Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

غار جبل ثور

یہ وہ مقدس غار ہے جہاں مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق خاص حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوقت ہجرت تین رات قیام پذیر رہے۔ جبل ثور مکہ مکرمہ کی دائیں جانب مسفلہ سے آگے کم و بیش چار کلومیٹر پرواقع ہے۔ جبل ثور پر چار غار ہیں جن میں سے تیسراغارِ ثور ہے دو نیچے اور ایک اس سے اوپر ہے۔ اس غار کی یہ خصوصیت ہےکہ اس کے اندر جو کوئی بھی اونچی آواز میں بات کرے تو باہر آواز قطعی نہیں آتی اور جو کوئی غار کے باہرآہستہ بات بھی کرے تو غار کے اندر بہت تیزآواز آجاتی ہے۔
شارع ابراہیم خلیل سے متصل محلّہ ’’مسفلہ‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ انتہائی قدیم نام ہے اور حضرت سیّدہ حاجرہ علیہا السلام نے یہ نام رکھا تھا۔ یہاں ’’کُدی ‘‘کے پہاڑ ہیں ۔ کُدی کے پہاڑوں کا معراج شریف کے واقعے میں ذکر ہے۔ جبل ثور مکة المکرمہ کے بلند پہاڑوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ دور سے یہ پہاڑ کسی بیل کے کوہان کی طرح لگتا ہے اسی لیےعربی میں اسے ’’ثور‘‘ کہتے ہیں اور اس پر جو غار واقع ہے وہ بھی دیکھنے میں بیل کی طرح ہی لگتا ہے اسی لیے اس غار کو بھی ’’ثور‘‘ کہتے ہیں۔
ہجرتِ مدینہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غار میں تین رات قیام فرمایا تھا۔ پیارے کریم آقا علیہ الصلوٰہ والسلام نے یہ حکمت اختیار فرمائی کہ مکة المکرمہ کے جنوب میں واقع غارِ ثور میں قیام فرمایا حالانکہ مدینة المنورہ تو مکة المکرمہ کے شمال میں واقع ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ ہجرت کے موقع پر مقام ’’سَرِفْ‘‘جہاں ام المؤمنین سیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا مزار شریف واقع ہے وہاں کسی پہاڑ کے غار میں قیام فرماتے، لیکن آپ نے سمتِ مدینہ کی مخالف دوسری جانب غارِ ثور میں قیام فرمایا جو اس امر کی دلیل ہے کہ آپ کا یہاں ٹھہرنا اللہ کے حکم سے تھا اور حکمت سے خالی نہ تھا وہ حکمت کیا تھی ؟ وہ حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰہ والسلام سے جب اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوٰہ والسلام کی عظمت وشان کو بیان فرمایا تو کوہِ طور پر موجود ایک سانپ سُن رہا تھا اُسے اشتیاق ہوا کہ اللہ کے حبیب کی زیارت کروں تو اس کی تمنّا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اُس کی عمر دراز کی، نیز اُسے مکة المکرمہ میں جانے اور وہاں ٹھہر کر اپنی مراد پوری ہونے میں انتظار کا حکم فرمادیا، وہ سانپ کوہِ طور کا رہنے والا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت جمالی یعنی ربوبیت کی تجلّی جو درحقیقت نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجلی تھی اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام پرظاہر فرمایا تو کوہِ طور اس کی تاب نہ لاکر ٹکڑے ٹکڑے ہوا اور یہ پہاڑی ٹکڑے مختلف مقام پر جاکر ایستادہ ہوگئے۔ جبل ثور بھی اسی کا ٹکڑا ہے۔ جب اس سانپ نے دیدار کے شوق میں سفر کیا تو کوہِ طور کے ٹکڑے یعنی جبل ثور کے غار میں آکر قیام کیا،کیونکہ وہ کوہِ طور کا جُز ہونے کی وجہ سے جبل ثور سے مانوس تھا۔ پیارے آقا مصطفیٰ کریم علیہ الصلوٰة والسلام، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شب ہجرت اس غار میں تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے آقا علیہ الصلوٰة والسلام کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اس پہاڑ کی بلندی کو طے کیا تاکہ اگر تعاقب میں آنے والے مشرکین پیروں کے نشانات دیکھیں تو انہیں ادراک ہوکہ دو افراد نہیں بلکہ ایک ہی شخص کے پیروں کے نشان ہیں۔جبل ثور کے انتہائی بلندی کے دوسری جانب کچھ نشیب اور پھر بلندی پر ڈھلوان کی جانب غارِ ثور واقع ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود اقدس سے متعلق حضرت سیّدہ آمنہ صادقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ’’جب میرے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ ہوئی تو میں نے سنا کوئی حکم دے رہا تھا کہ انہیں لے جاؤ اور ساری دنیا کے انسانوں سے وزن کرو۔ پھر میرے سامنے سے میرا بیٹا نظروں سے اوجھل ہوگیا کچھ دیر بعد میرا بیٹا لایا گیا تو پھر میں نے سنا کہ ہم نے ان کا موازنہ دنیا کے سارے انسانوں سے کیا جو قیامت تک آئیں گے ان سے بھی کیا، یہ ایسے صاحبِ فضیلت ہیں کہ سب پر بھاری رہے‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے مثلاً حسن وجمال، عقل وکمال، علم واعمال اور قوت جسمانی کے خدوخال۔ سب سے اعلیٰ اور بالا ہیں۔
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبیﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبیﷺ
خلق سے اولیاء اولیاء سے رُسل
اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبیﷺ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، اپنے آقا، دوعالم کے والی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر غار ثور تک گئے۔ یاد رکھیے! شب ہجرت ۲۸ یا ۲۹ صفرتھی جس میں چاند غروب ہوتا ہے۔ جبل ثور مکمل تاریکی میں تھا اور اس پر سنگریزے بہت تھے اوپر جانے کا راستہ نہیں تھا اس لیے کہ یہ تقریباً تیرہ ہزار فٹ بلند ہے یعنی اس بلندی کو سطح زمین پر دیکھیں تو یہ فاصلہ تقریباً ڈھائی میل پیمائش ہوگا۔
اتنی بلندی پر عام طور پر اہل عرب گریز کرتے تھے اس لیے کہ راستہ دشوار گزار تھا بمقابلہ جبل نور جہاں غار حرا واقع ہے وہاں لوگوں کے جاتے جاتے ایک پگڈنڈی سی وجود میں آگئی تھی اور جانا آسان ہوگیا تھا۔ لیکن جبل ثور پر چڑھنا آسان نہ تھا جبکہ ایسی صورت میں کہ رات کا اندھیرا ہو، ننگے پیر ہوں، سنگریزے ہوں، صرف پنجوں کے بل چلنا ہو اور سارے جہاں کا بار لیے ہوئے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کندھوں پر ہوں اور یہ کندھے سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہوں سبحان اللہ …… سوائے سیّدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کسی کے بس کی بات نہیں۔ غار کے دہانے پر پہنچ کر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ یہاں ٹھہرئیے میں پہلے اندر جاتا ہوں اور غار کی صفائی کرتا ہوں تاکہ کوئی کیڑا یا جانور آپ کو نقصان نہ پہنچادے۔ غار میں متعدد سوراخ تھے اپنی چادر سے ٹکڑے بنا بنا کر تمام سوراخ بند کردیے۔ ایک سوراخ باقی رہ گیا اور موجودکپڑا ختم ہوگیا، حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس سوراخ پر اپنے پاؤں کی ایڑی رکھی اور حضور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کو ادب سے اندر تشریف لانے کو کہا۔ سرکارِ مختار علیہ الصلوٰة والسلام غار میں تشریف لے گئے اور اپنے غلام وجانثار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زانوؤں پر سر رکھ کر آرام فرما ہوئے۔ اسی غار میں وہ سانپ برسہا برس سے جمال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کا متمنّی تھا، سرکار علیہ الصلوٰة والسلام کے غار میں تشریف فرما ہونے پر غار منور ہوگیا، شب کی تاریکی اور تیرگی محبوب خدا کی نورانیت کے صدقے دور ہوگئی غار ثور نبوت سے منور اور ریحان رسالت سے معطر ہوگیا۔ سانپ نے جان لیا کہ قسمت یاوری کرگئی ہے اور یقینا آج کی شب اس غار میں نبی آخر الزماں کی جلوہ گری ہوگئی ہے چنانچہ اُس نے باہر آنا چاہا تو سوراخ بند تھا یعنی کپڑا لگا ہوا تھا ایک ایک کرکے تمام سوراخوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن ممکن نہ ہوسکا تو پھر اُسے جب ایک سوراخ پر کپڑے کے بجائے گوشت پوست کی کوئی چیز یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایڑی محسوس ہوئی تو اس نے اپنی فطرت کے مطابق ان کی ایڑی پر کاٹا یعنی ڈسا، تاکہ باہر نکلنے کا راستہ بنے۔ وہ سانپ صحرائے سیناکا رہنے والا تھا انتہائی زہریلا تھا یہاں مکہ میں بھی اُسے رہتے ہوئے دوہزار برس ہوگئے تھے اور مکہ کی شدید گرمی اور پہاڑ کی حدت میں زہر کا اثر بہت بڑھ جاتا ہے۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو فورا پیر ہٹا لیتا، لیکن یہ یار غار ہیں اور جاں نثار ہیں، شدید تکلیف ہورہی ہے، زہر جسم میں سرایت کررہا ہے لیکن استقامت کے پیکر بنے اپنی ایڑی سے سوراخ بند کیا ہوا ہے۔ شدت تکلیف سے آنکھوں میں آنسو آگئے اور سرورِ دوجہاں مالکِ کون ومکاں صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا (چہرۂ اقدس) پر آنسو گرے۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خوابیدہ چشمان مقدس کھولیں اور حضرت ابوبکرسے دریافت فرمایا ! کیا بات ہے ؟ انہوں نے سارا ماجرا عرض کیا کہ ایڑی میں کسی زہریلی شئے نے کاٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ! اپنی ایڑی سوراخ سے ہٹاؤ۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوراخ سے ایڑی ہٹائی تو وہ سانپ باہر آیا اور ادب سے ’’السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ کہا ! اور صدیوں پر پھیلی اپنے اشتیاق ومحبت کی داستان عرض کی۔ میرے حج کے ساتھیو ! یہاں ایک بات وجدانِ محبت کی یہ عرض کرنا چاہتا ہوں روایت اور کتاب سے اس کا تعلق نہیں بلکہ محبت کی بات ہے، سانپ نے شاید یہ عرض بھی کیا ہو کہ میں آپ کے ساتھی کو ڈسنے کا سبب بنا ہوں، مقصد زیارت تھا، اب جبکہ زیارت ہوگئی اور میں تو کئی ہزار برس زندگی گذار چکا ہوں تو میں اپنے ہی زہر کو چوس کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی کی تکلیف کو دور کردیتا ہوں لیکن اس کے نتیجے میں سانپ کی موت واقع ہوجاتی لہٰذا ہمارا وجدانِ ایمان کہتا ہے کہ میرے سرکار علیہ الصلوٰة والسلام نے یہ گوارا نہیں فرمایا ہوگا۔ کہ میری بارگاہ میں سلام عرض کرنے جو آئے تو جواب میں اُسے سلامتی ہی ملے گی اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے منع فرمادیا ہوگا کہ اے سانپ ! تجھے زہر تقسیم کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے زہر واپس لینے کی قوت نہیں بخشی۔ جبکہ میرے خالق ومالک، رب ذوالجلال نے مجھے راحت، نعمت، شفا اور صحت بخشنے کی قوت عطا فرمائی ہے۔ میں مصیبت دور کرکے مسرت وفرحت عطا کرتا ہوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلامتی سانپ کو بھی عطا کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایڑی کے زخم پر اپنا لعاب دھن لگادیا، جس کے نتیجے میں سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو صحت و راحت نصیب ہوئی۔
ایک نعت گو شاعر خالد عرفان نے کہا !
انسانیت کو ان سے ملا نسخۂ شفا
تریاق کے عجیب خزانے بدن میں تھے
کیمسٹری کی تجربہ گاہوں میں بھی نہیں
اجزائے کیمیا جو لعاب دھن میں تھے
ایک مرتبہ رحمةاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینة المنورہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ ’’میرے ابوبکر سے نہ الجھا کرو یہ تو وہ ہے جس نے مکہ میں مجھ پر دو مرتبہ جان قربان کی ہے۔ ایک مرتبہ بیت اللہ شریف کے صحن یعنی مطاف میں اور دوسری مرتبہ غار ثور میں‘‘۔
غار ثور میں سرور عالم، نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے دومعجزے ظاہر ہوئے اور غار ثور کے باہر دروازے پر بھی دو معجزے ظاہر ہوئے۔ مشرکین مکہ تعاقب وتلاش میں جبل ثور کے دامن تک آئے پھر یقین وبے یقینی کی کشمکش میں پہاڑ کے اوپر مختلف غاروں میں تلاش کرتے رہے جبل ثور پر کئی غار واقع تھے۔ یہاں تک وہ غار ثور کے دھانے پر بھی آئے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے غار کے منہ پر مکڑی نے جالا بُن دیا تھا کہ اگر کوئی شخص اندرگیا ہوتا تو مکڑی کا جالا سلامت نہ ہوتا اور نہ ہی کبوتری انڈوں کو سہہ رہی ہوتی۔ غار کے اندر دو معجزات یوں ظاہر ہوئے کہ پانی کی ضروریات کے لیے اللہ تعالیٰ نے غار کی چھت سے پانی ٹپکانا شروع کیا، عموماًپانی زمین سے متصل ہوکر نکلتا ہے یعنی غار کے فرش سے نکلتا تو تعجب کی بات نہ ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے غار کی چھت سے پانی عطا فرمایا یہ معجزہ ہے۔ دشت وجبل کا قدرتی یہ وصف ہے کہ وہاں آواز بالعموم گونجتی ہے بلکہ بازگشت کی کیفیت ہوتی ہے۔ غار میں تین دن اور تین رات قیام رہا، ظاہرہے خاموشی سے وقت نہیں گزارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب علیہ الصلوٰہ والسلام کا یہ معجزہ ظاہر فرمایا کہ قانون قدرت میں تبدیلی فرمائی۔ غار کے باہر آہٹ ہوتو غار کے اندر بلند آواز محسوس ہو اور غار کے اندر کوئی بات کی جائے تو اس کی آواز باہر سنائی نہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طمانیت قلبی کے لیے کہ انہیں یہ اندیشہ لاحق تھا کہ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف یا نقصان نہ پہنچے یہ آیت کریمہ جو سورۂ توبہ آیت ۴۰ میں موجود ہے نازل فرمائی:
error: Content is protected !!