Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کھوسٹ عمر والا

انسان کی وہ طویل عمر جس میں انسان کے تمام قویٰ مضمحل اور بیکار ہوجاتے ہیں اور آدمی بالکل ہی ناقص القوۃ، کم عقل اور قلیل الفہم ہو کر بچپن کی ہیئت کے مثل عقل و دانائی اور ہوش و خرد سے عاری اور نسیان کے غلبہ سے سارا علم بھول جاتا ہے اور اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے سے مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمر انسانی کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
وَاللہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمْ ۟ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْـًٔا ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪70﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری جان قبض کریگا اور تم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے بیشک اللہ سب کچھ جانتا سب کچھ کرسکتا ہے۔
اس ”ارذل العمر” کی کوئی مقدار معین نہیں ہے، تاریخی تجربہ ہے کہ بعض لوگ ساٹھ ہی برس کی عمر میں ایسے ہوجاتے ہیں کہ بعض لوگ ایک سو برس کی عمر پاکر بھی کھوسٹ عمر کی منزل میں نہیں پہنچتے۔ ہاں امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ نوے برس کی عمر والے کے تمام قویٰ اور حواس عمل و تصرف سے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور وہ ہر قسم کی کمائی اور حج و جہاد وغیرہ کے قابل نہیں رہ جاتے اور یہ عمراور اس کی کیفیات واقعی اس قابل ہیں کہ انسان اس سے خدا کی پناہ مانگے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے اور یوں دعا مانگا کرتے تھے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ وَاَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ  (صحیح البخاری،ج۳،ص۲۵۷،حدیث۴۷۰۷بتغیرقلیل )
اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں کنجوسی سے اور کاہلی سے اور کھوسٹ عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور فتنہ دجال سے اور زندگی کے فتنے سے اور موت کے فتنے سے۔
اسی لئے منقول ہے کہ مشہور بزرگ اور مستند عالم دین حضرت محمد بن علی واسطی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات کے لئے خاص طور پر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
یَا رَبِّ لاَ تُحْیِنِیْ اِلٰی زَمَنٍ اَکُوْنُ فِیْہِ کَلاَّ عَلٰی اَحَدٍ
  خُذْ بِیَدِیْ قَبْلَ اَنْ اَقُوْلَ لِمَنْ اَلْقَاہُ عِنْدَ الْقِیَام خُذْ بِیَدِیْ
یعنی اے اللہ!مجھے اتنے زمانے تک زندہ مت رکھ کہ میں کسی پر بوجھ بن جاؤں تو اس سے قبل میری دست گیری فرمالے کہ میں ہر ملنے والے سے اٹھتے وقت یہ کہوں کہ تم میرا ہاتھ پکڑلو۔
حدیث شریف میں ہے اور بعض لوگوں نے اس کو حضرت عکرمہ کا قول بتایا ہے کہ جو شخص قرآن کو پڑھتا رہے وہ ارذل العمر(کھوسٹ)کو نہ پہنچے گا اور ایسے ہی جو قرآن میں غوروفکر کرتا رہے گا اور قرآن پر عمل بھی کرتا رہے گا وہ بھی اس کھوسٹ عمر سے محفوظ رہے گا۔
(تفسیر روح البیان،ج۵،ص ۵۴۔۵۵ (ملخصاً)،پ۱۴، النحل:۰ ۷)
درسِ ہدایت:۔زندگی اور موت اور کم یا زیادہ عمر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ و اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے کم عمر عطا فرمائے جس کو چاہے طویل عمر بخشے۔ کسی انسان کو ہرگزہرگز اس میں کوئی دخل نہیں ہے انسان کو چاہے کہ بہرحال خداوند قدوس کی مرضی پر صابر و شاکر رہے۔ ہاں البتہ یہ دعا مانگتا رہے کہ اللہ تعالیٰ میری زندگی کو نیکیوں میں گزارے اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھے کیونکہ تھوڑی سی عمر ملے اور نیکیوں میں گزرے تو اس سے بڑا کوئی انعام نہیں اور عمر طویل پائے مگر حسنات اور نیکیوں میں نہ گزرے تو وہ لمبی عمر بہت بڑا خسارہ اور وبال ہے اور اس کا ہر وقت دھیان رکھے کہ کسی بوڑھے شخص کی بے ادبی نہ ہونے پائے بلکہ ہمیشہ بوڑھوں کا اعزاز و احترام پیش نظر رہے، کیونکہ
     ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے دربار رسالت میں فقر و فاقہ کی شکایت کی، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَعَلَّکَ مَشَیْتَ اَمَامَ شیْخ یعنی غالباً تم کسی بوڑھے آدمی کے آگے آگے چلے ہو گے۔ یہ اسی کی نحوست ہے۔
      (تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۵۶،پ۱۴، النحل:۷۰)
error: Content is protected !!