Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

رمی کے مسائل

مستحب یہ ہے کہ کنکریاں مزدلفہ سے لیں، لیکن اگر راستہ سے لیں تو بھی جائز ہے مگر جمرات کے پاس کی کنکریاں نہ اٹھائی جائیں کہ یہ نامقبول ہوتی ہیں۔
مسئلہ: کسی بڑے پتھر کو توڑ کر کنکریاں بنانا مکروہ ہے۔
مسئلہ: قربانی میں وکیل بنایا جاسکتا ہے لیکن رمی کے لیے شدید شرعی عذر کے بغیر کسی کو وکیل و نمائندہ بنانا جائز نہیں۔
مسئلہ: خواتین کو مغرب کے بعد رمی کرنا جائز ہے، معذور،ضعیف اور بیمار مردوں کو بھی کم رش میں یعنی مغرب کے بعد رمی کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: دسویں تاریخ بڑے شیطان کی رمی کا مسنون وقت طلوع آفتاب سے زوال تک ہے۔
مسئلہ: غروب آفتاب کے بعد اور طلوع آفتاب سے قبل اور فجر کے بعد رمی کرنا مکروہ ہے مگر کمزور، بیمار، معذور اور عورتیں مزدلفہ سے سویرے آکر طلوع آفتاب سے قبل ہی رمی کر لیں تو مکروہ نہیں۔
مسئلہ: اگر گیارہویں تاریخ کی آخری شب تک دسویں کی رمی نہ کی تو دم دینا واجب ہے۔
مسئلہ: کنکر دائیں ہاتھ کے انگشت شہادت اور انگوٹھے کی مدد سے پکڑ کر پھینکیں۔
مسئلہ: کنکر ایک ایک کر کے پے در پے مارنے ہیں ایک ساتھ ساتوں کنکر پھینکنے کے نتیجے میں ایک ہی شمار ہوں گے۔
مسئلہ: کنکر جمرہ کے قریب (یعنی تین ہاتھ سے کم فاصلہ پر) گر جائے تو جائز۔ دور گرے تو معتبر نہیں۔
مسئلہ: کنکری دور سے پھینکی کہ کسی شخص کی کمر یا شانے پر گری اور خودبخود لڑھک کر جمرہ کے قریب جاگری تو جائز ہے۔
مسئلہ: جو کسی کے نمائندہ کی حیثیت سے رمی کریں انہیں اپنی رمی پہلے کرنی ہوگی پھر اپنے موکلوں کی جانب سے۔
مسئلہ: گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخوں میں رمی کے لیے ترتیب ضروری ہے پہلے چھوٹے پھر درمیانے پھر بڑے شیطان کی رمی ہوگی۔
مسئلہ: گیارہ اور بارہ کی رمی قبل زوال جائز نہیں۔
مسئلہ: جو تیرہ تک منی میں ٹھہر گیا وہ زوال سے قبل رمی کر لے تو بکراہت تنزیہی جائز ہے۔
error: Content is protected !!