
اعلان ۲۲۶۶ ۱۳۔ تیر ۱۳۲۹؁ف ماہ صیام میں مسلمانوں کو سیندھی و شراب خواری سے احتراز کرنے کی ہدایت اور مسلمانان ملک سرکار عالی کو احکام ماہ صیام کی حرمت کے متعلق پابندی کرنے کی تاکید۔ ۱۶۶
اعلان ۴۲۲۸ ۶۔ خورداد ۱۳۳۰؁ف ماہ صیام میں ہوٹل والوں کو دن میں علانیہ کھلانے کی ممانعت اور مسکرات فروشوں کو سیندھی اور شراب فروخت کرنے کی ممانعت ۱۸۲
؍؍ ۲۶۳۷ ۲۸۔اردی بہشت ۱۳۳۱؁ف ماہ صیام میں عقد ہو تو بجائے صبح کے شام میں کھانا کھلانیکی ہدایت اور ہوٹلوں اور شراب خانوں کو مستور رکھنے سگریٹ و بیڑی کا استعمال راستوں اور دفاتر مدارس میں نہ ہونے کی ممانعت۔ ۲۱۸
؍؍ ۴۰۰۵ ۲۷۔فروردی ۱۳۳۲؁ف ماہ صیام کا نظام الاوقات افطار و سحر بنانے والوں کو محکمہ صدارت العالیہ میں درخواست کرنے کی ہدایت اور اس کی اشاعت کا انتظام۔ ۲۴۷
اعلان ۴۰۰۸ ۲۷۔فروردی ۱۳۳۲؁ عوام الناس کو پابندی آداب ماہ صیام کی ہدایت اور عہدہ داران سرکاری و پولیس اور قضاۃ کو نگرانی رکھنے کی تاکید۔ ۲۴۸
؍؍ ۲۴۵۵ ۷۔اردی بہشت ۱۳۳۳؁ف حرمت و آداب ماہ صیام ملحوظ رکھنے کی ہدایت ۲۷۰
؍؍ ۲۶۳۶ ۳۰۔فروردی ۱۳۳۴؁ف منجملہ پانچ ارکان دین کے جن پر اسلام قائم ہے ایک رکن عظیم روزہ ہے روزہ کا رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کی حرمت و آداب کی نگہداشت ہر مسلمان کے ذمہ واجب و لازم ہے۔ ۲۹۹
گشتی ۱۳ ۱۶۔تیر ۱۳۳۱؁ف خیرات و صدقات کا حقیقی مصرف اور گداگری کے متعلق دین اسلام کے احکام۔ ۲۰۴
فصل (۲)
انسداد نکاح محارم
گشتی ۵ ۹۔شہریور ۱۳۲۵؁ف قضاۃ کو چاہیے کہ اپنے علاقہ کے قاری النکاح و ملاؤں کو حرام رشتے یاد دلایا کریں۔ ۸۴
؍؍ ۶ ۲۸۔تیر ۱۳۲۷؁ف اعلان محارم نکاح کی تقسیم اور اس کی تفہیم و تعلیم کس طرح عمل میں آئی اس کی اطلاع دینے کی ہدایت۔ ۱۱۵
اعلان ۸۔آذر ۱۳۲۹؁ف کوئی مسلمان مرد کسی ایسی عورت سے دانستہ نکاح کرے جو شرع شریف کے احکام کی رو سے اس پر حرام ہو اس کو قید کی سزا دی جائے گی۔ ۱۶۴
فصل (۳)
احترام اوراق متبرکہ
۱۵۔آذر ۱۳۱۷؁ف کاغذات مقدس کو ردی میں فروخت کرنے اور اس کو راستوں میں بے احتیاطی سے پامال کرنے کی ممانعت اور بصورت خلاف ورزی کے مرتکب مستوجب تدارک قرار دیا گیا ہے۔
اعلان ۴۱۴۷ ۲۱۔مہر ۱۳۲۷؁ف کوئی متبرک کاغذ کسی کو ایسی حالت میں مل جائے جس سے بے حرمتی ہوتی ہو تو وہ محکمۂ صدارت العالیہ میں بھیج دیا جائے ورنہ وہ شخص جس کو ایسا کاغذ ملے اور وہ اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے جرمانہ کا مستوجب ہوگا۔ ۱۲۵
مراسلہ ۲۹۲۱
۲۹۲۲ ۲۳۔شہریور ۱۳۲۸؁ف اردوردی کے کاغذات بنئے بقال کے ہاتھ فروخت کرنے کی ممانعت اور اُن کو صدارت العالیہ میں داخل کرنے کا حکم ۱۵۱
گشتی ۵ ۲۶۔ بہمن ۱۳۲۹؁ف دفاتر اضلاع کی ردی کاغذات تعلقداری ضلع میں جمع کرنے اور مستقر ضلع پر ڈپو کا قیام اور ان کو فروخت کرنے کا انتظام۔ ۱۵۷
اعلان ۴۲۳۷ ۶۔خورداد ۱۳۳۰؁ف عوام الناس کو ردی کاغذات محکمۂ صدارت العالیہ میں بھیجنے کی ہدایت اور بصورت خلاف ورزی سزا ہوگی۔ ۱۸۵
گشتی ۵ ۵۔خورداد ۱۳۳۰؁ف اوراق کلام مجید کو مسلمان میت کی طرح پاک کپڑے میں لپیٹ کے دفن کرنے اور اضلاع سے بذریعہ ڈاک روانہ کرنے کی ہدایت۔ ۱۷۵
؍؍ ۱ ۱۹۔آذر ۱۳۳۱؁ف گشتیات نشان ۵؎ ۱۳۳۹؁ف و نشان ۵؎ ۱۳۳۰؁ف حسب الحکم سرکار جاری ہوئی ہیں۔ ۱۹۰
؍؍ ۹ ۱۳۔ خورداد ۱۳۳۱؁ف دفاتر موقوعہ مستقر ضلع کاڈپو دفتر ضلع اور دفاتر موقوعہ تحصیل کا ڈپو دفاتر تحصیل قرار دیئے گئے ہیں۔ ۱۹۸
گشتی ۲۱ ۱۸۔ آبان ۱۳۳۱؁ف دفاتر سرکاری میں اجتماع ردی کے لیے صنادیق رکھنے اور دفاتر موقوعہ بلدہ سے تھیلوں میں ردی کاغذات روانہ کرنے کی ہدایت۔ ۲۱۳
؍؍ ۲۲ ۲۷۔ آبان ۱۳۳۱؁ف اوراق متبرکہ نہ صرف دفتر ضلع میں ہی بلکہ دفاتر ڈویژن و تحصیلات میں ہی داخل کئے جاسکتے ہیں۔ ۲۱۳
مراسلہ ۵۲۶۱
۵۲۸۴ ۱۳۔ آبان ۱۳۳۱؁ف ردی کاغذات ہراج کرنے کا طریقہ ۲۲۴
گشتی ۱۰ ۱۴۔ خورداد ۱۳۳۱؁ف ردی کاغذات کی قیمت کے جمع کرنے اور حساب رکھنے کا طریقہ۔ ۲۰۰
اعلان ۵۶۶۲ ۲۷۔ آبان ۱۳۳۱؁ف اضلاع میں جو اوراق دستیاب ہوں وہ قریب تر دفاتر ضلع یا تحصیل یا ڈویژن میں داخل کئے جاسکتے ہیں۔ ۲۲۶
گشتی ۶ ۱۰۔ شہریور۔۱۳۳۴؁ف ایسے مقامات کے ردی کاغذات جہاں کارخانہ کاغذ سازی نہیں ہیں وہاں کی ردی بعد وزن دفن کردی جاسکتی ہے۔ ۲۹۱
اعلان ۴۲۵۶ ۱۰۔ شہریور ۱۳۳۴؁ف ایسی دیواروں پر جہاں بے حرمتی ہوتی ہو اعلانات چسپاں کرنے کی ممانعت۔ ۲۸۹
باب دہم
فصل (۱)
انتظام تشہیر رویت ہلال
گشتی ۲۴۱ ۱۹۔آبان ۱۳۱۹؁ف عہدہ داران اضلاع کو لازم ہوگا کہ بفور رویت بموجب شرع شریف و معتبر گواہوں کی شہادت قلمبند کرکے اسی وقت تختہ رویت صدارت العالیہ میں روانہ کریں۔ شعبان و رمضان و ذیقعدہ و ذیحجہ کی ۲۹۔ تاریخ کو بفور رویت بعد اخذ شہادت ذریعہ (باکس پریس)تار مستقر ضلع سے صدارت العالیہ کو اطلاع دینا چاہیے۔ ۱۲
گشتی ۷ ۵۔فروردی ۱۳۲۲؁ف جس مقام پر (۲۹) تاریخ چاند نہ ہو اس کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں البتہ چاند ہونے کی صورت میں فوراً اطلاع دینا چاہیے۔ ۲۲
مراسلہ محکمہ سرکار ۱۸۴۱ یکم۔شہریور ۱۳۲۴؁ف جن مقامات میں مشہود رویت بسواری ریل صبح تک بلدہ پہنچ جاسکیں وہاں کے عہدہ داروں کو لازم ہوگا کہ وہ مسلمان گواہوں کے اظہارات کسی مسلمان عہدہ داران عدالت کے روبرو لے کے ذریعہ مراسلہ اصل اظہارات شہود مع شہود چپراسی کے ساتھ اسی رات کو ریل پر سوار کرکے بلدہ روانہ کردیا کریں۔ ۳۱۱
مراسلہ ۱۱۳۳ ۲۹۔ اسفندار ۱۳۲۸؁ف رویت ہلال کی اطلاع دہی میں جو مصارف عائد ہوں گے وہ ہر ضلع یا ضلع کے ڈویژن و تعلقات میں جہاں جیسی ضرورت ہو بحکم صاحب ضلع سال تمام میں صرف کئے جاسکتے ہیں۔ ۱۴۵
باب یازدہم
متفرقات
فصل(۱)
منظوری رقم برائے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
مراسلہ ۷۹۸ ۱۱۔دی ۱۳۳۱؁ف جشن میلاد مبارک منانے کی غرض سے گلبرگہ شریف ورنگل و اورنگ آباد کے لیے فی صوبہ تین سو روپیہ سالانہ صوبہ پٹن چیرو اور ہر ضلع کے لیے ایک ایک سو روپیہ سالانہ کی منظوری۔ ۲۱۷
مراسلہ ۶۸۸
۶۸۹
۶۹۰ ۱۳۔ دی ۱۳۳۲؁ف برکات جشن مبارک ملک میں زیادہ اشاعت پذیر ہونے کی غرض سے (۱۳) ڈویژنوں اور ایک مستقر تحصیل لاتور میں بلحاظ آبادی بحساب فی ڈویژن (   ) سالانہ تقسیم کرنے کی منظوری۔ ۲۴۵
مراسلہ ۵۷۱ ۳۰۔ آذر ۱۳۳۲؁ف صوبہ داروں کی برخاست کی وجہ سے رقم جشن میلاد مبارک کی گنجائش جو برآمد ہوئی اس کو تقسیم کرنے کی منظوری کی اطلاع۔ ۲۴۴
مراسلہ ۳۳۰۷ ۲۶۔اسفندار ۱۳۳۲؁ف بقیہ رقم جشن میلاد مبارک سے اور چھ ڈویژنوں میں تقسیم کرنے کی منظوری۔ ۲۴۶
فصل(۲)
نکاحانہ عقود و خرچ سواری
گشتی ۱۲ ۵۔تیر ۱۳۲۳؁ف قضاۃ نکاح خوانی کا حق حسب حیثیت عاقدین لے سکتے ہیں۔ ۴۰
؍؍ ۴ ۵۔فروردی ۱۳۲۷؁ف سواری کا انتظام نہ ہو تو قاری النکاح کو خرچ سواری دینا ہوگا۔ ۱۱۳
؍؍ ۵ ۲۹۔ خورداد ۱۳۲۶؁ف رسوم نکاح قاضی یا نائب قاضی کو ملنا چاہیے۔ ۱۰۵
؍؍ ۴ ۲۳۔دی ۱۳۳۱؁ف نکاح ثانی میں مقررہ فیس نکاحانہ سے زائد وصول کرنے کی ممانعت ۱۹۲
؍؍ ۱۵ ۲۲۔ امرداد ۱۳۳۱؁ف بلدہ و اضلاع میں ہر جگہ حق نکاحانہ پانچ روپیہ مقرر کیا گیا ہے۔ ۲۰۵
؍؍ ۶ ۲۶۔دی ۱۳۳۲؁ف نکاحانہ و اخراجات صادر دفتر ہے برادری میں اس کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ ۲۳۳
؍؍ ۵ ۲۸۔ اردی بہشت ۱۳۳۲؁ف لوگ جو فواحش میں مبتلا ہوں نکاح کرلینے رضامند ہوجائیں اور معافی نکاحانہ کی درخواست کریں تو ان سے نکاحانہ نہ لینا چاہیے۔ ۲۵۸
؍؍ ۸ ۹۔امرداد ۱۳۳۳؁ف حصہ قاری النکاح میں فیس نکاح خوانی بھی شریک ہے علیحدہ لیا جانا صحیح نہیں ہے۔ ۲۶۴
؍؍ ؍؍ ؍؍ اجازتی چھٹی نکاح کے اخراجات نکاحانہ ہی میں محسوب ہوں گے۔ ۲۶۴
؍؍ ؍؍ ؍؍ نکاحانہ اور خرچ سواری کے لینے میں غرباء کے ساتھ رعایت ہونی چاہیے۔ ۲۶۴
؍؍ ۱۰ ۱۲۔ آبان ۱۳۳۳؁ف نکاحانہ میں قاضی اور نائب قاضی کے حق کا تعین۔ ۲۶۷
؍؍ ۲ ۱۰۔ بہمن ۱۳۳۴؁ف زن و شوہر کے مشرف بہ اسلام ہونے کی اطلاع ملنے پر قاضی کا فرض ہے کہ بلا اخذ نکاحانہ تجدید عقد کی ضرورت پائی جائے تو تجدید کرے یا فسخ نکاح کی ضرورت ہو تو زوجین کو علیحدہ رہنے کی ہدایت کرکے محکمہ صدارت العالیہ میں اطلاع دے۔ ۲۸۶
فصل (۳)
اصلاح طریقۂ استعمال خلعت عیدین
گشتی ۱۹ ۷۔شہریور ۱۳۳۱؁ف رقم خلعت عیدین سے یا بندۂ خلعت کو ہر دس سال میں شال اڑھانے کی ہدایت ۲۰۹
؍؍ ؍؍ ؍؍ اہل خدمات شرعیہ کی حاضری عیدین کے موقع پر عیدگاہ میں لازمی قرار دی گئی ہے۔ ۲۰۹
فصل (۴)
انتظام مسالخ بلدہ
اعلان ۱۲۳ ۹۔ دی ۱۳۲۲؁ف جو شخص اپنے پاس محکمۂ صدارت العالیہ کی سند نہ رکھتا ہو وہ ذبح گاوان و گو سفندان مسالخ کا مجاز نہ ہوگا۔ ۲۵
گشتی ۱۵ ۱۸۔تیر ۱۳۲۳؁ف اضلاع میں مسالخ کی تعمیر کا انتظام ۴۴
؍؍ ۸ ۲۷۔مہر ۱۳۲۵؁ف انتظام مسالخ اضلاع کے عملی نتائج سے اطلاع دینے کی ہدایت ۸۹
؍؍ ۱۶ ۲۶۔ امرداد ۱۳۳۱؁ف ملا کا حق فی گوسفند ۶؍ اور فی گاؤ ۱؍ مقرر کیا گیا ہے۔ ۲۰۷
فصل (۵)
ترتیب صدر فہرست اہل خدمات شرعیہ
مراسلہ ۲۵۹ شہریور ۱۳۲۱؁ف مطالبہ فہرست اہل خدمات شرعیہ۔ ۱۴
گشتی ۲ ۹۔بہمن ۱۳۲۲؁ف طلب فہرست مواضعات علاقہ قضاۃ ۱۸
؍؍ ۵ ۱۱۔ ؍؍  ؍؍ صاحبان اضلاع سے فہرست اہل خدمات شرعیہ کا مطالبہ ۲۰
؍؍ ۷ ۳۰۔ اسفندار ۱۳۲۳؁ف دفاتر تحصیل سے اہل خدمات شرعیہ کے معاشونکی رپورٹ کا مطالبہ۔ ۳۷
گشتی ۱۰ ۲۱۔اردی بہشت ۱۳۲۳؁ اہل خدمات شرعیہ کے ناموں اور مقام سکونت کی فہرست کا مطالبہ ۳۹
؍؍ ۱۸ ۱۸۔ تیر ۱۳۲۳؁ف اہل خدمات شرعیہ سے معاش کے تختہ کا مطالبہ ۴۸
؍؍ ۳ ۲۶۔تیر ۱۳۲۵؁ف ترتیب رپورٹ نظم و نسق کے لیے تختہ جات معاش کا مطالبہ ۸۳
؍؍ ۸ یکم مہر ۱۳۲۶؁ف صدر فہرست اہل خدمات شرعیہ کے لیے تختجات معاش کا مطالبہ ۱۰۷
؍؍ ۹ ۲۸۔ اردی بہشت ۲۹؁ف فہرست اہل خدمات شرعیہ تحقیق شدنی کا مطالبہ ۱۶۳
فصل (۶)
نکاح خوانی بلا اجازت قاضی
اعلان ۔ ۲۰۔ امرواد ۱۲۹۸؁ف بجز قاضی و نائب قاضی کے کوئی شخص نکاح خوانی کا اقدام کرے تو مستوجب سزا ہوگا۔ ۱
گشتی ۳ ۹۔بہمن ۱۳۲۲؁ف نکاح خوانی بلا اجازت قاضی یا نائب قاضی کی نسبت جو حکم سرکار ہے اس کی پابندی کی ہدایت۔ ۱۸
؍؍ ۱ ۳۔دی ۱۳۲۴؁ف مقدمات عقد خوانی بلا اجازت قاضی میں سزائے جرمانہ کی نسبت نظمائے مذہبی اضلاع کے اختیارات اور مرافعہ کے درجہ کا تعین ۶۴
؍؍ ۱۲ ۲۳۔ خورداد ۱۳۳۱؁ف بلدہ میں بلا اجازت قاضی نکاح پڑھانے والوں کو جرمانہ کرنے کا اختیار اور ان کے مرافعہ کی سماعت کا اقتدار ۲۰۳
؍؍ ۱۷ ۴۔شہریور ۱۳۳۱؁ف اول تعلقہ داروں کو ناکحین اور ان کے اولیا پر جرمانہ کرنے کا اختیار حسب فرمان بارگاہ خسروی جہاں پناہی عطا ہوا ہے۔ ۲۰۸
فصل (۷)
متفرق احکام
مراسلہ ۲۹ ۴۔دی ۱۳۱۸؁ف رود موسیٰ کی طغیانی کے مصیبت زدوں کی امداد کے واسطے باغ عامہ میں جلسہ کا انعقاد ۷
مراسلہ ۵۸ ۲۔بہمن ۱۳۱۸؁ف مصیبت زدگان طغیانی رود موسیٰ کی امداد کا دوسرا جلسہ۔ ۱۰
؍؍ ۵۶۱ ۱۵۔ دی ۱۳۲۴؁ف متولی اور سجادہ کا فرق۔ ۸۱
اعلان ۔ ۳۰۔ آبان ۱۳۲۴؁ف پھولوں کی خرید و فروخت کا نرخ مقرر کرنے اور نرخ گل محکمۂ صدارت العالیہ سے دریافت کرنے کی ممانعت۔ ۸۰
گشتی ۹ ۱۹۔شہریور ۱۳۲۷؁ف سپاہیان جنگ جو میدان جنگ میں ہوں اُن کی منگنیاں لوگ توڑیں نہ توڑائیں حکم شرع اور اپنے قراردادوں کا پاس و لحاظ رکھیں۔ ۱۱۷
؍؍ ۱۰ ۱۹۔شہریور ۱۳۲۷؁ف شوکت عثمانیہ کی ترتیب کیلئے فراہمی مواد کا انتظام۔ ۱۱۷
؍؍ ۱۹ ۲۶۔تیر ۱۳۳۳؁ف سرکاری اوزان ہر جگہ نہیں ہیں اس کے عام کرنے کی ہدایت۔ ۵۰
؍؍ ۲۰ ۲۶۔تیر ۱۳۲۳؁ف نئے بقالوں کو اوزان میزان کی تنقیح کرانے کی نسبت پٹیل پٹواری کو ہدایت۔ ۵۰
؍؍ ۷ ۲۵۔امرواد ۱۳۲۴؁ف تعدیل اوزان میزان کے مقدمات کا چالان منتظم پولیس کے پاس بھیجنے کی ہدایت۔ ۷۲
مراسلہ ۴۴۸۳ ۹۔مہر ۱۳۳۴؁ف پروانہ نو مسلم
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
(۱) مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ ؍ مراسلہ بنام مہاراجہ کشن پرشاد 
(۲) مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ ؍ مراسلہ بنام مہاراجہ کشن پرشاد 
(۳) مہاراجہ کشن پرشاد ؍مراسلہ تجویز بنام معتمد صاحب عدالت
(۴) مولانا مفتی محمد رکن الدین ؍ مطلع الانوار ، صفحہ نمبر ۲۴ ۔ ناشر جمعیت الطلبہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد  ۱۴۰۵؁ھ ، مانک راؤ وٹھل راؤ بستانِ آصفیہ، حصہ سوم ۱۷۲
(۵) مولانا مفتی محمد رکن الدین ؍ مطلع الانوار ، صفحہ نمبر ۲۴ ۔ ناشر جمعیت الطلبہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد  ۱۴۰۵؁ھ ، مانک راؤ وٹھل راؤ بستانِ آصفیہ، حصہ سوم ۱۷۲
(۶) مولانا قطب الدین انصاری؍ نورالانوار سوانح حیات حضرت شیخ الاسلام (قلمی)صفحہ نمبر ۷۸ ۔ مخزونہ مولانا سید شاہ راجو حسینی صاحب سجادہ نشین درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی رحمۃ اللہ علیہ، مصری گنج۔ حیدرآباد۔ 
٭٭٭
 
error: Content is protected !!