Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اللہ عزوجل سے بُرا گمان رکھنا

تنبیہ:
    اس گناہ کو اس کے بارے میں وارد سخت وعید کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اوروہ وعید آپ جان چکے ہیں بلکہ بیشتراحادیثِ مبارکہ میں اس بات کی تصریح  گزر چکی ہے کہ اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہ ہے یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں اسے اکبر الکبائر بھی کہا گیا ہے۔
کبیرہ نمبر41:         اللہ عزوجل سے بُرا گمان رکھنا
کبیرہ نمبر42:     رحمتِ اِلٰہی عزوجل سے ناامید ہونا
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے
وَمَنۡ یَّقْنَطُ مِنۡ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّاالضَّآلُّوۡنَ ﴿56﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہومگروہی جوگمراہ ہوئے۔ (پ14، الحجر:56)
(1)۔۔۔۔۔۔ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل سے برا گمان رکھنا سب سے بڑا  گناہ ہے۔”
      (فردوس الاخبارللدیلمی، با ب الالف ، الحدیث: ۱۴۷۲،ج۱،ص۲۱۱)
تنبیہ:
    ان دونوں گناہوں کواللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونے سے علیحدہ کبیرہ گناہ شمارکرنا دراصل علامہ جلال بلقینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اتبا ع میں ہے، گویا انہوں نے ان تینوں کے درمیان کے تلازم کو نظر انداز کر دیا، اسی لئے سیدنا ابو ذرعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یاْس یعنی مایوسی کا معنی قنوط یعنی ناامیدی بتایا، اور ظاہربھی یہی ہے کہ قنوط، یاْس سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان عالیشان:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿49﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اورکوئی بُرائی پہنچے توناامید آس ٹوٹا۔(پ25، حٰمۤ السجدۃ:49)
میں اسے یاْس کے بعد ذکر فرمایا ہے، اوریہ بھی ظاہرہے کہ بدگمانی ان دونوں سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ بدگمانی مایوسی اور ناامیدی کے ساتھ ساتھ اللہ عزوجل کے لئے ایسی صفت کی زیادتی کو کہتے ہیں جو اللہ عزوجل کے جود وکرم کے لائق نہ ہو اور تفسیر ابن منذرمیں حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ َتعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے :”سب سے بڑا  گناہ اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیرسے بے خوف اوراُس کی رحمت سے مایوس اورنااُمید ہونا ہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاذکار،قسم الافعال، سورۃ النساء، الحدیث:۴۳۲۲،ج۲،ص۸۶۷)
     تفسیر ابن جریر میں حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی طرح کا ایک قول مروی ہے۔
وسوسہ:یہ بات ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس قول کے منافی ہے جس میں انہوں نے ارشاد فرمایا ہے :”مریض کے لئے اللہ عزوجل سے اچھا گمان رکھنا مستحب ہے۔” اورایک قول یہ ہے کہ”خوف کو اُمید پر غالب رکھنا بہتر ہے۔” جبکہ سیدنا امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :”اگر بندہ نااُمیدی کی بیماری سے امن میں ہو تو امید رکھنا بہتر ہے اور اگر خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو تو خوف رکھنا بہترہے۔”
جواب:یہاں دو مقامات پر کلام ہے،


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۱)۔۔۔۔۔۔ایک شخص کو رحمت اور عذاب دونوں کی امید ہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ”اگر مریض ہے تو امید کی جانب کو غلبہ دینا مستحب ہے اور اگر تندرست ہے تو اس میں اختلاف ہے۔” جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود رحمت کی انواع سے مایوس ہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں یہاں گفتگو ہو رہی ہے، یہی مایوسی بالاتفاق کبیرہ گناہ ہے۔کیونکہ یہ ان نصوصِ قطعیہ کی تکذیب کو لازم ہے جن کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ پھر اس مایوسی سے کبھی اس سے بھی سخت حالت مل جاتی ہے اور وہ یہ کہ رحمت نہ ہو نے کا یقین کر لینا اور(فَھُوَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ) کا سیاق اسی پردلالت کرتا ہے اورکبھی یہ مایوسی رحمت نہ ہونے کے یقین کے ساتھ ساتھ کافروں کی طرح سخت عذاب کے یقین کے ساتھ مل جاتی ہے اور یہاں بدگمانی سے یہی اعتقاد مراد ہے اس میں خوب غور کرنا چاہے کیونکہ یہ نہایت اہم ہے۔
error: Content is protected !!