Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

طواف زیارت

اس کو طواف افاضہ، طواف فرض اور طواف حج کہتے ہیں یہ حج کا ایسا رکن ہے کہ اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔یہ طواف ذی الحجہ کی دس تاریخ کو کیا جاتا ہے، اگر دسویں کو موقع نہ ملے تو گیارہ ورنہ بارہ ذی الحج تک بھی کرسکتا ہے بہتر یہ ہے کہ دسویں ذی الحجہ کو ہی ادا کر کے اس سے بھی فارغ ہولے۔ کیوں کہ یہ بابرکت عشرہ کا آخری دن ہے۔ یہ طواف بغیر احرام کے ہے اور سر منڈانے کے بعد ہوتا ہے جس کے بعد سلے ہوئے کپڑے پہننے کی بھی اجازت ہو جاتی ہے اگر سلے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کیا تو اضطباع نہیں۔ ورنہ اضطباع مسنون ہے۔ حج کی سعی منی جانے سے قبل نہیں کی تھی تو ابھی کرنی ہوگی لہذا پھر طواف زیارت میں رمل بھی کرنا ہوگا اگرچہ سلے ہوئے لباس ہی میں ہوں اگر ۸ ذی الحجہ کو فجر سے قبل حج کی سعی ایک نفلی طواف کے ساتھ پہلے کرچکے تھے تو پھر طواف زیارت بغیر رمل ہوگا۔
error: Content is protected !!