Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قوتِ غضب میں تفریط:

غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم آنا کہ بالکل ہی ختم ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑ جائے، تو یہ ایک مذموم صفت ہے کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مُرُوَّت اور غیرت ختم ہو جاتی ہے اورجس میں غیرت یامروّت نہ ہو وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ ایسا شخص عورتوں بلکہ حشراتُ الارض(یعنی زمینی کيڑے مکوڑوں ) کے مشابہ ہوتا ہے۔
    حضرت سیدناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے اس قول کا یہی معنی ہے :”جسے غصہ دلایا گیا اور وہ غصہ میں نہ آیا تو وہ گدھا ہے اورجسے راضی کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ راضی نہ ہوا تو وہ شیطان ہے۔”
    اللہ عزوجل نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی حمیت اور شدت پر ان کی تعریف فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
(1) اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍعَلَی الْکٰفِرِیْنَ
ترجمۂ کنز الایمان: مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔(پ6، المائدۃ:54)
(2) اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔(پ26، الفتح:29)
(3) یٰایٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں دینے والے(نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو۔(پ10، التوبۃ:73)
    اس معاملہ میں غصے کی اس کمی کانتیجہ یوں ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اپنے حرم یعنی محرم عورتوں مثلاً بہن یا بیوی وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کے معاملہ میں غیرت کی کمی کا شکارہو جاتا ہے، اور دوسرے یہ کہ گھٹیا اور کمینے لوگوں سے ذلت پہنچنے اور احساس کمتری میں مبتلا ہونے کا بھی احتمال ہے، حالانکہ یہ سب اِنتہائی برا اور قابلِ مذمت ہے، اگر اس کے ثمرات غیرت کی کمی اور ہیجڑوں کی سی طیبعت کے علاوہ کچھ نہ ہوں تو اس کے بارے میں شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمان ہے:
(90)۔۔۔۔۔۔”کیاتمہیں سعد (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی غیرت پر تعجب ہے حالانکہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اوراللہ عزوجل مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے اور اس کے غیورہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ اس نے بے حیائی کو حرام فرما دیاہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند الکوفیین، الحدیث:۱۸۱۹۲،ج۶،ص۳۳۴)
(91)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں، اسی لئے اللہ عزوجل نے ظاہری وباطنی فحاشی کو حرام فرما دیا اور اللہ عزوجل سے زیادہ اپنی تعریف کو پسند کرنے والا بھی کوئی نہیں اس لئے کہ اس نے اپنی تعریف خود بیان فرمائی ہے اور اللہ عزوجل سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے اور اس کی خاطر اس نے کتا بیں نازل فرمائیں اور رسول علیہم الصلوٰۃ والسلام بھیجے۔”
(صحیح مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب غیرۃ اللہ وتحریم الفواحش ، الحدیث:۶۹۹۳/۶۹۹۴،ص۱۱۵۶)
(92)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”غیرت ایمان کا حصہ ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(السنن الکبری للبیہقی، کتاب الشہادات، باب الرجل یتخد القلام ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۱۰۲۳،ج۱۰،ص۳۸۱)
(93)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کوئی غیرت اللہ عزوجل کو پسند ہوتی ہے اور کوئی ناپسند، بعض تکبر کرنے والوں کو اللہ عزوجل پسند فرماتاہے اور بعض کو ناپسند۔وہ غیرت جو اللہ عزوجل کو پسند ہے وہ شک کے معاملہ میں غیرت کرنا ہے اور جو غیرت اللہ عزوجل کو ناپسند ہے وہ غیرشک میں غیرت کھانا ہے اورجن تکبر کرنے والوں کو اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے وہ جہاد کے دوران اَکڑ کر چلنا یا صدقہ دیتے وقت چلنا ہے، اور جن کواللہ عزوجل ناپسند فرماتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی ظلم اور فخر کی حالت میں اِترا کر چلے۔”
 (سنن ابی داؤد،کتاب الجھاد، باب فی الخیلاء فی الحرب، الحدیث:۲۶۵۹،ص۱۴۱۹)
(94)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل اپنے غیرت مند بندوں کو پسند فرماتاہے کیونکہ اللہ عزوجل خود بھی مسلمان کے لئے غیرت فرماتا ہے، لہٰذا چاہے کہ وہ بھی غیرت مند ہو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المعجم الاوسط، الحدیث:۸۴۴۱،ج۶،ص۱۸۳،مختصراً)
(95)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل غیور ہے اور مؤمن بھی غیرت مند ہے،اور اللہ عزوجل اس بات پر غيرت فرماتا ہے کہ مؤمن وہ کا م کرے جسے اللہ عزوجل نے اس پر حرام کر دیا ہے۔”
(صحیح مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب غیرۃ اللہ وتحریم الفواحش ، الحدیث:۶۹۹۵،ص۱۱۵۶)
error: Content is protected !!