Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نوح علیہ السلام کی کشتی

حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو خدا کا پیغام سناتے رہے مگر ان کی بدنصیب قوم ایمان نہیں لائی بلکہ طرح طرح سے آپ کی تحقیر و تذلیل کرتی رہی اور قسم قسم کی اذیتوں اور تکلیفوں سے آپ کو ستاتی رہی یہاں تک کہ کئی بار ان ظالموں نے آپ کو اس قدر زدو کوب کیا کہ آپ کو مردہ خیال کر کے کپڑوں میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیا۔ مگر آپ پھر مکان سے نکل کر دین کی تبلیغ فرمانے لگے۔ اسی طرح بار ہا آپ کا گلا گھونٹتے رہے یہاں تک کہ آپ کا دم گھٹنے لگا اور آپ بے ہوش ہوجاتے مگر ان ایذاؤں اور مصیبتوں پر بھی آپ یہی دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے میرے پروردگار! تو میری قوم کو بخش دے اور ہدایت عطا فرما کیونکہ یہ مجھ کو نہیں جانتے ہیں۔
    اور قوم کا یہ حال تھا کہ ہر بوڑھا باپ اپنے بچوں کو یہ وصیت کر کے مرتا تھا کہ نوح (علیہ السلام) بہت پرانے پاگل ہیں اس لئے کوئی ان کی باتوں کو نہ سنے اور نہ ان کی باتوں پر دھیان دے ،یہاں تک کہ ایک دن یہ وحی نازل ہوگئی کہ اے نوح ! اب تک جو لوگ مومن ہوچکے ہیں ان کے سوا اور دوسرے لوگ کبھی ہرگز ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کے بعد آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے ۔ اور آپ نے اس قوم کی ہلاکت کے لئے دعا فرمادی۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ایک کشتی تیار کریں چنانچہ ایک سو برس میں آپ کے لگائے ہوئے ساگوان کے درخت تیار ہو گئے اور آپ نے ان درختوں کی لکڑیوں سے ایک کشتی بنائی جو ۸۰ گز لمبی اور ۵۰ گز چوڑی تھی اور اس میں تین درجے تھے، نچلے طبقے میں درندے، پرندے اور حشرات الارض وغیرہ اور درمیانی طبقے میں چوپائے وغیرہ جانوروں کے لئے اور بالائی طبقے میں خود اور مومنین کے لئے جگہ بنائی۔ اس طرح یہ شاندار کشتی آپ نے بنائی اور ایک سو برس کی مدت میں یہ تاریخی کشتی بن کر تیار ہوئی جو آپ کی اور مومنوں کی محنت اور کاری گری کا ثمرہ تھی۔ جنہوں نے بے پناہ محنت کر کے یہ کشتی بنائی تھی۔
جب آپ کشتی بنانے میں مصروف تھے تو آپ کی قوم آپ کا مذاق اُڑاتی تھی۔ کوئی کہتا کہ اے نوح! اب تم بڑھئی بن گئے؟ حالانکہ پہلے تم کہا کرتے تھے کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ کوئی کہتا اے نوح! اس خشک زمین میں تم کشتی کیوں بنا رہے ہو؟ کیا تمہاری عقل ماری گئی ہے؟ غرض طرح طرح کا تمسخر و استہزاء کرتے اور قسم قسم کی طعنہ بازیاں اور بدزبانیاں کرتے رہتے تھے اور آپ ان کے جواب میں یہی فرماتے تھے کہ آج تم ہم سے مذاق کرتے ہو لیکن مت گھبراؤ جب خدا کا عذاب بصورتِ طوفان آجائے گا تو ہم تمہارا مذاق اُڑائیں گے۔ 
جب طوفان آگیا تو آپ نے کشتی میں درندوں، چرندوں اور پرندوں اور قسم قسم کے حشرات الارض کا ایک ایک جوڑا نر ومادہ سوار کرا دیا اور خود آپ اور آپ کے تینوں فرزند یعنی حام، سام اور یافث اور ان تینوں کی بیویاں اور آپ کی مومنہ بیوی اور۷۲ مومنین مرد و عورت کل ۸۰ انسان کشتی میں سوار ہو گئے اور آپ کی ایک بیوی ”واعلہ” جو کافرہ تھی، اور آپ کا ایک لڑکا جس کا نام ”کنعان” تھا، یہ دونوں کشتی میں سوار نہیں ہوئے اور طوفان میں غرق ہو گئے۔
روایت ہے کہ جب سانپ اور بچھو کشتی میں سوار ہونے لگے تو آپ نے ان دونوں کو روک دیا۔ تو ان دونوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! آپ ہم دونوں کو سوار کرلیجئے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ جو شخص سَلاَمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ پڑھ لے گا ہم دونوں اس کو ضرر نہیں پہنچائیں گے تو آپ نے ان دونوں کو بھی کشتی میں بٹھالیا۔
طوفان میں کشتی والوں کے سوا ساری قوم اور کل مخلوق غرق ہو کر ہلاک ہو گئی اور آپ کی کشتی ”جودی پہاڑ” پر جا کر ٹھہر گئی اور طوفان ختم ہونے کے بعد آپ مع کشتی والوں کے زمین پر اُتر پڑے اور آپ کی نسل میں بے پناہ برکت ہوئی کہ آپ کی اولاد تمام روئے زمین پر پھیل کر آباد ہوگئی اسی لئے آپ کا لقب ”آدم ثانی” ہے۔
 (تفسیر صاوی،پ۱۲، ھود: ۳۶۔۳۹)
قرآن مجید میں خداوند (عزوجل)نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:
وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤْمِنَ مِنۡ قَوْمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿ۚ36﴾وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغْرَقُوۡنَ ﴿37﴾ وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ ۟ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوْمِہٖ سَخِرُوۡا مِنْہُ ؕ قَالَ اِنۡ تَسْخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنۡکُمْ کَمَا تَسْخَرُوۡنَ ﴿ؕ38﴾فَسَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخْزِیۡہِ وَیَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿39﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور نوح کو وحی ہوئی کہ تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں اور کشتی بنا ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے۔(پ12، ھود: 36 ۔39)
error: Content is protected !!