Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سُرمہ لگائی کی رَسْم

سُرمہ لگائی کی رَسْم

شادی کے موقع پر “ سُرمہ لگائی “ کے نام سے بھی ایک رَسْم کی جاتی ہے۔ سُرمہ لگانا تو نہ صرف جائز ہے بلکہ ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  کی نہایت ہی پیاری پیاری سنّت ہے۔ لیکن افسوس!فی زمانہ اس کو شادی بیاہ میں گُناہ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے وہ اس طرح کہ جب دُولھا نہا دھوکر تیار ہوجاتا ہے اور بارات روانہ  ہونے والی ہوتی ہے تو اس وقت دولہے کی بھابھی اس کی آنکھوں میں اپنے ہاتھوں سے سُرمہ لگاتی ہے ، حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے نامَحْرَم ہیں ، عورت کا اس طرح  نامَحْرَم کو چھونا جائز نہیں ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اجنبی جوان عورت کو جوا ن مرد کے ہاتھ پاؤں چھونا  جائز نہیں اگر چہ(وہ مرد اس عورت کا)پِیر ہو۔ (1)
________________________________
1 –   فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۲۴۵
error: Content is protected !!