Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    الحمد للہ ربّ العلٰمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین أما بعد!
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ : نَضَّرَ اللَّہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہ، (سنن ابو داود وابن ماجۃ و ترمذی وغیرہا) یعنی اللہ عزوجل اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کر لیا یہاں تک کہ اسے (دوسروں تک) پہنچا دیا۔
    سبحان اللہ عزوجل حدیث کو سن کراسے یاد رکھنے والا پھر اسے آگے پہنچانے والا کس قدر خوش نصیب ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کن کی کنجی والی زبانِ اقدس سے اس کے لئے پھلنے پھولنے اور ترو تازہ رہنے کی دعا فرمارہے ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں بھی انکی دعاؤں سے حصہ عطا فرمائے ۔اٰمین۔
    یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر وہ بات جو حضور نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ و التسلیم کی طرف منسوب کر دی جائے وہ حدیث ہو یہ ضروری نہیں، اس لئے کہ علماء و محدثین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ حضور سید المعصومین علیہ الصلاۃ و التسلیم کی طرف بہت سی ایسی من گھڑت باتیں بھی منسوب کر دی گئی ہیں جو کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں اس قسم کی من گھڑت و نام نہاد احادیث کو اصطلاح میں احادیث ِموضوعہ کہتے ہیں۔لہذا معلوم ہوا کہ احادیث کو یا د کرنے اور انہیں آگے پہنچانے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ فی الواقع احادیث ہیں بھی یا نہیں ۔ اب یہ پہچان عموما دو ہی طریقوں سے ہوتی ہے ۔
(۱)۔۔۔۔۔۔معتبر ومستند علماء کے احادیث کو بیان کرنے سے چاہے زبانی بیان کرنے سے یا کتب و رسائل میں تحریراً بیان کرنے سے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ احادیث کو علمِ اصولِ حدیث کے ذریعے پرکھنے سے۔
    لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ احادیث کی صحت و سقم کو پرکھنے کا پہلا طریقہ بھی اسی دوسرے طریقے پر موقوف ہے اس لئے کہ علماء کا کسی حدیث کو صحیح یا موضوع فرمانا اسی علمِ اصولِ حدیث کے ذریعے ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس علم یعنی علمِ اصولِ حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے ۔
    اِنَّہ، مِنْ فُرُوْضِ الْکِفَایَۃِ اِذَا قَامَ بِہِ الْبَعْضُ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِیْنَ فَاِنْ فَرَطَتْ فِیْہِ الْأُمَّۃُ أَثِمَتْ کُلُّہَا۔
    یعنی یہ علم فرض کفایہ علوم میں سے ہے اگر بعض نے اسے حاصل کر لیا تو باقی لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہو جائے گی اور اگر پوری امت نے اس میں لا پرواہی کی توساری کی ساری گناہگار ہو گی۔ 
     علمِ اصولِ حدیث کی اسی اہمیت و افادیت کے پیش نظر تبلیغِ قرآن و سنت کی عالم گیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کی مجلس ”المدینۃ العلمیۃ” کے ”شعبہ درسی کتب” نے یہ مختصر رسالہ بنام” نصابِ اصولِ حدیث” پیش کرنے کی سعی کی ہے۔اسے مرتب کرنے میں زیادہ تر دو کتب ”نزھۃ  النظر شرح نخبۃ الفکر” اور” تیسیر مصطلح الحدیث” کو مدِ نظر رکھا گیا ہے گویا کہ یہ ان دونوں کتابوں کا خلاصہ ہے، تا کہ اگلے درجے میں طلبہ کو یہ کتب سمجھنے میں قدرے آسانی ہو۔
    ہماری اس سعی میں اگر اہلِ علم کتابت کی یا فنی و شرعی غلطی پائیں تو مجلس کو تحریراً مطلع فرما کر مشکور ہوں۔
    اللہ عزو جل سے دعا ہے کہ وہ علماء اہلسنت کا سایہ عاطفت ہمارے سروں پر تا دیر قائم رکھے اور ہمیں ان کے فیوض و برکات سے مستفیض و مستنیر فرمائے نیز تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس”المدینۃ العلمیۃ” کو دن گیارہویں رات بارہویں ترقی و عروج عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم
شعبہ درسی کتب
                  مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)
error: Content is protected !!