Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر148: قدرت کے باوجود حج نہ کرنا

کبیرہ نمبر148:        قدرت کے باوجود حج نہ کرنا
 (1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”جو زادِ راہ اور اللہ عزوجل کے گھر تک پہنچانے والی سواری کا مالک ہو پھربھی حج نہ کرے توخواہ وہ يہودی ہو کر مرے يا نصرانی۔”اس کی وجہ يہ ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔(پ4، اٰلِ عمران:97)
(جامع الترمذی، ابواب الحج، باب ماجاء من التغلیظ فی ترک الحج، الحدیث: ۸۱۲،ص۱۷۲۸)
    مذکورہ حدیثِ پاک اگرچہ ضعيف ہے جيسا کہ علامہ نووی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے شَرْحُ الْمُھَذَّب ميں کہا ہے،البتہ! حضرت سيدنا عمرِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے يہ حدیثِ پاک صحيح سند سے مروی ہے،
(2)۔۔۔۔۔۔ اسی لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :”ميں نے ارادہ کر لياہے کہ ان شہروں ميں ان لوگوں کو (امیر بنا کر) بھيجوں جو جا کر استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو تلاش کر کے ان پر جزيہ لازم کريں کيونکہ وہ مسلمان نہيں۔”  (تفسیر ابن کثیر،سورۃاٰلِ عمران،تحت الآیۃ :۹۷،ج۲،ص۷۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ايسی باتيں چونکہ اپنی رائے سے نہيں کہی جا سکتيں، لہٰذا يہ مرفوع حدیث کے حکم ميں ہے، اسی وجہ سے ميں نے اسے صحيح حدیث قرار ديا ہے، اس حدیثِ پاک کوسیدنا امام بيہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی روايت کيا ہے، چنانچہ فرماتے ہيں :
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ”جسے کوئی ظاہری حاجت، سخت مرض يا ظالم بادشاہ نہ روکے پھر بھی وہ حج نہ کرے توچاہے يہودی ہو کر مرے يا نصرانی۔”
 (شعب الایمان، باب فی المناسک ، الحدیث: ۳۹۷۹،ج۳،ص۴۳۰)
error: Content is protected !!