Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نکاح کرنے کا انوکھا سبب

نکاح کرنے کا انوکھا سبب

منقول ہے کہ ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو لوگ ایک مُدّت تک نکاح کا کہتے رہے لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ ایک دن وہ نیند سے بیدار ہوئے تو فرمانے لگے : میرا نکاح کردو! میرا نکاح کردو!لوگوں نے اُن کا نکاح کردیا اور اُن سے اِس تبدیلی کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا : میں نے خواب دیکھا کہ  قیامت قائم ہوگئی ہے اور میں لوگوں کے ساتھ میدانِ محشر میں ہوں ، تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی شدّت کی پیاس محسوس ہوئی ، قریب تھا کہ میں ہلاک ہوجاتا ، اچانک میں نے دیکھا کہ چند بچّے صفیں چیرتے ہوئے مجمع میں آئے ، اُن کے سروں پر نور کے رومال ، ہاتھوں میں چاندی کے کٹورے اور سونے کے کوزےتھے۔ وہ مجمع میں تلاش کرتے ہوئے بعض کو پانی پلاتے ، بعض کو نہ پلاتے ، میں نے بھی اُن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا : مجھے شدّت کی پیاس لگی ہے مجھے بھی پانی پلاؤ۔ تو ایک بچّے نے کہا : ہم میں کوئی آپ کا بیٹا نہیں ، ہم میں سے ہر ایک اپنے والدکو پانی پلائے گا۔ میں نے پوچھا : تم کون ہو؟اُنہوں نے کہا : ہم مسلمانوں کے وہ بچّے ہیں جو بچپن میں فوت ہوگئے تھے۔ پھر ( اُن بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے لوگوں کے سامنے گویا نکاح کے معاملے میں اپنی نیّت کا اظہارکرتے ہوئے)فرمایا : ممکن ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  مجھے بچّہ عطا فرمائے پھر اُس کی روح قبض کرلے تو وہ آخرت میں  میرا پیش رو (یعنی بارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ میں میراسِفارِشی ) ہوگا۔ (1) 
error: Content is protected !!