Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سود کی مذمّت پراحادیثِ مبارکہ:

(13)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ہلاکت ميں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون سے گناہ ہيں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”(۱)اللہ عزوجل کا شريک ٹھہرانا (۲)جادو کرنا (۳)اللہ عزوجل کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا(۴)سود کھانا (۵)يتيم کا مال کھانا (۶)جنگ کے دن ميدان جنگ سے بھاگ جانا اور (۷)پاک دامن،سیدھی سادی، شادی شدہ، مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا۔”
( صحیح البخاری ،کتاب الوصایا ، باب قول اللہ تعالی(ان الذین یاکلون اموال الیتمی۔۔۔۔۔۔الآیہ ) الحدیث: ۲۷۶۶ ، ص ۲۲۳)
(14)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ميں نے شبِ معراج ديکھا کہ دو شخص مجھے ارضِ مقدس (یعنی بیت المقدس)لے گئے، پھر ہم آگے چل دئيے يہاں تک کہ ہم خون کی ايک نہر پر پہنچے جس ميں ايک شخص کھڑا ہوا تھا،اور نہر کے کنارے پر دوسراشخص کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے، نہر ميں موجود شخص جب بھی باہر نکلنے کا ارادہ کرتا تو کنارے پر کھڑا شخص ايک پتھر اس کے منہ پر مار کر اسے اس کی جگہ لوٹا ديتا، اسی طرح ہوتا رہا کہ جب بھی وہ (نہر والا)شخص کنارے پر آنے کا ارادہ کرتا تو دوسراشخص اس کے منہ پر پتھر مار کر اسے واپس لوٹا ديتا، ميں نے پوچھا:”يہ نہر ميں کون ہے۔” جواب ملا: ”يہ سود کھانے والا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح البخاری ،کتاب البیوع ، باب آکل الربا وشاھدہ وکاتبہ ، الحدیث: ۲۰۸۵، ص ۱۶۳)
(15)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی ۔
    ( صحیح المسلم ،کتاب المساقاۃ ، با ب لعن آکل الربا ومؤکلہ ، الحدیث: ۴۰۹۲، ص۹۵۵)
(16)۔۔۔۔۔۔دوسری ر وايت میں يہ بھی ہے:”اور سود کے گواہوں اور سود لکھنے والوں پر بھی لعنت فرمائی ۔”
(المرجع السابق، الحدیث: ۴۰۹۳، ص۹۵۵)
(17)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسے لکھنے والے اور گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمايا:” يہ سب اس گناہ ميں برابر ہيں۔”
( صحیح المسلم ،کتاب المساقاۃ ، با ب لعن آکل الربا ومؤکلہ ، الحدیث: ۴۰۹۳، ص۹۵۵)
(18)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”کبيرہ گناہ 7ہيں: (۱)اللہ عزوجل کا شريک ٹھہرانااوریہ اِن سب سے بڑاگناہ ہے(۲)کسی جان کو ناحق قتل کرنا (۳)سود کھانا (۴)يتيم کا مال کھانا (۵)جنگ کے دن ميدان سے بھاگنا(۶)پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا اور (۷)ہجرت کے بعد اعرابی بن جانا (یعنی بدوؤں جیسی زندگی اپنا لینا) ۔”
( مجمع الزوائد،کتاب الایمان ،الباب فی الکبائر ، الحدیث: ۳۸۲ / ۳۹۰،ج۱،ص۲۹۱/۲۹۴)
(19)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے گودنے والی، گودوانے والی، سود لینے والے اور دینے والے پرلعنت فرمائی ،کتے کی قيمت اور زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمايا اور تصويريں بنانے والے پربھی لعنت فرمائی۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی جحیفۃ،الحدیث: ۱۸۷۸۱، ج۶، ص۴۵۶،”تقدمًاوتأخرًا”)
(20)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہيں:”سود لينے والے، سود دينے والے، سود کے گواہ، سود کا کاغذ لکھنے والے جبکہ سود جان کر يہ کام کرتے ہوں، اسی طرح خوبصورتی کے لئے گودنے والی، گودوانے والی،صدقہ نہ دینے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہوکر اعرابی بن جانے والے لوگوں پر(حضرت سیدنا) محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی ہے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ بن مسعود ، الحدیث: ۳۸۸۱، ج ۲،ص۷۸)
(21)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے:”4افراد ايسے ہيں کہ اللہ عزوجل نہ تو انہيں جنت ميں داخل فرمائے گا اور نہ ہی اس کی نعمتيں چکھائے گا:(۱)شراب کا عادی (۲)سود خور (۳) يتيم کامال ناحق کھانے والا اور (۴) والدين کی نافرمانی کرنے والا۔”
(المستدرک،کتاب البیوع،باب ان اربی الرباعرض۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۰۷،ج۲، ص۳۳۸۔۳۳۹)
(22)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”سود کا گناہ 73درجے ہے، ان ميں سب سے چھوٹا يہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زناکرے۔”
( المستدرک،کتاب البیوع ، باب ان اربی الربا عرض الرجل المسلم ، الحدیث: ۲۳۰۶ ، ج۲ ، ص ۳۳۸)
(24)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شفيع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”سود کا گناہ 70درجے ہے، ان ميں سب سے کم يہ ہے کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زناکرے۔”
(شعب الایمان،باب فی قبض الید عن الاموال المحرمۃ ،الحدیث: ۵۵۲۰،ج۴،ص۳۹۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(25)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناعبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”آدمی کا سود کا ايک درہم لينا اللہ عزوجل کے نزديک اس بندے کے حالتِ اسلام ميں 33 مرتبہ زنا کرنے سے زيادہ بڑا گناہ ہے۔”
 ( مجمع الزوائد،کتاب البیو ع ، باب ماجاء فی الربا ،الحدیث: ۶۵۷۴،ج۴ ،ص ۲۱۱)
(26)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں:”سود کے 70 گناہ ہيں، سب سے ہلکا اسلام کی حالت ميں اپنی ماں سے زنا کرناہے اور سود کا ايک درہم 30سے زيادہ بار زنا کرنے سے برا ہے۔” مزید فرمايا:”اللہ عزوجل قيامت کے دن سوائے سود کھانے والے کے ہر نيک اور فاجر کو کھڑا ہونے کی اجازت دے گا، وہ اگر کھڑا بھی ہو گا تو اس شخص کی طرح کھڑا ہو گا جسے آسيب نے چھو کرپاگل بنا ديا ہو۔”
(المصنف عبدالرزاق،کتاب الجامع،باب الکبائر،الحدیث:۱۹۸۷۶،ج۱۰،ص۶۶)
(27)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناکعبُ الاحباررضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:” 33 بارزناکرنامیرے نزدیک سودکاايک درہم کھانے سے بہترہے جب ميں سود کھاؤں تو اللہ عزوجل جانتا ہے۔”
( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث عبداللہ بن حنظلۃ،الحدیث: ۲۲۰۱۷ ،ج۸، ص ۲۲۳)
(28)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”سود کا ايک درہم جسے آدمی جانتے ہوئے کھاتا ہے36بارزناکرنے سے زيادہ بُراہے۔”
( المرجع السابق،الحدیث: ۲۲۰۱۶ ،ج۸، ص ۲۲۳)
(29)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمايا اور سود کا ذکر کر تے ہوئے ارشاد فرمايا:”سود کا ايک درہم جو آدمی کو ملتا ہے 36 بار اس کے زنا کرنے سے زيادہ بُرا ہے اورسب سے بڑھ کر زيادتی کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (شعب الایمان،باب فی قبض الید عن الا موال المحرمۃ،الحدیث:۵۵۲۳،ج۴،ص۳۹۵)
(30)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے ظالم شخص کی باطل کام ميں اعانت کی تا کہ حق کو مٹائے تو وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذمہ سے بری ہو گيا اور جس نے سود کا ايک درہم کھاياتویہ 33بار زنا کرنے کی طرح ہے اورجس کاگوشت حرام سے پلابڑھا آگ اس کی زيادہ حق دار ہے۔”
(المعجم الاوسط ، الحدیث:۲۹۴۴ ، ج۲ ، ص ۱۸۰)
(31)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ عالیشان ہے:”بے شک سود کے 70سے زائد دروازے ہيں ان ميں سب سے ہلکا اس طرح ہے جيسے آدمی حالتِ اسلام ميں اپنی ماں سے زناکرے اور سود کا ايک درہم 35بار زنا کرنے سے زيادہ بُرا ہے۔”
( الترغیب والترہیب ،کتاب البیوع وغیرھا ، باب الترھیب من الربا ،الحدیث: ۲۸۸۴ ، ج۲ ، ص۴۰۶)
(32)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”بے شک سود کا گناہ 72درجے ہے، ان ميں سب سے ہلکا اس طرح ہے جيسے آدمی اپنی ماں سے زناکرے اور سب سے بڑھ کر زيادتی کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔”
( مجمع الزوائد، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا ، الحدیث: ۶۵۷۵،ج۴ ، ص ۲۱۱ )
(33)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”بے شک سود 70  گناہوں کامجموعہ ہے ،ان ميں سب سے ہلکايہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے۔”
( سنن ابن ماجۃ ،ابواب التجارات ، باب التغلیظ فی الربا ،الحدیث: ۲۲۷۴ ، ص۲۶۱۳)
(34)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :” شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پکنے سے پہلے کھجوريں خريدنے سے منع فرمايا اور ارشاد فرمايا:”جب کسی گاؤں ميں زنا اور سود عام ہوگئے تو ان لوگوں نے اپنی جانوں کو اللہ عزوجل کے عذاب کا مستحق کر ديا۔”
( المستدرک،کتاب البیوع ، باب اذا ظہر الزنا والربافی قریۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۲۳۰۸ ، ج۲ ، ص ۳۳۹)
(35)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جب بھی کسی قوم ميں زنا اور سود ظاہر ہوئے تو ان لوگوں نے اپنی جانوں کو اللہ عزوجل کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا۔”
 ( مسندابی یعلیٰ الموصلی ، مسد عبداللہ بن مسعود ،الحدیث: ۴۹۶۰ ، ج۴ ، ص ۳۱۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(36)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس قوم ميں بھی سود ظاہر ہوا ان کو قحط سالی نے آ ليا اور جس قوم ميں بھی رشوت ظاہر ہوئی وہ دشمن سے مرعوب ہو گئے۔”
( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث عمروبن العاص، الحدیث: ۱۷۸۳۹، ج۶، ص ۲۴۵)
(37)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ميں نے معراج کی رات ديکھا کہ جب ہم ساتويں آسمان پر پہنچے تو ميں نے اپنے اوپر کڑک، چمک اور گرج ديکھی، پھر ميں ايک ایسی قوم کے پاس آياجن کے پيٹ گھروں کی طرح تھے جن ميں سانپ تھے جوپیٹوں کے باہر سے نظر آرہے تھے، ميں نے جبرئيل (علیہ السلام) سے دریافت فرمایا: ”يہ کون ہيں؟ ”تو انہوں نے بتایا:”يہ سود کھانے والے ہيں۔”
 (المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند ابی ھریرۃ، الحدیث: ۸۶۴۸، ج۳ ، ص ۲۶۹،”قواصف” بدلہ”صواعق”)
 (38)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جب مجھے آسمان کی طرف لے جايا گيا تو ميں نے آسمانِ دنيا کی طرف ديکھا، اچانک مجھے ايسے لوگ دکھائی دیئے جن کے پيٹ بڑے بڑے گھروں کی طرح تھے اور ان کی توندیں لٹکی ہوئی تھيں، وہ ان فرعونيوں کی گزرگاہ پر پڑے ہوئے تھے جو صبح و شام آگ پر پيش کئے جاتے ہيں، وہ کہتے ہيں:”اے ہمارے رب عزوجل! قيامت کبھی قائم نہ کرنا۔” ميں نے جبرئيل (علیہ السلام) سے پوچھا:”يہ کون ہيں؟” تو انہوں نے بتایا:”يہ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اُمت ميں سے سود کھانے والے ہيں، يہ کھڑے نہيں ہو سکتے مگر جيسے وہ کھڑا ہوتا ہے جسے آسيب نے چھو کرپاگل بنا ديا ہو۔”
 (الترغیب والترھیب، کتاب البیوع ، باب الترہیب من الربا۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث: ۲۸۹۱ ، ج۲ ،ص ۴۰۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (39)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”قيامت کے قريب زنا، سود اور شراب عام ہو جائيں گے۔”
     ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۷۶۹۵، ج۵ ، ص ۳۸۶)
 (40)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا قاسم بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ميں نے حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سکے بنانے والوں کے بازار ميں ديکھا ،آپ فرما رہے تھے:”اے سکے بنانے والو! تمہيں خوشخبری ہو۔” انہوں نے کہا:”اللہ عزوجل آپ کو جنت کی خوشخبری دے ،اے ابو محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ !آپ نے ہميں کس بات کی خوشخبری دی ہے۔”تو آپ نے ارشاد فرمایا: سرکارِ مدينہ، راحتِ قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”سکے بنانے والوں کو جہنم کی بشارت دے دو۔”
   (مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا،الحدیث: ۶۵۸۷، ج۴ ، ص ۲۱۴)
 (41)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ايسے گناہوں سے بچو جن کی بخشش نہيں: (۱)لوٹ مار یعنی جس نے کوئی چيز چوری کی قيامت کے دن اسے لانی پڑے گی اور (۲)سود کھانا یعنی جس نے سود کھايا وہ قيامت کے دن مخبوط الحواس مجنون بن کر اٹھے گا، پھر يہ آيت مبارکہ تلاوت فرمائی :
اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ؕ
ترجمۂ کنز الايمان:وہ جو سود کھاتے ہيں قيامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جيسے کھڑاہوتا ہے وہ جسے آسيب نے چھو کر مخبوط بنا ديا ہو۔ (پ3، البقرۃ: 275)
(مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا،الحدیث:۶۵۸۸، ج۴ ، ص ۲۱۴)
(42)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”سود کھانے والابروزِ قيامت(دیوانوں کی طرح)اپنے پہلوؤں کوگھسيٹتاہواآئے گا۔”
 (درالمنثور،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ:۲۷۵ج۲،ص۱۰۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (43)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس کے مال ميں بھی سود سے اضافہ ہو گا اس کا انجام کمی پر ہی ہو گا۔”
   ( سنن ابن ماجہ ،ابواب التجارا ت ، باب التغلیظ فی الربا ،الحدیث: ۲۲۷۹ ، ص ۲۶۱۳)
 (44)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”(بظاہر)سود اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو جائے اس کا انجام کمی پر ہی ہوتا ہے۔”
( المستدرک،کتاب البیوع ، باب الربا وان کثر۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث: ۲۳۰۹ ، ج۲ ، ص ۳۳۹)
 (45)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”لوگوں پر ايک ايسا زمانہ ضرور آئے گا کہ ہر ايک سود کھائے گا اور جو نہيں کھائے گا اس تک اس کا غبار پہنچ جائے گا۔”
 ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب التجارات ، باب التغلیظ فی الربا ،الحدیث: ۲۲۷۸ ، ص ۲۶۱۳)
 (46)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں ميری جان ہے! ميری اُمت کے کچھ لوگ برائی اورلہو و لعب میں رات بسر کريں گے اور صبح حرام کو حلال سمجھنے، گانے گانے والياں رکھنے، شراب پينے، سود کھانے اور ريشم پہننے کی وجہ سے بندر اور خنزير بن چکے ہوں گے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( مجمع الزوائد،کتاب الاشربۃ ، باب فیمن یستحل الخمر، الحدیث: ۸۲۱۵،ج ۵ ص۱۱۹ )
 (47)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اس اُمت کی ايک قوم کھانے پينے اور لہو و لعب ميں رات گزارے گی، پھر جب وہ صبح کريں گے تو ان کے چہرے مسخ ہو کر بندر اور خنزير بن چکے ہوں گے اور ان ميں دھنسانے اور پھینکے جانے کے واقعات رونما ہوں گے يہاں تک کہ لوگ صبح اٹھيں گے تو کہيں گے:”آج رات فلاں کا گھر دھنسا ديا گيا اور آج رات فلاں کا گھر دھنسا ديا گيا۔” اور ان پر آسمان سے پتھر پھينکے جائيں گے جيسا کہ حضرت سيدنا لوط علیہ السلام کی قوم کے قبيلوں اور گھروں پر برسائے گئے اس لئے کہ وہ شراب پئيں گے، ريشم پہنيں گے، گانے گانے والياں رکھيں گے، سود کھائيں گے اوررشتہ داروں سے قطع تعلقی کريں گے۔”  (کنز العمال ،کتاب المواعظ والرقائق ، قسم الاقوال،الحدیث: ۴۴۰۱۱ ، ج۱۶ ، ص ۳۶)

تنبیہ:

    سود کو بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار کياگيا ہے کيونکہ احاديث مبارکہ ميں اسے کبيرہ بلکہ اکبرُ الکبائر  کہا گيا ہے۔
(48)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”7ہلاک کرنے والی چيزوں سے بچو۔” عرض کی گئی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون سی ہيں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”(۱)اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا (۲)جادو کرنا (۳) کسی کوناحق قتل کرنا (۴)يتيم کامال کھانا(۵)سود(۶)جنگ کے دن بھاگ جانا اور (۷)پاک دامن ،سیدھی سادی مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( صحیح البخاری ،کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ ، باب رمی المحصنات ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۶۸۵۷، ص ۵۷۲)
 (49)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”کبيرہ گناہ 9ہيں ان ميں سب سے بڑا گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا،کسی مؤمن کو(ناحق) قتل کرنا اور سود کھاناہے۔”
 ( السنن الکبری للبیہقی، کتاب الشہادات ، باب من تجوز شہادتہ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۲۰۷۵۲ ،ج۱۰ ، ص ۳۱۴)
 (50)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”کبيرہ گناہوں ميں سب سے بڑے گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا، مؤمن کوناحق قتل کرنا، سود اور يتيم کامال کھانا ہے۔”
( مجمع الزوائد،کتاب الایمان ، باب فی الکبائر ، الحدیث: ۳۸۲ ، ج۱ ،ص ۲۹۱)
(51)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے:”7کبيرہ گناہوں سے بچو: اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا، کسی کو قتل کرنا، ميدان جنگ سے بھاگنا، يتيم کامال کھانا اور سود کھانا۔”
( المعجم الکبیر ،الحدیث: ۵۶۳۶ ، ج۶ ، ص ۱۰۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(52)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے اہلِ يمن کی طرف خط لکھا جس ميں فرائض، سنن اور ديتوں کا تذکرہ تھا اور حضرت سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے کر بھيجا، خط ميں لکھا تھا:”کبيرہ گناہوں ميں سب سے بڑے گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ شريک ٹھہرانا، مؤمن کوناحق قتل کرنا، جنگ کے دن اللہ عزوجل کے جہاد سے بھاگنا، والدين کی نافرمانی کرنا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، جادو سيکھنا، سوداوريتيم کا مال کھانا ہيں۔”
( سنن الکبرٰی للبیہقی ، کتاب الزکاۃ ، باب کیف فرض الصدقۃ ،الحدیث: ۷۲۵۵، ج۴ ، ص ۱۴۹)
    سابقہ احادیثِ مبارکہ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ سود کھانے والا، کھلانے والا(یعنی دینے والا)، لکھنے والا، گواہ، اس ميں کوشش کرنے والا، اس پر مددگار تمام کے تمام فاسق ہيں اور اس ميں کسی قسم کابھی دخل کبيرہ گناہ ہے۔
error: Content is protected !!