Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

آگ کا ہاراورآگ کی بالیاں:

(42)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے قيامت کے دن اس کے گلے ميں ويسا ہی آگ کا ہار پہنايا جائے گا اور جو عورت کانوں ميں سونے کی بالياں ڈالے گی (اور اُن کی زکوٰۃ ادا نہ کرے گی)توقيامت کے دن اس کے کانوں ميں ويسی ہی آگ کی بالياں ڈالی جائيں گی۔” (المرجع السابق،الحدیث: ۴۲۳۸،ص۱۵۳۱)
(43)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کوآگ کاچھلاپہنايا جائے تووہ اسے سونے کا چھلا پہنائے اور جو يہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کو آگ کا ہارپہناياجائے تووہ اُسے سونے کاہار پہنائے اورجويہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کو آگ کے کنگن پہنائے جائيں تووہ اُسے سونے کے کنگن پہنائے ليکن تم مردوں کے لئے چاندی جائز ہے پس اسے استعمال کرو۔”
   (المرجع السابق،الحدیث: ۴۲۳۶،ص۱۵۳۰)
    ہمارے(یعنی شوافع)کے نزدیک یہ اور ان کی ہم معنی دوسری احادیثِ مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہيں کہ عورتوں کے لئے زيورات ابتدائے اسلام ميں حرام تھے،پھران زیورات پرزکوٰۃ واجب ہوئی ياان سے مرادیہ ہے کہ عورتیں بہت زیادہ زیورات استعمال کرتیں تھیں اور جب زيورات ميں(نصاب کو پہنچنے والی)زیادتی ہو تواس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ ۱؎ اسی طرح اگران زيورات کا استعمال مکروہ ہوتو یہی حکم ہے مثلاً آرائش کے لئے چھوٹی چیزبنانایاکسی ضرورت کے تحت بڑی چیزبنانا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(44)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے پہلے جہنم ميں داخل ہونے والے تین افراد يہ ہيں: (۱)زبردستی مسلَّط ہو جانے والاحکمران (۲)وہ مال دار جو اپنے مال سے اللہ عزوجل کا حق ادا نہيں کرتا اور (۳)متکبر فقير۔”
 (المصنف لابن ابی شیبۃ ،کتاب الاوائل،باب اول مافعل ومن فعلہ،الحدیث:۲۳۷،ج۸،ص۳۵۱)
 (45)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں :”جس کے پاس اتنامال ہو کہ وہ بیت اللہ شریف کاحج کر سکے اورحج نہ کرے يا اس پر زکوٰۃ واجب ہو جائے اور وہ اس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو وہ موت کے وقت واپسی کی تمنا کریگا۔” ايک شخص نے کہا: ”اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما! اللہ عزوجل سے ڈریں، واپسی کی تمنا تو کفار کريں گے۔” حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے ارشاد فرمايا :”ميں ابھی تمہيں قرآن کریم سناتا ہوں،اللہ عزوجل فرماتا ہے :
وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقْنٰکُمۡ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿10﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہمارے دئيے ميں سے کچھ ہماری راہ ميں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم ميں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے ميرے رب !تو نے مجھے تھوڑی مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ ميں صدقہ دیتا اور نيکوں ميں ہوتا۔(پ28،المنافقون:10) (جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن ، باب سورۃ المنافقون،الحدیث: ۳۳۱۶،ص۱۹۹۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    منقول ہے کہ تابعين کی ايک جماعت حضرت سيدنا ابو سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زيارت کے لئے گئی، جب يہ جماعت ان کی خدمت ميں حاضر ہو کر بيٹھ گئی تو انہوں نے ارشاد فرمايا :”ہمارے ساتھ چلو ہم اپنے ايک پڑوسی سے ملنے جا رہے ہيں، اس کے بھائی کا انتقال ہو گيا ہے اس سے تعزيت بھی کر ليں گے۔” محمد بن يوسف فريابی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :”ہم ان کے ساتھ چل دئيے جب اس شخص کے پاس پہنچے تو اسے اپنے بھائی پر بہت زیادہ گريہ و زاری کرتے اور روتے ہوئے پايا، ہم اس سے تعزيت کرنے لگے اور تسلی دينے لگے مگر اس پر تعزيت اور تسلی کا کوئی اثر نہ ہوا ہم نے اس سے پوچھا :”کيا تمہيں معلوم نہیں ہے کہ موت سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہيں؟” اس نے کہا :”کيوں نہيں! مگر ميں تو اس عذاب پر رو رہا ہوں جو ميرے بھائی کو صبح و شام ہوتا ہے۔” ہم نے پوچھا :”کيا اللہ عزوجل نے تمہيں غيب پر مطلع فرمايا ہے؟” اس نے کہا :”نہيں! مگر جب ميں نے اسے دفنايا اور قبر کی مٹی برابر کر دی اور لوگ واپس پلٹ آئے تو ميں اس کی قبر کے پاس بيٹھ گيا، اچانک اس کی قبر سے یہ آواز آئی وہ کہہ رہاتھا:”آہ! لوگ عذاب کا سامنا کرنے کے لئے مجھے تنہا چھوڑ گئے حالانکہ ميں روزے رکھتا اور نماز پڑھا کرتا تھا۔”     پھروہ شخص کہنے لگا :”اس کی بات نے مجھے رلا ديا، پھر ميں نے اس کی حالت ديکھنے کے لئے قبرسے مٹی ہٹائی تو قبر ميں آگ کو دہ کتے ہوئے پايا اور اس کی گردن ميں آگ کا طوق ديکھا تو بھائی کی محبت مجھ پر غالب آ گئی ميں نے وہ طوق اس کے گلے سے نکالنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھايا تو ميری انگلياں اور ہاتھ جل گيا۔” پھر اس شخص نے ہمیں اپنا ہاتھ نکال کر دکھايا وہ جل کر سياہ ہو چکا تھا پھر اس نے بتايا :”ميں نے اس پر مٹی ڈالی اور لوٹ آيا، اب ميں اس کے حال پر کيوں نہ روؤں اور غم کيوں نہ کروں۔” ميں نے اس سے پوچھا :”تمہارا بھائی دنيا ميں کون سا عمل کيا کرتا تھا؟” تو اس نے بتایا :”وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تھا۔” ہم نے کہا :”يہ واقعہ تو اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تصديق ہے:
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو بخل کرتے ہيں اس چيز ميں جو اللہ نے انہيں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھيں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقريب وہ جس ميں بخل کيا تھا قيامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا ۔
جبکہ تمہارے بھائی کو اس کی قبر ہی ميں قيامت تک کے لئے عذاب شروع ہو گيا۔” پھر ہم اس کے پاس سے لوٹ کررسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی حضرت سيدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور اس شخص کا قصہ سناکر عرض کی :” يہودی يا نصرانی مرتا ہے توہمیں اس پر کوئی عذاب نظر کيوں نہيں آتا؟” انہوں نے ارشاد فرمايا:”ان لوگوں کے جہنمی ہونے ميں تو کوئی شک نہيں جبکہ اللہ عزوجل مؤمنين کا عذاب تمہيں اس لئے دکھاتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو، اللہ عزوجل فرماتا ہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِہٖ ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَمَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿104﴾
ترجمۂ کنز الایمان :تو جس نے ديکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے بُر ے کو اور ميں تم پر نگہبان نہيں۔(پ7،انعام: 104)
(کتاب الکبائرللامام الذہبی،الکبیرۃ الخامسۃ،باب منع الزکاۃ،ص۳۹)
(46)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل زندگی ميں بُخْل اور موت کے وقت سخاوت کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے۔”
 (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف الھمزۃ،الحدیث:۱۸۵۷،ص۱۱۵)
(47)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلی قوميں لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئيں، لالچ نے انہيں بُخْل پر آمادہ کيا تو وہ بُخْل کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خيال دلايا تو انہوں نے قطع رحمی کی اور جب گناہ کا حکم ديا تو وہ گناہ ميں پڑ گئے۔”
(سنن ابی داؤد،کتاب الزکاۃ،باب فی الشح،الحدیث:۱۶۹۸،ص۱۳۴۹)
(48)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”دو خصلتيں مؤمن ميں اکٹھی نہيں ہو سکتيں وہ بخل اور بد اخلاقی ہيں۔”
 (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ ،باب ماجاء فی البخل من الاکمال،الحدیث:۱۹۶۲،ص۱۸۴۹)
(49)۔۔۔۔۔۔نبی مکرم،نورمجسّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”سب سے بد ترین ہيں وہ لوگ جن سے اللہ عزوجل کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ ديں۔”
    (التاریخ الکبیرللبخاری،باب الالف،الحدیث:۱۱۴۹،ج۱،ص۳۴۰)
(50)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آدمی کی سب سے بد تر خامی شديد بخل اور اِنتہائی بزدلی ہے۔”
(سنن ابی داؤد،کتاب اول،کتاب الجھاد،باب فی الجرأۃ والجبن،الحدیث:۲۵۱۱،ص۱۴۰۹)
(51)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لالچی آدمی جنت ميں داخل نہ ہو گا ۔” (معجم الاوسط،الحدیث:۴۰۶۶،ج۳،ص۱۲۵)
(52)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اس اُمت کے پہلے لوگ دنيا سے بے رغبتی اور يقين کے سبب بھلائی پرہيں جبکہ اس اُمت کے آخری لوگ بخل اور خواہشات کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔” (المعجم الاوسط،الحدیث:۷۶۵۰،ج۵،ص۳۷۲)
(53)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”سخی کا کھانا دوا اور لالچی کا کھانا بيماری ہے۔”
       (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف الطاء،الحدیث:۵۲۵۸،ج۲،ص۳۲۵)
(54)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل نے اس بات پر قسم یادفرمائی ہے کہ جنت ميں کوئی بخيل داخل نہ ہو گا۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث:۷۳۸۲،ج۳،ص۱۸۱)
55)۔۔۔۔۔۔سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اسلام نے کسی چيز کو اتنا نہيں مٹايا جتنا بُخْل کومٹايا ہے۔”
  (مسند ابی یعلٰی الموصلی ، مسند انس بن مالک، الحدیث: ۳۴۷۵،ج۳،ص۲۳۷)
(56)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بخيل اورصدقہ کرنے والے کی مثال ان دو شخصوں کی طرح ہے جنہوں نے سينے سے لے کرپنڈلیوں تک لوہے کی زرہ پہن رکھی ہو، صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرتا ہے تو وہ زِرہ اس کے جسم پر پھيل جاتی ہے يہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کے پوروں کوبھی ڈھانپ ديتی ہے اور اس کے تابع رہتی ہے، جبکہ بخيل جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس زِرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ شخص اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہيں ہوتا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     (صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب مثل البخیل والمتصدق،الحدیث:۱۴۴۳،ص۱۱۳)
۱؎ :احناف کے نزديک:”سونا، چاندی جب کہ بقدر نصاب(يعنی  ساڑھے سات تولے سوناياساڑھے باون تولے چاندی)ہوں تو ان کی زکوٰۃ چاليسواں حصہ ہے خواہ ان کا استعمال جائز ہو جيسے عورت کے لئے زيور يامردکے لئے چاندی کی ايک نگ کی ساڑھے چارماشے سے کم کی ايک انگوٹھی ياان کا استعمال ناجائز ہو جيسے چاندی سونے کے برتن، گھڑی،سرمہ دانی، سلائی وغيرہ کہ ان کا استعمال مرد و عورت سب کے لئے حرام ہے۔”(بہارشريعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۲۰)
error: Content is protected !!