Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مخدومی افکارومشن کے نقیب: حضرت شیخ الاسلام

مخدومی افکارومشن کے نقیب: حضرت شیخ الاسلام  

علامہ پیرسیدعرفان شاہ مشہدی موسوی کاظمی ،کراچی، پاکستان

 میں یہ سمجھتا ہوں کہ بڑا عرصہ سے ،بچپنے سے ،ہم اس سلسلہ عالیہ(اشرفیہ) کا تذکرہ ان کا نام سنتے ہیں۔پنجاب پاکستان کا میں رہنے والا ہوں تو ہمارا پنجاب کچھوچھا شریف سے بڑا دور ہے زمینی اور جغرافیائی لحاظ سے۔ گجرات منڈی بہا ء الدین ہمارا علاقہ ہے اور یہ ہندستان میں کچھوچھا شریف جہاں حضرت کی درگاہ اقدس ہے وہ زمینی اعتبار سے بہت دور ہے لیکن وہاں کا فیض ۔۔۔۔۔۔۔حضرت مخدوم العالم سمنانی کی ہستی ایسی ہے جنہوںنے تخت کو چھوڑ دیا او ر زہد اختیار کیا ، یہ ایران میں بادشاہ تھے ،صاحب تخت تھے ،ان کے والد، دادا، پردادا سب بادشاہ تھے۔ انہوں نے حکومت چھوڑی اور دنیا کی حکومت ترک کی اللہ تعالی نےان کو ولایت کا مالک بنا یا ،ولا یت کی بادشاہی عطا فرمائی۔ 
ہم بچپن سے یہ بات سنتے آئے ہیں کہ حضرت شیخ الاسلام مدنی میاں دامت برکاتہم القدسیہ ان کے جو والد گرامی ہیں حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ پاکستان بننے سے پہلے یعنی  ۱۹۴۴؁ ء  ۱۹۴۵؁ ء ۱۹۴۶؁ ء  میں گجرات پنجاب میں آپ خطاب فرماتے تھے ۔میں تو بہت بعد میں پیدا ہوا ہوں سن ۱۹۵۹؁ ء میری پیدائش ہے۔لیکن میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں نے  ایسے بے شمار بزرگ دیکھے جو حضرت محدث اعظم کچھوچھوی کی تقریروںکا با قاعدہ حوالہ دیتے تھے اور بعض ان کی تقریروں کے اقتباسات بھی ہمیں سناتے تھے اور ان کا انداز بھی بتاتے تھے کہ کتنی گرج کے ساتھ حضرت تقریر فرما یا کرتے تھے ۔ 
حضرت مخدوم العالم کی بڑی شان ہے۔۔۔۔ ان کا جو دریائے رحمت موجزن ہے اس کا اندازہ ہم اسی سے کرتے ہیں آج تک ان کے وقت سے لیکر اِس وقت تک ۔حضرت مخدوم العالم سرکار کو پردہ فرما ئے ہوے چھ سو سال ہوگئے ،  سن ۸۰۸؁ ھ میں حضرت کا وصال ہو، حضرت کی عمر مبارک سو سال (۱۰۰)  ہوی۔ مفتی محمد ایوب اشرفی صاحب قبلہ نے بڑی خوبصورت تقریر فرمائی اور کرامات بیانات فرمائے۔ ۶۰۰سال کے عرصہ میںسب سے بڑی   آپ کی خوبی،کرامت، میں آج بھی ا پنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں،  زندہ کرامت جو میں دیکھ رہاہوںوہ یہ ہے کہ چھ سو سال میں کچھوچھا شریف سے دعوت دین کا جو فیض ہے کبھی ختم نہیں ہوا۔اور نہ صرف ختم نہیں ہو ابلکہ وہاں کی دعوت دین اللہ کے فضل و کرم سے صف اول میں ہے،۶۰۰ سالوں میں ہمیشہ صف اول میں رہے ۔وہاں کے اکابر سادات دین والوں کی اور اہل سنت کی قیادت فرماتے رہے ہیں۔اس بات کوآپ لوگ محسوس کر سکتے ہیں ۔
 اس لیے کہ ایک دو چار دس پشت تک ایک فیضان کو، ایک سلسلہ کو لے جانا یہ بات بڑی مشکل ہے۔ آپ کو پتہ ہے عمرانیات کے، تمدن کے، معاشرت کے جوبڑے فلسفی علماء میں علامہ ابن خلدون کا شمار ہوتا ہے اور انکی کتاب کے مقدمہ میں انہوں نے لکھا ہے دنیا میں عمرانیات کے اور تمدن کے جو ماہرین ہیںاسکو سند سمجھتے ہیں۔علامہ ابن خلدون فرماتے ہیں کہ ایک ہی پیشہ پرچار پشت اگرفن کے ماہرین موجود رہیں نا تو اس گھرانے کو خانوادہ اور گھرانہ کہتے ہیں ۔گھر تو ہوتے ہیں گھرانے کم ہوتے ہیں۔ایک جیسے کمال کے، ایک جیسے ماہراگر ایک فن میں چار پشت مسلسل اگرخاندان میں ہونا،اس فن کا اس خاندان کو خانوادہ اور گھرانا کہتے ہیں۔ علامہ ابن خلدون فرماتے ہیںچار پشت اگر ایک جیسے لوگ ماہر ہوں ایک لڑی میں،دادا ،پوتا ،پڑپوتا اسطرح چلے انکو گھرانا کہتے ہیں۔شریعت میں طریقت میں کتنے لوگ ہیں جو خود ماہر ہیں،انکا بیٹا ماہر ہے،کسی کا پوتا ماہر ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہونگے جنکا پڑپوتا بھی ماہر ہو،ایسے لوگ بہت کم کم، خا ل خال نظر آتے ہیں۔لیکن اتنا تو ہم اپنی آنکھوںسے دیکھا حضور شیخ الاسلام ہیں انکے بھائی ہیں کس کوآگے کریں کس کو پیچھے کریں!  سید محمد مدنی میاں حضور شیخ الاسلام کا ایک اپنا مقام ہے ۔انکی زیارت کی ہے، انکی تفقہ اور انکی بصیرت ہم اور آپ نے دیکھی ہے ۔انکے والد گرامی کا تذکرہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سناہے اور انکی کیفیت کیا تھی؟ کیفیت یہ تھی کہ جب ۱۹۴۶ ء  کے اندرآل انڈیا بنارس کانفرنس ہوی ہے ۵۰۰۰ علماء و مشائخ وہاں موجود تھے۔صرف علماء اتنے موجودتھے پبلک کا حساب ہی نہیں ہے۔ آپ کا وہ خطبہ چھپا ہوا ہے اس وقت بھی دستیاب ہے بازار میں مل جاتا ہے۔اب یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ جو صرف کسی کے بیا ن کے محتاج ہوں۔ پانچ ہزار علماء اور وہ بھی کیسے علماء کہ حضور صدرالافاضل موجود ہیں۔سید محمد نعیم الدین مرادآبادی اس کانفرنس کے انتظامیہ کمیٹی کے چیرمن تھے۔آپ نے وہ کانفرنس بنائی ہے صدر الافاضل  بدرالاماثل صاحب خزائن العرفان ،کنزالایمان پر جنکا حاشیہ ہے۔جس کانفرنس کے بنانے والے انتظام کرنے والے مینجمینٹ کمیٹی کے چیرمن صدرالافاضل ہوں ،جس کی ایک نشست میں تقریر کرنے والا صدرالشریعہ ہوں۔صدرالشریعہ،بدرالطریقہ صاحب بہار شریعت علامہ امجد علی اعظمی جس کی ایک نشست کے مقرر ہوں اور صدرالافاضل جس کا انتظام کر نے والے ہوںاس پانچ ہزار علماء میں سے اگر صدارتی خطبہ دینے کے لیےاس وقت کے متدیّن علماء سید محمد محدث کچھوچھوی کا انتخاب کریں ،توپھر سمجھو نا پانچ ہزار علماء انکو اپنا صدر تسلیم فرماتے تھے۔
اور ان سے بھی آگے جن سے ہم واقف ہیں حضرت (محدث اعظم ہند)کے سسرکے والد اور آپ کے ناناحضرت قبلۂ عالم سید علی حسین اشرفی(اشرفی میاں اعلی حضرت) رحمۃاللہ تعالی علیہ ہمارے پنجاب کے جتنے علماء ہم نے دیکھے ان میں سے میرے ذہن میں، ایک طالب علم کی حیثیت سے ہمارے ذہنوں میںجس کا بڑا ایک نقشہ ہے ہمارے زندگیوں میں ،میری ڈائری میں بھی میں نے لکھا ہے جن ہستیوں کو دیکھنے کے بعد ہم فخر سے یہ کہہ سکتے ہیںکہ کچھ دیکھا ہے ان میں سے جس ہستی کانقشہ آج بھی میرے ذہن میں ہے ، میں بچہ تھا اس وقت حضرت کی زیارت کی ۔ مفتی ٔ اعظم پاکستان حضرت ابو البرکات حضرت سید احمد قادری رحمتہ اللہ تعالی علیہ ان جیسا فقیہ اور ان جیسا متقی عالم زندگی میں میں نے نہیں دیکھا ،اتنی بڑی ہستی تھے وہ۔میں بچہ تھا اس وقت ابھی صَرف کی کتابیں پڑھا کرتا تھا حضرت دورۂ حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ لاہور کو ایک دو مرتبہ جانا ہوا تو حضرت کو دورۂ حدیث پڑھاتے ہوے دیکھا، زیارت کے لیے گئے ۔ دوران درسِ حدیث فرماتے یہ بات میں نے اپنے کانوں سے حضرت کے منہ سے سنی ۔آپ فرمایا کرتے تھے: میرے والد حضرت سید دیدار علی شاہ ہیںشیخ المحدثین جن کا لقب ہے۔محدثین کا شیخ اور وہ بھی اعلیٰ حضرت بریلوی کے خلیفہ ہیں۔شیخ المحدثین حضرت سید دیدار علی شاہ محدث علویری اور انکے یہ فرزند تھے حضور مفتی ٔ اعظم پاکستان ابو البرکات حضرت سید احمد قادری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فقیر نے اپنے کانوں سے سنا۔ فرماتے تھے :’’پچاس ساٹھ سال ہوگے ٔ مجھے خدمتِ حدیث کرتے ہوے لیکن میرے پاس اگر کوئی سرمایہ ہے تو حضرت سید علی حسین   اشرفی کی نسبت ہے جو میرے پاس سرمایئہ آخرت ہے‘‘۔ اتنے بڑے ولی ٔ کامل تھے وہ۔حضوراشرفی میاں حضرت شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں کے پرنانا ہیں ۔
حضرت مخدوم سمنانی کا بہت بڑا گھرانہ ہےجس میں ایک سے ایک باکمال گزرے  ہیں۔ اس دورکو’ گیا گذر‘ادور کہا جاتا ہے، اس میں جب اتنے با کمال لو گ ہیں تو اُس دورکا کیا کہنا۔حضرت سیدمخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے خلیفئہ اجل واعظم حضرت سید عبد الرزاق نور العین کو اپنا جانشین بنایا۔ پہلے ان کی تربیت کی ، اپنا بیٹابنایا اور نور العین کا لقب عطا فرمایا۔تربیت فرماکر اپنا جانشین بنایا ۔اپنی نسبتیں ان کے حوالے کیں۔ جہاں تک میں نے پڑھا ان چھ سو سال میں۔ حضرت نور العین قدس سرہ العزیزسے لیکر حضرت شیخ الاسلام تک، حضرت ہاشمی میاں تک اس خاندان کو قیادت وسیادت، رہبری حاصل ہے۔ اس خاندان میں صرف عالم نہیں ہوے بلکہ عالموں کے سردارہوے ۔
نوٹ:۔یہ ا قتباسات 2014 ء کو بریسٹن انگلینڈمیں منعقدہ عرس مخدوم پاک میں حضرت کے خطاب سے ماخوذ ہیںمکمل بیان یوٹیوب پر موجود ہے۔  
error: Content is protected !!