Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قریش کے دو سفر

مکہ مکرمہ میں نہ کاشت کاری ہوتی تھی نہ وہاں کوئی صنعت و حرفت تھی۔ پھر بھی قبیلہ قریش کے لوگ کافی خوشحال اور صاحب ِ مال تھے اور خوب دل کھول کر حاجیوں کی ضیافت اور مہمان نوازی کرتے تھے۔ قریش کی خوشحالی اور فارغ البالی کا راز یہ تھا کہ یہ لوگ ہر سال دو مرتبہ تجارتی سفر کیا کرتے تھے۔ جاڑے کے موسم میں یمن اور گرمی کے موسم میں شام کا سفر کیا کرتے تھے اور ہر جگہ کے لوگ انہیں اہل حرم اور بیت اللہ شریف کا پڑوسی کہہ کر ان لوگوں کا اکرام و احترام کرتے تھے اور ان لوگوں کے ساتھ تجارتیں کرتے تھے اور قریش ان تجارتوں میں خوب نفع اٹھاتے تھے۔ اور ان لوگوں کے حرم کعبہ کا باشندہ ہونے کی بناء پر راستہ میں ان کے قافلوں پر کسی قسم کی رہزنی اور ڈکیتی نہیں ہوا کرتی تھی۔ باوجودیکہ اطراف و جوانب میں ہر طرف قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا کرتا تھا۔ قریش کے سوا دوسرے قبیلوں کے لوگ جب سفر کرتے، تو راستوں میں ان کے قافلوں پر حملے ہوتے تھے اور مسافر لوٹے مارے جاتے تھے اس لئے قریش جس طرح امن و امان کے ساتھ یہ دونوں تجارتی سفر کرلیا کرتے تھے دوسرے لوگوں کو یہ امن و امان نصیب نہیں تھا۔
          (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۴۔۱۰۸۹، پ۳۰، قریش:۱ تا ۴)
اللہ تعالیٰ نے قریش کو جو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی تھیں ان میں سے خاص طور پر ان دو تجارتی سفروں کی نعمت کو یاد دلا کر ان کو خداوند قدوس کی عبادت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿1﴾اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿2﴾فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الْبَیۡتِ ۙ﴿3﴾الَّذِیۡۤ اَطْعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنْ خَوْفٍ ٪﴿4﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اس لئے کہ قریش کو میل دلایا ان کی جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ میں میل دلایا تو انہیں چاہے اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا۔ (پ30،قریش:1۔4)
ان لوگوں کو بھوک میں کھانا دیا یعنی ان دونوں تجارتی سفروں کی بدولت ان لوگوں کے معاش اور روزی کا سامان پیدا کردیا اور ان کے قافلوں کو لوٹ مار سے امن و امان عطا فرمایا۔ لہٰذا ان لوگوں کو لازم ہے کہ یہ لوگ رب کعبہ کی عبادت کریں جس نے ان لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہے نہ کہ یہ لوگ بتوں کی عبادت کریں جنہوں نے ان لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا۔
درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اپنی دو نعمتوں کو یاد دلاکر بت پرستی چھوڑنے اور اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ اس سورۃ میں اگرچہ خاص طور پر قریش کا ذکر ہے مگر یہ حکم تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہے کہ لوگ خدا کی نعمتوں کو یاد کریں اور نعمت دینے والے خدائے واحد کی عبادت کریں اور بت پرستی سے باز رہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
error: Content is protected !!