Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کسی قوم کا مذاق نہ اُڑاؤ

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ اونچا سنتے تھے اس لئے جب وہ مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو صحابہ انہیں آگے جگہ دے دیا کرتے تھے۔ ایک دن جب وہ دربارِ رسالت میں آئے تو مجلس پُر ہوچکی تھی، لیکن وہ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب پہنچ گئے۔ مگر پھر بھی ایک آدمی ان کے اور حضور کے درمیان رہ گیا۔ حضرت ثابت بن قیس اس کو بھی ہٹانے لگے لیکن وہ شخص اپنی جگہ سے بالکل نہیں ہٹا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غصہ میں بھر کر پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس شخص نے کہا کہ فلاں آدمی ہوں۔یہ سن کر حضرت ثابت بن قیس نے حقارت کے لہجے میں کہا کہ اچھاتو فلانی عورت کا لڑکا ہے ۔ یہ سن کر اس شخص نے شرمندہ ہو کر سر جھکالیا اور اس کو بڑی تکلیف ہوئی اس موقع پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
اور حضرت ضحاک سے منقول ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کے کچھ لوگ بہترین پوشاک پہن کر بصورت وفد بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور جب ان لوگوں نے ”اصحاب صفہ”کے غریب و مفلس مسلمانوں کو فرسودہ حال دیکھا تو ان کا مذاق اُڑانے لگے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۲۹، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ام المؤمنین بی بی صفیہ کو ایک دن ”یہودیہ”کہہ دیا تھا۔ جس سے ان کو بہت رنج و صدمہ ہوا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معلوم ہوا تو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت زیادہ خفگی کا اظہار فرمایا اور حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ عنہا کی دل جوئی کے لئے فرمایا کہ تم ایک نبی (حضرت موسیٰ علیہ السلام)کی اولاد میں ہو اور تمہارے چچاؤں میں بھی ایک نبی (حضرت ہارون علیہ السلام) ہیں اور تم ایک نبی کی بیوی بھی ہو یعنی میری بیوی ہو۔ اس موقع پر ان آیات کا نزول ہوا۔  (تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۴۹۴، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
بہرحال ان مذکورہ بالا تینوں شانِ نزول میں سے کسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ (عزوجل) نے کسی قوم کا مذاق اڑانے کی سخت ممانعت فرمائی۔
آیت کریمہ یہ ہے کہ:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿11﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔(پ26،الحجرات:11)
درسِ ہدایت:۔قرآن کریم کی ان چمکتی ہوئی آیتوں کو بغور پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے کہ اس زمانے میں جو ایک فاسقانہ اور سراسر مجرمانہ رواج نکل پڑا ہے کہ ”سید”و ”شیخ”اور ”پٹھان”کہلانے والوں کا یہ دستور بن گیا ہے کہ وہ دُھنیا، جولاہا، کُنجڑا، قصائی، نائی کہہ کر مخلص و متقی مسلمانوں کا مذاق بنایا کرتے ہیں بلکہ ان قوموں کے عالموں کو محض ان کی قومیت کی بناء پر ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں ان کا مذاق بنا کر ہنستے ہنساتے ہیں۔ جہال تو جہال بڑے بڑے عالموں اور پیرانِ طریقت کا بھی یہی طریقہ ہے کہ وہ بھی یہی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ حد ہو گئی کہ جو لوگ برسوں ان قوموں کے عالموں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر کے خود عالم اور شیخ طریقت بنے ہیں مگر پھر بھی محض قومیت کی بناء پر اپنے استادوں کو حقیر و ذلیل سمجھ کر ان کا تمسخر کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنے نسب و ذات پر فخر کر کے دوسروں کی ذلت و حقارت کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ لِلّٰہ بتایئے کہ قرآن مجید کی روشنی میں ایسے لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں؟
ملاحظہ فرمایئے کہ قرآنِ مجید نے مندرجہ ذیل احکام اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں:
(۱)کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اُڑائے۔ ہوسکتا ہے کہ جن کا مذاق اُڑا رہے ہیں وہ مذاق اُڑانے والوں سے دنیا و آخرت میں بہتر ہوں۔
(۲)مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کریں۔
(۳)مسلمانوں پر حرام ہے کہ ایک دوسرے کے لئے برے برے نام رکھیں۔
(۴)جو ایسا کرے وہ مسلمان ہو کر ”فاسق”ہے۔
(۵)اور جو اپنی ان حرکتوں سے توبہ نہ کرے وہ ”ظالم”ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اگر کوئی گناہ گار مسلمان اپنے گناہ سے توبہ کر لے تو توبہ کے بعد اس کو اس گناہ سے عار دلانا بھی اسی ممانعت میں داخل ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کو کتا، گدھا، سُور کہہ دینا بھی ممنوع ہے یا کسی مسلمان کو ایسے نام یا لقب سے یاد کرنا جس میں اس کی برائی ظاہر ہوتی ہو یا اس کو ناگوار ہوتا ہو یہ ساری صورتیں بھی اسی ممانعت میں داخل ہیں۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۳۰، پ۲۶،الحجرات:۱۱)
اور حضر ت عبداللہ بن مسعود صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو حقیر سمجھ کر اس کا مذاق بناؤں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھے کتا نہ بنادے۔
     (تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۹۹۴، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
error: Content is protected !!