Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اِلْحَاد اور ظُلْم کی وضاحت:

٭۔۔۔۔۔۔اِلْحَاد کا معنی بالقصد پھرنا ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔مفسرين کا اس ميں اختلاف ہے، ايک قول يہ ہے :”اس سے مراد شرک ہے۔” اور يہ حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی دو روايتوں ميں سے ايک ہے اور يہی حضرت سیدنا مجاہد، سیدناقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور بہت سے اَکابر کا قول ہے۔ 
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوسری روايت ميں ہے :” اس سے مراد يہ ہے کہ تم حرم ميں ايسے شخص کو قتل کرو جو تمہيں قتل نہيں کرتا يا اس پر ظلم کرو جو تم پر ظلم نہيں کرتا۔”
(تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۱۹ ، ج۹، ص ۱۳۱،بدون ”ھو ان تقتل فیہ” )
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی منقول ہے :”اِلْحَاد يہ ہے کہ جس گفتگو يا قتل کو اللہ عزوجل نے حرام کیا ہے اُسے حلال جاننا پس تو اس پر ظلم کرے جو تجھ پر ظلم نہيں کرتا اور اس کو قتل کرے جو تجھے قتل نہيں کرتا، لہذا جب تو نے ايسا کيا تو درد ناک عذاب کامستحق ہو گيا۔”
       ( تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۱۹ ، ج۹، ص ۱۳۱)
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا مجاہد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے :”ظلم سے مراد حرم ميں برا عمل ہے۔”
 (تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۲۰ ، ج۹، ص ۱۳۱)
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سعيد بن جبير،جندب بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغيرہ نے ارشاد فرمايا :”اِلْحَاد سے مراد مکہ ميں کھانا ذخيرہ کرنا ہے۔” گويا انہوں نے اس کوحضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس قول سے ليا کہ”کھانے کوذخيرہ کرنے کے بعدمکہ ميں فروخت کرنا۔” جيسا کہ اِلْحَاد کا ظاہری معنی ہے۔
(تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۲۶ ، ج۹، ص ۱۳۱)
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے :”خادم کو گالی دينا ظلم ہے۔”
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا سعيد بن جبير رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے :”اس آيت ميں ظلم سے مراد اميرکا مکہ ميں تجارت کرنا ہے۔”
٭۔۔۔۔۔۔حضرت عطاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمايا :”اِلْحَاد سے مراد باہمی خريد و فروخت ميں آدمی کا يہ کہنا :”نہيں، خدا کی قسم! ہاں، کیوں نہیں، خدا کی قسم!”
    ( تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۲۷ ، ج۹، ص ۱۳۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے ميں مروی ہے کہ آپ کے دو خيمے تھے، ايک حل ميں اور دوسرا حرم ميں، جب آپ اپنے گھر والوں سے ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتے تو حل ميں ناراض ہوتے، آپ سے اس کا سبب پوچھا گيا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمايا :”ہم يہ بيان کرتے ہيں کہ مکۂ پاک ميں اِلْحَاد سے مراد يہ ہے کہ آدمی اپنے گھر والوں سے کہے :”خدا کی قسم! ہر گز نہيں، خدا کی قسم! ہاں، کیوں نہیں۔”
 (تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۲۸ ، ج۹، ص ۱۳۱)
٭۔۔۔۔۔۔حضرت عطاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے :”اِلْحَاد سے مراد يہ ہے کہ حرم ميں بغير احرام والے کا داخل ہونا اور احرام کی ممنوعات: درخت کاٹنے يا شکار کرنے ميں سے کسی کا ارتکاب کرنا۔”
٭۔۔۔۔۔۔يہاں ظُلْم کے لفظ کا فائدہ يہ ہے کہ يہاں پر اِلْحَاد اپنے اصلی معنی ميں نہيں اور اس کا اصلی معنی مطلقاً ميلان ہے۔ بے شک يہ کبھی حق کی طرف اور کبھی باطل کی طرف ہوتا ہے، يہاں اس سے مراد ايسا ميلان ہے جو ظلم کے ساتھ ملا ہو اور يہ بات معلوم ہے کہ اصل ميں ظلم تمام صغيرہ و کبيرہ گناہوں کو شامل ہے، ہر قسم کی نافرمانی، اگرچہ گناہِ صغيرہ ہی ہو، ظلم کہلائے گی کيونکہ ظلم يہ ہے کہ کسی چيز کو غير محل ميں رکھنا۔اللہ عزوجل کا فرمان ذیشان رہنمائی فرماتا ہے:
اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ ﴿13﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔(پ21، لقمٰن:13)
    پس عَظِيم کی قيد لگانے سے شرک کے علاوہ بقیہ سب کبیرہ گناہ اس سے خارج ہو گئے اور وہ بھی ظلم ہيں ليکن شرک کی طرح عظيم نہيں اگرچہ فی نفسہ عظيم ہيں، اور اللہ عزوجل کا فرمان نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ مذکورہ اِلْحَاد پر مرتب ہونے والی وعيد کا بيان ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس سلسلے ميں حضرت سيدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی سیدنا مجاہد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قول ليا گيا ہے :”بے شک برائياں مکہ ميں دُگنی ہوتی ہيں جيسا کہ يہاں نيکياں دُگنی ہوتی ہيں۔” اور انہوں نے اسے اس بات پر محمول کيا ہے :”دُگنا ہونے سے مراد برائی کی قباحت اور عذاب کی زيادتی ہے نہ کہ وہ زيادتی جو نيکيوں ميں ہوتی ہے۔” کيونکہ نصوص صراحت کرتی ہيں کہ برائی پر اس کی مثل ہی جزاء متعين ہوتی ہے، ليکن سیدنا مجاہد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغيرہ کے کلام کا ظاہر حقيقی طور پر دُگنا ہونے کا قول ہے اور وہ اس کے اِستثناء پر قائم دليل کی وجہ سے اسے نصوص سے مُستَثنٰی قرار ديتے ہيں، اگر وہ دُگنا ہونے کے حقيقی معنی کے قائل نہ ہوتے تو جمہور رحمہم اللہ تعالیٰ کے مخالف ہوتے کيونکہ اس ميں کوئی اختلاف نہيں کہ مکہ ميں نافرمانی اس کے علاوہ جگہوں سے زيادہ قبيح ہے۔
    اس کی دليل کہ حرم کی خصوصيت کی وجہ سے اس ميں ارادہ ہی کافی ہے،حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوف و مرفوع روايت ہے جو اللہ عزوجل کے اس فرمان کے مشابہ ہے :
وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪25﴾
ترجمۂ کنز الایمان :اور جو اس ميں کسی زيادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اُسے درد ناک عذاب چکھائيں گے۔(پ17، الحج:25)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے :”اگر کسی آدمی نے حرمِ پاک ميں کسی زیادتی کاناحق ارادہ کيا اور وہ عدن سے بھی دور ہو پھر بھی اللہ عزوجل اسے درد ناک عذاب چکھائے گا۔”
(تفسیر الطبری ، سورہ حج،تحت الآیۃ:۲۳،الحدیث:۲۳/ ۲۵۰۲۲ ، ج۹، ص ۱۳۱، ملخصاً)
(3)۔۔۔۔۔۔سیدنا سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے انہی سے روايت کيا :”جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے وہ لکھ دی جاتی ہے اگرچہ کوئی آدمی عدن سے بھی دور ہو اور ارادہ کرے کہ بيت اللہ شريف ميں فلاں آدمی کو قتل کریگا تو اللہ عزوجل اسے درد ناک عذاب ميں مبتلا فرمائے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (تفسیر الطبری ، سورۂ حج ،تحت الآیۃ:۲۵،الحدیث:۲۵۰۲۲ ، ج۹، ص ۱۳۱)
تنبیہ:
    حرم کو حلال سمجھنا اور اِلْحَاد دو الگ الگ کبيرہ گناہ ہيں جو کہ دو احادیثِ مبارکہ ميں مذکور ہيں، سیدنا ابو القاسم بغوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کو نقل کيا ہے کہ،
(4)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کبيرہ گناہوں کے بارے ميں پوچھا گيا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا کہ ميں نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”کبيرہ گناہ 9ہيں: (۱)اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا(۲)پاکدامن عورت پر تہمت لگانا (۳)مؤمن کو قتل کرنا (۴)جنگ سے بھاگ جانا (۵)جادو (۶)سود کھانا (۷)يتيم کا مال کھانا (۸)مسلمان والدين کی نافرمانی کرنا اور (۹)بيت الحرام ميں اِلْحَاد کرنا جو کہ تمہارا زندگی ميں بھی اور موت کے بعد بھی قبلہ ہے۔”
        ( المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۱،ج۱۷،ص۴۸)
     گذشتہ حدیثِ پاک میں سرکارعلیہ الصلوٰۃوالسلام کا”استحلال”لفظ ذکرکرنے اوریہاں پر”الحاد”سے تعبیرفرمانے سے دونوں کاایک معنی ہونے کااحتمال ہے جوکہ آیتِ مبارکہ میں ہے اور يہ بھی احتمال ہے کہ پہلے سے مراد حرم کو حلال سمجھنا ہے اگرچہ وہ حرم ميں نہ ہو اور دوسرے سے مراد حرم ميں گناہ (یعنی نافرمانی)کرنا ہے اور يہ دونوں کبيرہ گناہ ہيں اس کی طرف سیدنا جلال بلقينی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اشارہ کيا ہے پھر چند لائنوں کے بعد فرمايا: اور حرم ميں اِلْحَاد (یعنی جھگڑا)کرنااور آيت سے استدلال کرتے ہوئے فرمايا :”چودہواں گناہ بيت الحرام ميں جھگڑا کرنا اگرچہ جان بوجھ کر کرے۔”کیونکہاللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ م بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ0


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان :اور جو اس ميں کسی زيادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اُسے درد ناک عذاب چکھائيں گے۔(پ۱۷،سورۃ الحج:۲۵)
   آيت کريمہ کو مطلق لينے سے اس چيز کی تائيد ہوتی ہے کہ حرم مکہ ميں ہر گناہ کبيرہ ہے چنانچہ،
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے :”بے شک ظلم ہر نافرمانی کو شامل ہے۔” (تفسیر الطبری ، سورۂ حج ،تحت الآیۃ:۲۵ ،الحدیث:۲۵۰۲۹ ، ج۹، ص ۱۳۲)
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن جبير رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے گزرا ہے کہ”خادم کو گالی دينا يا اس سے زيادہ کچھ کہنا ظلم ہے۔” 
٭۔۔۔۔۔۔سیدنا عطاء، ابن عمر اور مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قول :”نہيں !خدا کی قسم، ہاں! خدا کی قسم۔” يعنی جھگڑتے ہوئے جھوٹی قسم کھانا۔ اور سیدنا عطاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی منقول ہے :”بغير احرام کے حرم ميں داخل ہونا۔” (تفسیر الطبری ، سورۂ حج ،تحت الآیۃ:۲۵ ،الحدیث:۲۵۰۲۷ ، ج۹، ص ۱۳۲)
٭۔۔۔۔۔۔اللہ عزوجل کے فرمان”بظلم”کے بارے میں مفسرين کی ايک جماعت کا قول جيسا کہ گزرا ہے کہ حضرت سیدنا ابن جبير رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک اس سے مراد خادم کو گالی دينے کی طرح ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔اس سے بھی قوی روايت يعلٰی بن اُميہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”حرم ميں کھانا روک لينا ظلم ہے۔”
 (سنن ابی داؤد،کتاب المناسک ،باب تحریم مکۃ ،الحدیث:۲۰۲۰، ص۱۳۷۲)
٭۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب جُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے روايت بيان کی کہ ”مکہ ميں کھانا روک ليناظلم ہے۔”
( شعب الایمان،باب فی ان یحب المسلم ۔۔۔۔۔۔الخ،فصل ترک الاحتکار،الحدیث:۱۱۲۲۱، ج۷،ص۵۲۷)
    اس ساری بحث کا ظاہری مفہوم يہ ہے کہ يہ تمام صورتیں اِلْحَاد کی جزئيات ميں سے ہيں، پس اِلْحَاد مکہ ميں کھانا روکنے کے ساتھ خاص نہيں بلکہ يہ ہر ايک نافرمانی کو شامل ہے جبکہ ارادہ کے ساتھ کرے۔
    پھر ميں نے محدثين ميں سے بعض کو ديکھا جب انہوں نے اکثر سابقہ احادیثِ مبارکہ ذکر کيں تو فرمايا کہ يہ احادیثِ مبارکہ اگرچہ اس بات پر دلالت کرتی ہيں کہ يہ اشياء اِلْحَاد ميں سے ہيں ليکن وہ ان سے عام ہے اور بے شک يہ تنبیہ ہے کہ وہ اس سے بھی غليظ گناہ ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اسی لئے جب ہاتھی والے لشکر نے بيت اللہ شريف کو برباد کرنے کاعزم کیا تو اللہ عزوجل نے ان پر پرندوں کی فوجيں بھيجيں :
تَرْمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿4﴾۪ۙفَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿5﴾
ترجمۂ کنزالایمان:کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے توانہیں کرڈالاجیسے کھائی کھیتی کی پتی(بھوسہ)۔(پ 30،سورۃ الفیل:4،5)
 يعنی اللہ عزوجل نے انہيں تباہ کر ديا اور انہيں عبرت بنا ديا اور جو برائی کا ارادہ کرے اس کے لئے عبرت ناک سزا بنا ديا اور عنقريب وہ اس لشکر کے ساتھ آئے گا جو حرم پر حملہ کرنے کے لئے نکلے تھے کہ ان کو زمين ميں دھنسا ديا گيا۔
(5)۔۔۔۔۔۔سیدناامام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روايت کی ہے کہ حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت سيدنا ابن زبير رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرمايا:”اے ابن زبير(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! بيت اللہ شریف ميں فسادکرنے سے بچو، بے شک ميں نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”قريش کا ايک آدمی بيت اللہ شریف ميں فساد کریگا اگر اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کے ساتھ تولے جائيں تو بھی اس کے گناہ زيادہ ہوں گے، لہذا غور کر ايسا نہ کر۔”
( المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ بن عمربن الخطاب ، الحدیث: ۶۲۰۸، ج۲ ، ص ۴۹۹)
(6)۔۔۔۔۔۔ ایک دوسری روایت حضرت سيدنا ابن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے ميں بھی ہے کہ وہ حضرت سيدنا ابن زبير رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آئے جبکہ وہ حجرِ اسود کے پاس تھے اور ارشاد فرمايا:”اے ابن زبير رضی اللہ تعالیٰ عنہما! حرم ميں اِلْحَادسے بچو، پس ميں گواہی ديتا ہوں کہ ميں نے نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا،اور اس کے بعد گذشتہ روايت ذکر کی۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ بن عمروبن العاص،الحدیث:۷۰۶۴،ج۲،ص ۶۸۲)
error: Content is protected !!