Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اِیمان والدینِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہما:

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ہمارے مکی مدنی آقا، دوعالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے انتقال کے بعد دوبارہ زندگی عطا فرما کر مکرم فرمایا تا کہ وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ایمان لے آئیں، جیسا کہ ایک حدیث پاک میں آیاہے جسے امام قرطبی اور ابن ناصر الدین حافظ الشام وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا اللہ عزوجل نے اپنے نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اکرام کی خاطر موت کے بعد خلافِ قاعدہ والدینِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، اور یہ ایک مسلمہ اُصول ہے کہ خصوصیات پر قیا س نہیں کیا جا سکتا۔ بعض محدثین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے والدینِ مصطفی ،احمدِ مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وعلیہما معہ کے زندہ کئے جانے والی حدیث میں اختلاف کیا اور اس پر طویل بحث کی ہے، میں نے اس کارد اپنے فتاویٰ میں کر دیا ہے۔ 
    سیدناامام قرطبی اور ابن دحیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہما وغیرہ فرماتے ہیں :”اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہٌ عن العُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فضائل اور خصوصیات میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال تک مسلسل اضافہ ہوتا رہا، یہ معاملہ (یعنی والدینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا زندہ ہو جانا) بھی انہیں فضائل و اعزازات میں سے ایک ہے جو اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو عطا فرمائے اور ان کا زندہ ہو جانا اور ایمان لے آنا عقلی ونقلی طور پر ممکن ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کے مقتول کو قاتل کی نشاندہی کے لئے زندہ فرما دیا تھا اور حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے اور اللہ عزوجل نے اپنے حبیبِ لبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دستِ مبارک پر مُردوں کی ایک جماعت کو زندہ فرمایا، ایسی صورت میں والدینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے انتقال کے بعد نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی فضیلت اور اعزاز میں اضافہ کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ بے شک یہ بات بھی درجۂ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ اللہ عزوجل نے سورج کو غروب ہو جانے کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے لوٹا دیاتھا تاکہ حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم نمازِعصر ادا کر سکیں،تو جس طرح اللہ عزوجل نے سورج کو لوٹادینے اور گئے وقت کے لوٹ آنے سے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت افزائی فرمائی اسی طرح زندگی لوٹا کر اور ایمان لانے کا وقت گزرجانے کے بعد اس وقت کو لوٹا کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت افزائی فرمائی۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    یہ بات بعض دوسرے مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس قول کے منافی بھی نہیں کہ”یہ آیت مبارکہ:
وَّلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیۡمِ ﴿119﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہو گا۔(پ 1، البقرۃ:119)
خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والدینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔” کیونکہ اس آیتِ مبارکہ کے سببِ نزول کے بارے میں کوئی روایت بھی صحیح نہیں ہے اور اگر ہم بالفرض اسے صحیح مان بھی لیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ”اے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی وجاہت نہ ہوتی تو یہ جہنمی تھے۔” 
(44)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میرا اور تیرا باپ جہنم میں ہے۔”
    (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان ان من مات علی الکفر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۰۰،ص۷۱۶)
    اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات اللہ عزوجل کے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اس معاملہ کا علم عطا فرمانے سے پہلے بیان فرمائی یا پھر اس اعرابی کے اطمینانِ قلب اور ہدایت کے لئے ارشاد فرمائی تھی،لہٰذا جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے فرمایا :”تیرا باپ جہنم میں ہے۔” تو اس کا رنگ بدل گیا تھا۔ قابلِ اعتمادعلماء ومجتہدینِ اُمت رحمہم اللہ تعالیٰ نے پہلی آیتِ مبارکہ یعنی:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔”(پ: 24، المؤمن : 85)
سے فرعون کے کفر پر اجماع کا استدلال کیا ہے۔
(45)۔۔۔۔۔۔ سیدناامام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے(یعنی فرعون کے کافر ہونے کی روایت) سورۂ یونس کی تفسیر میں دو سندوں سے روایت کر کے فرمایا :”ان میں سے ایک سند حسن اور دوسری حسن غریب صحیح ہے۔” 
(46)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا یحیی بن زکریا علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کو ان کی ماں کے پیٹ میں مومن پیدا فرمایا اور فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا فرمایا۔”
     (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۵۴۳،ج۱۰،ص۲۲۴)
    اللہ عزوجل نے فرعون کے بارے میں سورہ یونس میں جو حکایت بیان فرمائی ہے : حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿90﴾
ترجمۂ کنزالا یمان:یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا بولامیں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں۔ (پ11، یونس:90)
    اس کا اس وقت ایمان لانا اسے نفع نہ دے گا کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمانِ عالیشان کے فورًا بعد ارشاد فرمایا :
آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان:کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔ (پ11، یونس:91)
    ایسے وقت ایمان کے مفید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اور اپنی قوم پر آنے والے عذاب کودیکھ کر ایمان لایاتھا اور جیسا کہ بیان ہوا کہ اس وقت ایمان لانا نفع بخش نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ اس کا ایمان لانا محض تقلید کے طور پر تھا جیسا کہ اس کے قول اِلَّاالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَاءِ یْلَ سے ظاہر ہے گویا کہ اس نے اس بات کا اعتراف کیا:”میں اللہ عزوجل کو تو نہیں جانتا لیکن میں نے بنی اسرائیل سے سنا ہے کہ کائنات کا ایک خدا ہے، لہٰذامیں اس خدا پرایمان لایا جس کے بارے میں ،میں نے بنی اسرائیل سے سنا ہے اور وہ قوم اس کے وجود کا اقرار کرتی ہے۔”
    یہی تو تقلید محض ہے کیونکہ فرعون تو دہریہ اور صانع کے وجود کا منکر تھا اور ایسا گندا اور برائی کی انتہاء کو پہنچا ہوا اعتقا د، تقلید محض سے زائل نہیں ہوتا، بلکہ اسے زائل کرنے کیلئے دلیلِ قطعی کے بغیر چارہ نہیں اوراگر بالفرض دلیلِ قطعی کے بغیر بھی اسے درست مان لیاجائے تو پھر بھی دہريے اور اس جیسے سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے اپنے کفریہ عقائد کے باطل ہونے کا اقرار کرنا بھی ضروری ہے۔ پھر اگر فرعون یہ کہتا: ” اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَیْرُہ،  یعنی میں اس ذات پر ایمان لایا جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔” تب بھی وہ مسلمان نہ ہوتا کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں (کہ نزع کے عالم میں جب روح نرخرے تک پہنچ جائے یا عذاب نظر آنے لگے، ایسے وقت میں ایمان لانا مفید نہیں ہوتا) اور فرعون نے تو خالق کی نفی اوراپنی خدائی جیسے کفریہ عقائد کے بطلان کا اعتراف نہ کیا اوروہ یہ بھی نہ جانتا تھا کہ اس کے اپنے اس قول اِلَّاالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَاءِ یْلَ سے اس نے کیاارادہ کیا ہے ؟    جب ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصریح کردی ہے کہ اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَیْرُہ، سے ایمان ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں دوسرے معنی کا احتمال بھی موجود ہے، لہٰذا فرعون کے اس قول سے بھی ایمان ثابت نہ ہوگا۔ اوراگر بالفرض یہ مان بھی لیں کہ اس قول سے ایمان ثابت ہو جاتا ہے، تب بھی اس قول سے فرعون کا مؤمن ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس بات پراجماع ہو چکا ہے کہ اللہ عزوجل کے رسول پر ایمان نہ ہونے کی صورت میں اللہ پرایمان لانا درست نہیں، لہٰذا اگر تسلیم کر بھی لیا جائے کہ فرعون اللہ عزوجل پر صحیح ایمان لے آیا تھا تب بھی حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے اس کا ایمان درست نہ ہو گا اور نہ ہی اس وقت اسے حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کا خیال آیا تھا لہٰذا اس کا ایمان مفید نہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ اگر کوئی کافر ہزارو ں مرتبہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ یا اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَ بِہِ الْمُسْلِمُوْنَ کہے تب بھی اس وقت تک مؤمن نہ ہو گا جب تک وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ نہ کہہ لے۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وسوسہ:جادوگروں نے تو اللہ عزوجل پر ایمان لاتے وقت حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کا ذکر نہیں کیا مگر اس کے باوجود ان کا ایمان قبول کر لیا گیا؟
جواب:آپ کی بات درست نہیں کیونکہ انہوں نے حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کا تذکرہ اپنے اس قول :
اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿121﴾ۙرَبِّ مُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ ﴿122﴾
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ایمان لائے جہان کے رب پر جو رب ہے موسیٰ اور ھارون کا۔ (پ9، الاعراف :121، 122)
میں کردیا تھا کیونکہ ان کا یہ ایمان لانا حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزے کی بنا پر ہوا تھا اور معجزہ یہ تھا کہ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عصا مبارک ان کی ایجاد کردہ بلاؤں کو کھا گیا تھا اور رسول کے معجزے پر ایمان لانے کے بعد اللہ عزوجل پر ایمان لانا دراصل رسول پر ایمان لانا ہی ہے۔ لہٰذا وہ لوگ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر صراحۃً ایمان لے آئے تھے جبکہ فرعون نہ تو صراحۃً ایمان لایا تھا اور نہ ہی اشارۃًبلکہ اس نے تو بنی اسرائیل کو یاد کیا تھا حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں حالانکہ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ عزوجل کے سچے رسول اور اللہ عزوجل اور اس کی صفات کے عارف اور راہِ نجات کے راہنماتھے لہٰذا فرعون کے اس قول میں اپنے کفر پر قائم رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ 
سوال:امام قاضی عبد الصمد حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تفسیر میں اس بات کی تصریح کی ہے :”صوفیاء کرام کا مذہب یہ ہے کہ ایمان لانا ہر صورت میں نفع بخش ہے، اگرچہ عذاب دیکھتے وقت ہی کیوں نہ ہو اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ مذہبِ قدیم ہے کیونکہ قاضی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متقدمین میں سے ہیں اور پانچویں صدی کے اوائل یعنی ۴۳۰؁ ہجری میں بقیدِحیات تھے۔ اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :” علماء ِمتقدمین ُومتأخرین رحمہم اللہ تعالیٰ میں تیسری صدی ہجری حدِ فاصل ہے۔” جب صوفیاءِ کرام کایہ مذہب ہے تو اس کے برعکس فرعون کے کفر پر اجماع کیسے ہو گیا؟ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

جواب: اگر ہم مجتہدین اور قابلِ اعتماد صوفیاء ِکرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب اس قول کو صحیح تسلیم کر لیں تاکہ ان کی مخالفت کی صورت میں اجماع منعقد نہ ہوسکے، تب بھی یہ اعتراض ہم پر وارد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمارے بیان کردہ فرعون کے کفر پر منعقد اجماع میں خلل ڈالتا ہے، کیونکہ ہم اس کے ناامیدی کے عالم میں ایمان لانے کی وجہ سے اس پر کفر کاحکم نہیں لگاتے، بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جس انداز میں اللہ عزوجل پر ایمان لایاتھا وہ درست نہ تھا اوراگربَرْ سَبِيْلِ تَنَزُّلْ ( یعنی اس کا اللہ عزوجل پر ايمان لانا درست مان بھی ليا جائے پھر بھی )وہ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اصلاً ایمان ہی نہ لایا تھا، لہٰذا صوفیاء کرام کی طرف منسوب یہ مذہب ہمارے مؤقف پر کوئی اعتراض وارد نہیں کرتا۔ 

    اما م ، عارف ، محقق محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ”الفتوحات المکیۃ” میں اضطرار کے وقت ایمان لانے کو صحیح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :”فرعون مؤمن تھا۔” (آئندہ آنے والے صفحات میں مصنف علیہ الرحمۃ اس کا ردکریں گے اورانہی کے حوالے سے یہ ثابت کریں گے کہ فرعون پکاکافرتھا)مزید فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ”جب فرعون اوراس کے لشکر کے درمیان غرق کی مصیبت حائل ہوئی تو اس نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں التجاء کی اور اپنے باطن کی ذلت ورسوائی کو دیکھ کرمشکل دور کرنے کے لئے عرض کیا:
اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ
ترجمۂ کنز الایمان:میں ایمان لایاکہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ (پ11، یونس :90)
    جیسا کہ جادوگروں نے ایمان لاتے وقت یہ بات:
اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿121﴾ۙرَبِّ مُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ ﴿122﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان:ہم ایمان لائے جہان کے رب پر جو رب ہے موسیٰ اور ھارون کا۔(پ9، الاعراف :121، 122)
شک وشبہ اور اشکال دور کرنے کے لئے کہی تھی، پھر فرعون نے
وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿90﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور میں مسلمان ہوں۔(پ11، یونس:90)
کہاتو اللہ عزوجل نے عتاب کرتے ہوئے اس سے ارشاد فرمایا:
وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورپہلے سے نافرمان رہا اور توفسادی تھا۔(پ11، یونس:91)
یعنی یہ بات اب تجھ پر ظاہر ہوئی تونے پہلے اسے کیوں نہ جان لیا؟ 
پھر اس کی روح قبض کرنے سے پہلے اس سے ارشاد فرمایا:
فَالْیَوْمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً ؕ
ترجمۂ کنزا لایمان:آج ہم تیری لاش کو اترا دیں(یعنی باقی رکھیں ) گے کہ تو اپنے پچھلوں کیلئے نشانی ہو۔(پ11، یونس:92) 
    یعنی تا کہ نجات اس کی علامت ہو جائے کیونکہ جب اس نے وہی کہا جو میں نے اسے کہا تھا تو اس کی نجات بھی میری طرف سے ایسی ہی ہو گی جیسی تمہاری ہو گی، کیونکہ عذاب کا تعلق صرف ظاہر سے ہوتا ہے اور یقینا میں نے مخلوق کو اس کا عذاب سے نجات پانا دکھا دیا، لہٰذا غرق ہونا ابتدائی وقت میں عذاب تھا اور اس میں مرنا خالص شہادت تھی تا کہ کوئی بھی اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ،


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿87﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔(پ13، یوسف :87)
اور اعمال کادارومدار تو خاتمہ پر ہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کایہ فرمانِ عالیشان:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیاجب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔(پ24، المؤمن:85)
    نہایت واضح ہے کہ حقیقی نفع دینے والا تو اللہ عزوجل ہی ہے لہٰذا انہیں اللہ عزوجل ہی نے نفع پہنچایا اوراللہ عزوجل کے اس فرمان:
سُنَّتَ اللہِ الَّتِیۡ قَدْ خَلَتْ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا( پ24،المؤمن :85)
سے مراد مایوسی کے وقت ایمان لانا ہی ہے، نیز فرعون کی روح قبض کر لی گئی اور حالتِ ایمان میں اس کی موت میں تاخیر اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ کہیں وہ اپنے سابقہ دعوی پر نہ لوٹ آئے۔ اور اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تو انہیں دوزخ میں لااُتا رے گا۔(پ12، ھود:98)
میں اس بات کی دلیل کہاں ہے کہ فرعون بھی ان لوگو ں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو گا؟ بلکہ اللہ عزوجل نے تو ارشاد فرمایا:
اَدْخِلُوۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ
ترجمہ کنزالایمان:حکم ہوگا فرعون والوں کو داخل کرو۔(پ24، المؤمن:46)
    یہ نہیں فرمایا :”اے فرعون! جہنم میں داخل ہو جا۔” اللہ عزوجل کی رحمت اس بات سے بہت وسیع ہے کہ وہ مضطر کاایمان قبول نہ فرمائے اور فرعون کے غرق ہوتے وقت کے اضطرار سے بڑا اضطرار کونسا ہو سکتا ہے؟ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوۡٓءَ
ترجمۂ کنزالایمان:یاوہ جولاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے اور دور کر دیتا ہے برائی۔(پ20، النمل:62)
    اس آیتِ کریمہ میں اللہ عزوجل نے مضطر کی پکار کے ساتھ مقبولیت اور برائی ہٹا دینے کو ملا دیا، لہٰذا فرعون کا عذاب صرف غرق ہونا ہی تھا۔” 
سوال:یہ ہے کہ علامہ ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کلام صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح نہیں ہے تواس کے رد کی وجہ بیان فرمائیے؟
جواب:یہ کلام صحیح نہیں، اگرچہ ہم اس کے قائل کی جلالت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر معصوم توصرف انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام (اور ملائکہ) ہی ہیں، سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مزار پُرانوار کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا :”ان صاحبِ مزار( یعنی نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کے علاوہ ہرایک سے اس کے قول کے بارے میں مؤاخذہ ہو گا اور اس کا قول اس پر لوٹا دیا جائے گا۔” 
    نیزبعض کتب میں امام ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود یہ بات نقل فرمائی ہے :” ہامان وقارون کے ساتھ فرعون بھی جہنم میں ہے۔” لہٰذا جب اما م کے کلام ہی میں اختلاف ہو گیا تو اب اسی کلام کو لیاجائے گا جو ظاہری دلائل کے مطابق ہو گا اور جو اس کے خلاف ہو گا اسے چھوڑ دیا جائے گا، بلکہ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ آیتِ مبارکہ اور ترمذی شریف کی صحیح حدیث، مایوسی کے وقت ایمان کے باطل ہونے پر صراحۃً دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا اس آیت مبارکہ:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ
ترجمۂ کنز الایمان:توان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا۔(پ24، المؤمن :85)
میں اس تأویل :”اللہ عزوجل ہی نفع دینے والا ہے۔” کی طرف توجہ ہی نہیں کی جائے گی۔ اس تأویل کے بطلان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن وسنت کی اصطلاح میں اشیاء کی اضافت ان کے اسباب کی طرف کی جاتی ہے، لہٰذا جب یہ کہہ دیا گیا کہ ایمان نفع نہ دے گا، تو اس کاشرعی معنی یہی ہے کہ اس شخص پر یہ حکم لگا دیا گیا کہ اس کا ایمان باطل اور ناقابلِ اعتناء ہے۔ جب اللہ عزوجل ہی ہر وقت حقیقی نافع ہے، تو وقوعِ عذاب کی اس حالت میں جبکہ عذاب کا واقع ہونا لازم ہو جائے تواللہ عزوجل کے نافع ہونے کی تخصیص کرنے پر اس قائل کے پاس کیا دلیل ہے؟ اور اگر اللہ عزوجل اسے نفع دینا چاہتا تو عذاب کے ذریعے ان کی بیخ کنی کیوں کرتا؟


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانِ عالیشان:
وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿٪85﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے۔(پ24، المؤمن:85)
اس بات پر واضح دلیل ہے کہ:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ
ترجمہ کنزالایمان:توان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا۔(پ24،المؤمن:85 )
سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ ایمان لانے کے باوجود کفر پر قائم ہیں،اس آیت کریمہ کے بارے میں ائمہ صحابہ وتابعین عظام علیہم الرضوان کی تفسیر اور ان کے بعد والوں کی صحیح اور اجماع کے مطابق (اس آیت کی ) تفسیر کا ہمارے مؤقف کے موافق ہو نا ہی کافی و وافی ہے۔
اور جب یہ بات ثابت اور واضح ہوگئی کہ”مایوسی کے وقت کا ایمان درست نہیں۔” تو یہ بھی ثابت ہو گیاکہ”فرعون کا ایمان درست نہیں۔”کیونکہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ”اگر ہم مایوس کے ایمان کو درست مان بھی لیں تب بھی مذکورہ آیت اس بات پردلالت کرتی ہے کہ فرعون کا ایمان، حضرت سیدنا موسیٰ و ھارون علیٰ نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے درست نہ تھا، جبکہ جادوگروں کا ایمان اس لئے درست تھا کہ وہ حضرت سیدنا موسیٰ وھارون علیٰ نبینا و علیہما الصلاۃ والسلام پر ایمان لے آئے تھے۔” جو شخص قرآن پاک میں ان کے حکایت کردہ الفاظ میں غور وفکر کرے تو وہ ان دونوں کے ایمان کے فرق کو واضح طور پرجان لے گا، لہٰذا ان میں سے ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
    امام ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول تو بڑا ہی عجیب ہے :”فرعون نے اپنے باطن کی ذلت ورسوائی دیکھی تو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں التجاء کی۔” حالانکہ جب وہ رب العزت عزوجل کی ربوبیت ہی کا منکر تھا تو ذلت وفقرمیں سے اس کے باطن میں کونسی چیز تھی؟ اور وہ تو عقیدہ ہی یہ رکھتاتھا :”وہی معبودِ مطلق اور رب اکبر ہے۔” اسی وجہ سے وہ موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو ایذاء دیتا اور ان کی تکذیب کے ساتھ ساتھ ان سے دشمنی بھی رکھتا تھا، وہ تو رسول کی دشمنی میں ابو جہل کی طرح تھا، اسی لئے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ابو جہل کو اس اُمت کا فرعون قرار دیا، اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ اس کا باطن ان دونوں (یعنی ذلت وفقر) پرتھا تو ایمان درست نہ ہونے کی وجہ سے اس آیتِ کریمہ:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:کیااب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔(پ11، یونس:91)
کو عتا ب پرمحمول کر لینے سے اسے ان دونوں کے مقابلہ میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اگر اس کا اسلام اور ایمان درست ہوتاتو اس کی فضیلت کے لئے شیخ ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے مطابق مناسب یہی تھا کہ کہا جاتا: ” آلْاٰنَ نُقْبِلُکَ وَ نُکْرِمُکَ یعنی اب ہم تجھے قبول کریں گے اور عزت سے نوازیں گے۔” کیونکہ اس کے ایمان کی درستگی کے لئے اللہ عزوجل کی اس پر رضا لازم تھی اور جسے اتنی بڑی رضا حاصل ہو جائے تو مقامِ فضل کی رعایت کرتے ہوئے اس کے صحیح ایمان کے جواب میں یہ الفاظ نہیں کہے جاتے کہ:
آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:کیااب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔(پ11، یونس:91)
کیونکہ تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر باسلیقہ شخص جانتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے اسی کو مخاطب کیا جاتا ہے جس پر غضب ہوتا ہے نہ کہ ان لوگوں کوجن پر رضا ہوتی ہے۔ 
    ”وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْن”کی تخصیص سے بھی شیخ ابن عربی کے قول کا انکار ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اگر فرعون کا ایمان درست ہوتا تو اس کے پچھلے گناہ اور اس کے پیروکاروں میں ڈالے گئے فساد کو مٹا دیا جاتا اور اس عظیم معافی کے بعد اسے عقاب، ملامت اور زجرو توبیخ کے ساتھ کیسے مخاطب کیا جاتا؟ ایسا صرف اس پر عذاب کی عظیم میخیں گاڑنے، اس کی پچھلی برائیاں یاد دلانے اوریہ بتانے کے لئے کیا گیا تھا کہ اس کی اپنی عادتوں نے اسے آخری وقت تک ایمان لانے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب اس کا ایمان لانا اسے نفع نہ دے گا۔ خصوصًا جب کہ وہ اللہ عزوجل کے رسول حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی تکذیب اور اللہ عزوجل کی آیتوں سے عناد رکھتا اور اس کی بارگاہ سے اعراض کرتا تھا۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    نیز ”بدن” کی نجات کی تخصیص اس بات پر شاہد وعادل ہے کہ اس پر وہی اعتراض ہوتاہے جو کچھ مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ اس سے مقصود یہ تھا کہ لوگ فرعون کے خدائی دعویٰ کی وجہ سے اس کے غرق ہونے کی تصدیق نہ کرتے کیونکہ (عام تاثر یہی ہے کہ) اس جیسے لوگ (یعنی خدائی دعوے دار) نہیں مرتے، لہٰذا اسے ایک بلند ٹیلے پر اچھال دیا گیا اور اس کے جسم پر اس کی زرہ بھی موجود رہی تا کہ اسے پہچانا جا سکے۔ 

    عرب لوگ زرہ پر بھی”بدن” کا اطلاق کرتے ہیں، فرعون کی ایک زرہ تھی جس کے ذریعے اسے پہچانا جاتا تھا اورایک شاذ قرأ ت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ لفظِ بدن کہہ کر زرہ مراد لی جاتی ہے جیسا کہ بِاَبْدَانِکَ بھی مروی ہے جس کا معنی ہے دُرُوْعِکَ، کیونکہ فرعون اکثر اپنی جان کے خوف سے زرہ پہنے رہتا تھا، یااس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بالکل برہنہ تھا اور اس پر ستر پوشی کے لئے کوئی چیز نہ تھی، یا پھر وہ روح سے خالی جسم تھا۔ مذکورہ قرأ ت بھی ان تمام معانی کے منافی نہیں کیونکہ اسکے بدن کے ہر عضو کو ایک علیحدہ بدن بنا دیا گیا اور ایک شاذ قراء ت میں اسے حاء کے ساتھ نُنْحِیْکَ بھی پڑھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم تجھے سمندر کے کنارے پر پھینک دیں گے۔ 
    مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :”اللہ عزوجل نے فرعون کو مرے ہوئے بیل کی طرح سمندر کے کنارے پر پھینک دیا تا کہ وہ باقی ماندہ بنی اسرائیل اور دیگر لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے اوران پر یہ بات واضح ہو جائے کہ جو شخص ظالم ہو اور اللہ عزوجل کی جناب میں تکبر کرتا ہو اس کی پکڑ اس طرح ہوتی ہے کہ اسے ذلت واہانت کی پستی میں پھینک دیا جاتاہے تا کہ لوگوں کو اس کے طریقہ سے ڈرایا جائے اور تمام قوموں کی اللہ عزوجل کی ظاہر وباہر قدرت کی طرف راہنمائی کی جائے، نیز حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لائے ہوئے دین کے معاملہ میں ان کی تصدیق کی جا سکے۔ پھر اللہ عزوجل نے اُمت محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کو دلائل سے اعراض کرنے پر جھڑکتے ہوئے اور ان میں غور وفکر کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے اس آیتِ مبارکہ کا اختتام اس طرح فرمایا:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪92﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور بے شک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ (پ11، یونس: 92 )
جیسا کہ ایک دوسری جگہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
لَقَدْ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُوْلِی الۡاَلْبَابِ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں۔(پ 13، یوسف:111)
تنبیہ6:
    مذکورہ بالا آیات واحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں :”کافروں کو جہنم میں ملنے والا عذاب دائمی اور ابدی ہو گا اور اس مؤقف کے خلاف جو روایات آئی ہیں ان میں تاویل کرنا واجب ہے۔” اس لئے کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿۱۰۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بے شک تمہارا رب جب جو چاہے کرے۔0(پ12، ھود:107)
کا ظاہری معنی تو یہ ہے کہ کافروں کے عذاب کی مدت زمین وآسمان کی مدتِ بقاء کے مساوی ہے، مگر جنہیں اللہ عزوجل چاہے گا وہ اس مدت تک بھی جہنم میں نہ رہیں گے۔ مگر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بیس (20) وجوہات سے اس میں تاویل کی ہے، ان میں سے بعض کا تعلق زمین وآسمان کی مدت سے مقید کرنے کی حکمت سے ہے اور بعض کاتعلق استثناء کی حکمت سے ہے۔
    پہلی صورت کے اعتبار سے اس کامعنی یہ ہے :”اس سے مراد جنت کے زمین وآسمان ہیں۔” کیونکہ ہر وہ چیز جو تم سے بلند ہے وہ آسمان ہے اور ہر وہ چیز جس پر تم قرار پکڑتے ہو وہ زمین ہے اور اس اعتبار سے جنت کے زمین وآسمان کا وجود ایک قطعی اَمر ہے جوکہ کسی پر مخفی نہیں، لہٰذا اس بات کی یہ نظیر پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی اس طرح کہ اس آیت کو اس تاویل پر محمول کرنا ہی جائز نہیں کیونکہ یہ مخاطَب لوگوں کے نزدیک معروف نہیں ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔یا”اس سے دنیا کے زمین وآسمان مراد ہیں۔” اور اسے عرب کی کسی چیز کے دوام اور ہمیشگی کے بارے میں خبر دینے کے مطابق بیان کیا گیاہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں:” لَااٰتِیْکَ مَادَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ یعنی میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا جب تک زمین وآسمان قائم ہیں، ”
٭۔۔۔۔۔۔یا جب تک رات دن میں اختلاف رہے گا، 
٭۔۔۔۔۔۔ياجب تک سمندر موجیں مارتا رہے گا، 
٭۔۔۔۔۔۔ياجب تک پہاڑ قائم رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ ان سے اللہ عزوجل کا خطاب عربی زبان کے عرف کے مطابق ہوتاہے اور ان کے عرف میں یہ الفاظ ہمیشگی اور دوام کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ 
    حضرت سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے زمین وآسمان کے دوام کے بارے میں مروی ہے :”تمام مخلوق کی اصل عرش کا نور ہے اور آخرت میں زمین وآسمان اسی نور کی طرف لوٹ جائیں گے جس سے انہیں پیدا کیا گیا اور پھر ہمیشہ عرش کے نور میں رہیں گے۔” 
    اس جواب کو اس معنی کی ضرورت ہے کہ زمین وآسمان کے دوام کی قید کو اس طرح سمجھا جائے کہ کافر جہنم میں اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ زمین وآسمان قائم رہیں گے۔
٭ ۔۔۔۔۔۔بعض حضرات نے یہ معنی مراد لینے سے منع کیاہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں چیزیں جب تک قائم رہیں گی ان کا جہنم میں رہنا بھی باقی رہے گا۔اور ایک قاعدہ بیان کیا ہے :”جب شرط پائی جائے تو مشروط کا پایا جانا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن بعض اوقات جب شرط نہ پائی جائے تو یہ بھی ضروری نہیں کہ مشروط بھی نہ پایا جائے۔ اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ جیسے آپ کہیں:”اگر یہ انسان ہے توحیوان بھی ہے۔” پھرکہیں :”مگر یہ توانسان ہی ہے۔” لہٰذا نتیجہ نکلا کہ یہ حیوان بھی ہے، یاکہیں :”مگر یہ انسان نہیں۔” تو اب نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ یہ حیوان بھی نہیں کیونکہ مقدم کی نقیض کا استثناء درست نہیں۔
    لہٰذا اب اگر اس مثال اور قاعدہ کے مطابق آیتِ مذکورہ کے مفہوم کو سمجھا جائے تو وہ کچھ اس طرح ہو گاکہ اس میں زمین و آسمان کادوام شرط اور دائمی عذاب مشروط ہے،لہٰذا جب ہم کہیں :”جب تک زمین وآسمان قائم ہیں ان کا عذاب باقی رہے گا۔” پھر کہیں :” مگر زمین وآسمان تو قائم ہیں۔” تو ہمارے اسی قول سے ان کے عذاب کا دائمی ہونا ثابت ہوگیا، اور اگر ہم یہ کہیں :”زمین وآسمان قائم نہیں۔” تو یہ ضروری نہیں کہ وہ دائمی عذاب میں بھی نہ ہوں، ان کے عذاب کے دائمی ہونے کے ساتھ زمین وآسمان کی بقا یا عدمِ بقا کی بات نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا ان کے دوام کی قید کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس میں ایک بہت عظیم فائدہ پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ تقیید اس عذاب کے طوالت اور ہمیشہ قائم رہنے پر دلالت کرتی ہے جس کی طوالت اورلمبائی کا عقل احاطہ نہیں کرسکتی۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پھرکیا اس عذاب کی کوئی انتہاء بھی ہے یانہیں ؟ اس کا جواب دیگر دلائل سے حاصل ہوگا جو کہ کافروں کے جہنم میں ہمیشگی کی تصریح کرنے والی آیات ہیں جو اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ ان کے عذاب کی کوئی انتہاء نہیں۔ 

    دوسری صورت کے اعتبار سے اس کامطلب یہ ہے کہ یہ جہنمیوں کا استثناء ہے کیونکہ وہ جہنم سے”زمہریر” اور ”حمیم ” پینے کے لئے نکلیں گے اورپھر واپس جہنم میں لوٹ جائیں گے۔ لہٰذا وہ ان اوقات کے علاوہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، یہ اوقات بھی اگرچہ عذاب ہی کے ہیں مگر اس وقت وہ حقیقتاً جہنم میں نہیں ہوں گے۔ یا پھر اس آیتِ مبارکہ میں ”ما” ذوی العقول کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ اس آیتِ مبارکہ:
فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النَّسَاءِ
ترجمۂ کنز الایمان: تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں۔(پ4، النساء:3)
میں ہے، اس صورت میں گنہگار مؤمنین کا”خٰلد ین” کی ضمیر سے مستثنیٰ متصل ہو گا کیونکہ ان میں شقی لوگ بھی شامل ہیں یا پھر یہ ان کوشامل نہ ہونے کی وجہ سے مستثنیٰ منقطع ہے اور یہ بات زیادہ واضح ہے، یاپھر یہ مستثنٰی منقطع تو ہے مگر اس میں لا،سوٰی کے معنی میں ہے، مراد یہ ہے :”جب تک زمین وآسمان قائم رہیں گے مگر جسے تمہارا رب عزوجل چاہے گا اس کے عذاب میں اضافہ فرما دے گا۔” اس کے اور بھی بہت سے جوابات ہیں جن کے بعید ہونے کی وجہ سے میں نے ان سے اعراض کیا ہے۔ 
(47)۔۔۔۔۔۔امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کردہ حدیث اس کے منافی نہیں: ”جہنم پر ایک ایسا دن ضرور آئے گا جس میں اس کے دروازے کھل جائیں گے تو اس میں کوئی بھی نہ ہو گا اور یہ دن ایک زمانہ تک جہنمیوں کے جہنم میں رہنے کے بعد ہو گا۔”     


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کیونکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن کے بارے میں محدثینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ”غیر ثقہ اور کثیر جھوٹی روایات بیان کرنے والا’ ‘کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور یہ بات جمہور محدثینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابن مسعود اور حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔ ابن تیمیہ نے کہا :”یہ حضرت سیدنا عمر فاروق ، حضرت سیدنا ابن عباس، حضرت سیدنا ابن مسعود، حضرت سیدنا ابوہریرہ اور حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قول ہے، حضرت سیدنا حسن بصری اور حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی بھی یہی رائے ہے نیز حضرت علی بن طلحہ الوَالِبی اورمفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ایک جماعت بھی اسی کی قائل ہے۔ 

    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی قول دیگر اقوال کا رد کرتاہے جیسا کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کہنا ہے :”میں نے حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔” اور ظاہر بھی یہی ہے کہ مذکورہ شخصیات سے اس بارے میں کوئی صحیح روایت مروی نہیں ۔اور اگر بالفرض اسے صحیحتسلیم کر بھی لیں تب بھی علماءِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے بیان کے مطابق اس کامطلب یہ ہو گا :”اس میں کوئی گنہگار مؤمن نہ ہو گا جبکہ کافروں کے ٹھکانے تو جہنم میں ہی ہوں گے ،وہ اُن سے بھرا رہے گا اورکفار اس سے کبھی نہ نکلیں گے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل نے بہت سی آیات میں اس بات کو ذکر کیا ہے۔ 
    حضرت سیدنا امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تفسیرِ کبیر میں ہے :”ایک قوم کاکہنا ہے کہ کافروں کاعذاب ختم ہو جائے گا اور ان کے عذاب کی بھی ایک انتہاء ہے۔” اور وہ اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہيں:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحْقَابًا ﴿ۚ23﴾

ترجمۂ کنز الایمان: اس میں قرنوں(مدتوں) رہیں گے۔  (پ30، النباء:23)
    وہ اس طرح کہ ظلم کا  گناہ متناہی ہے، لہٰذا اس پر لامتناہی سزا دینا ظلم ہے۔ اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کا جواب پیچھے گزر چکا اور اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان اَحْقَابًا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ان کے عذاب کی کوئی انتہاء ہے، کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عرب اس سے دوام کو تعبیر کرتے ہیں اور یہ کوئی ظلم نہیں، کیونکہ کافر جب تک زندہ رہا کفر کا عزم کرتا رہا، لہٰذا اسے ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا کیا گیا یعنی دائمی جرم کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزا چکھایا گیا، لہٰذا اس کا عذاب اس کے جرم کی پوری پوری سزاہے۔ یاد رکھیں کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
غَیۡرَ مَجْذُوۡذٍ ﴿108﴾
ترجمۂ کنزالایمان:کبھی ختم نہ ہوگی۔(پ12، ھود:108)
کی وجہ سے اہلِ جنت کے معاملہ میں تقیید اور استثناء سے تمام علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اتفاق کے مطابق ظاہری معنی مراد نہیں کہ گذشتہ نظیر کی طرح اس میں تاویل کی جائے۔ بلکہ اس سے اہلِ اعراف(یعنی جنت اورجہنم کے درمیان والے ) اورگنہگار مؤمن مراد لئے جائیں گے جو بعد میں جنت میں داخل ہوں گے۔ 
    حضرت سیدنا ابن زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں :”اللہ عزوجل نے ہمیں اہلِ جنت کے لئے تو اپنے ارادے کی خبر اس فرمانِ عالیشان:
عَطَآءً غَیۡرَ مَجْذُوۡذٍ ﴿108﴾
ترجمۂ کنز الایمان: یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی۔(پ12، ھود108)
کے ذریعے دی ہے، جبکہ اہلِ جہنم کے بارے میں ہمیں اپنے ارادے کی خبر نہیں دی۔”
error: Content is protected !!