Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حجِ مبرور کی فضیلت

 (48)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے دریافت کیا گیا:”کونساعمل افضل ہے؟”توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ايمان لانا۔” عرض کی گئی:”پھر کون سا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل کی راہ ميں جہاد کرنا۔” عرض کی گئی:”پھر کون سا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”حج مبرور۔” (يعنی وہ حج جس ميں احرام باندھنے سے کھولنے تک کوئی صغيرہ گناہ بھی سرزدنہ ہو۔)  ( صحیح البخاری ،کتاب الایمان ، باب من قال ان الایمان ھو العمل ،الحدیث: ۲۶، ص ۴)
 (49)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے حج کيا پھر اس ميں کوئی فحش کام کيا نہ کوئی گناہ کيا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگيا جيسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔”
 ( صحیح البخاری،ابواب المحصر،باب قول اللہ عزوجل( فلا رفث) الحدیث: ۱۸۱۹/۱۸۲۰، ص ۱۴۲،’خرج’ بدلہ ”رجع” وبدون” ذنوبہ”)
error: Content is protected !!