Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

میراث:

    اسلامی قانون میں مسلمانوں کی ساری اولا دیعنی لڑکے لڑکیاں اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے مال سے میراث لیتے ہیں ۔ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملتاہے مگر ہندوؤں آریوں کے دھرم میں لڑکی باپ کے مال سے محروم ہوتی ہے ۔ اورسب مال لڑکا ہی لیتاہے یہ صاف ظلم ہے ۔ جب دونوں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں تو ایک کو میراث دینا اورایک کونہ دینا اس کے کیا معنی ؟ لیکن کاٹھیاواڑاورپنجاب کے مسلمانوں نے اپنے لیے یہ ہندوانی قانون قبول کیا ہے ۔ اورحکومت کو لکھ کر دے دیاہے کہ ہم کو ہندوانی قانون منظورہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم زندگی میں تو مسلمان ہیں اورمرنے کے بعد نعوذباللہ ہندو۔ یادرکھو قیامت میں اس کا جواب دینا پڑے گا ۔ 
    اگر اسلام کے اس قانون سے ناراضی ہے تو کفر ہے اوراگر اس کو حق جان کر اس پر عمل نہ کیا تو حق تلفی اور ظلم ہے ۔ لڑکے تم کو کیا بخش دیتے ہیں اورلڑکیا ں کیا چھین لیتی ہیں ؟ جب تم مرہی گئے تو اب تمہارا مال کوئی بھی لے تم کو کیا ؟تم بیٹے کی محبت میں اپنی آخرت کیوں تباہ کرتے ہو؟تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ لڑکی تمہارا مال برباد کردے گی ۔ ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ اپنے باپ کی چیز کا درد جتنا لڑکی کوہو تا ہے اتنا لڑکے کو نہیں ہوتا۔ ایک جگہ لڑکو ں نے اپنے باپ کا مکان فروخت کیا لڑکے تو خوشی سے فروخت کر رہے تھے مگر لڑکی بہت روتی چلاتی تھی کہ یہ میرے مَرے باپ کی نشانی ہے ۔ اس کو دیکھ کر اپنے باپ کو یاد کرلیتی ہوں میں اپنا حصہ فروخت نہ کروں گی ۔ اس کے رونے سے دیکھنے والے بھی رونے لگے اوربڑھاپے میں جتنی ماں باپ کی خدمت لڑکی کرتی ہے اتنی خدمت لڑکا نہیں کرتا۔ پھراس غریب کو کیوں محروم کرتے ہو؟ لڑکے تو مرنے کے بعد قبر پر فاتحہ کو بھی نہیں آتے لہٰذاضروری ہے کہ لڑکی اور لڑکے کو پوراحصہ دو ۔ کاٹھیاواڑمیں ایک قوم ہے جو آغاخوانی خوجہ ۔اگر ان کے دو بیٹے ہوں تو ایک کا نام قاسم بھائی اوردوسرے کا نام رام لعل یا مول جی اورکہتے ہیں کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں کی بخشش ہوئی تو قاسم بھائی بخشوالے گا اور اگر ہندوؤں کی نجات ہوئی تو رام لعل ہاتھ پکڑے گا۔ کیا یہ ہی ہم نے بھی سمجھ رکھا ہے کہ زندگی میں اسلامی کام کریں اورمیراث میں ہندوؤں کے قانون اختیار کریں تاکہ دونوں قومیں خوش رہیں؟


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اگر مسلمانوں کو یہی فکر ہے کہ ہماری اولاد ہمارا مال برباد کردے گی تو چاہیے کہ اپنی جائیداد مکانات دوکانیں وغیرہ اپنی اولاد پر وقف کریں ۔ اس کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ ہمارے بعد ہماری اولاد ہماری جائیداد اورمکانات سے ہر طرح نفع اٹھائے اوراس میں رہے ۔ اس کا کرایہ کھائے اورحصہ رسد کرایہ کو آپس میں تقسیم کرے مگر اس کو رہن (گروی)نہ کرسکے ۔ اس کو بیچ نہ سکے ۔ اس سے ان شاء اللہ عزوجل! تمہاری جائیداد اورمکانات محفوظ ہوجائیں گے کسی کے ہاتھ فروخت نہ ہوسکیں گے اور تم گناہ سے بھی بچ جاؤ گے ۔ اگر مسلمان اس قانون پر عمل کرتے تو  آج ان کی جائیدادیں ، ہندوؤں کے پاس نہ پہنچ جاتیں۔ وقف علی الاولادکرنے کا طریقہ کسی عالم سے پوچھ لینا چاہیے اورمیراث کے لیے ہم نے ایک کتاب اردوزبان میں لکھ دی ہے جس کا نام ہے ”علم المیراث” اس کا مطالعہ کرو۔
error: Content is protected !!