Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

گھر میں قبر

گھر میں قبر

حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں کہ مجھے میرے ایک نیک دوست نے بتایا:” ہمارے پاس ”واسط” کا رہنے والا ابو عیاد نامی ایک مرد ِصالح ہے، وہ کثرت سے مجاہدے کرتا ہے۔ خوف خدا عزوجل کی عظیم سعادت سے مالامال ہے،نمک کے ساتھ روٹی کھاتا ہے ، ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتاہے، وہ روزانہ دو دانق کماتا ہے، ایک دانق سے سحری وافطار کا سامان خرید لیتا ہے اور دوسرا دانق صدقہ کردیتا ہے ۔ اگر آپ اس کے پاس چلیں اور کلام فرمائیں تو وہ اس بات کو پسند کریگا اور جب آپ اسے دیکھیں گے تو امید ہے کہ اس کی ملاقات سے آپ کو بھی فائدہ ہوگا ۔”
میں نے کہا:” میں اس سے ملاقات کا متمنی ہوں، میں ضرور اس سے ملاقات کرو ں گا۔” چنانچہ ہم اس مردِ صالح سے ملاقات کے لئے اس کے گھر پہنچے۔ ہم نے دستک دی تو داخلے کی اجازت مل گئی۔ وہاں مجھے ایک ایسا شخص نظر آیا جسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا دل دنیا سے اُچاٹ ہوگیا ہے۔وہ تنہائی پسند ہے اور لوگو ں سے اسے وحشت ہوتی ہے ،وہ خوفزدہ اور سہما سہما لگ رہا تھا ۔میں سمجھ گیا کہ مسلسل مجاہدات کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی ہے اور یہ شخص سخت گرمیوں کے دنوں میں روزہ رکھتا اور ساری ساری رات قیام اورسجدوں میں گزار دیتا ہے ، اس کے جسم پر ٹا ٹ کا لباس تھا۔ وہ بھی صرف اتنا کہ جس سے ستر پوشی ہو سکے۔ اسے دیکھتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا۔ میں اسے دیکھ کر خوف محسوس کرنے لگا ۔اس کی حالت ایسی وحشت ناک تھی کہ اس

سے پہلے میں نے کسی کو ایسی حالت میں نہ دیکھا تھا۔ ہم اس کے قریب گئے تو میرے دوست نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا: ”یہ حضرت سیدنا منصور بن عمار (علیہ رحمۃ اللہ الغفار) ہیں، جن سے ملاقات کے آپ متمنی تھے۔ ” اتنا سننا تھا کہ وہ جلدی سے اٹھا ،مجھ سے مصافحہ کیا اور میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا :” مرحبا ! مرحبا! اللہ عزوجل آپ کو درازی عمر بالخیر عطا فرمائے ، مجھے اور آپ کو دنیا کے غموں سے بچا کر غمِ آخرت کی نعمت عطا فرمائے۔” وہ مجھے ایک ایسے کمرے میں لے گیا جہاں اس نے قبر کھو د رکھی تھی،اور میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا :” میری دیرینہ خواہش تھی کہ آپ سے ملاقات کرو ں اور اپنے دل کی سختی سے آپ کو آگا ہ کرو ں، مجھے ایک بہت پرانا زخم ہے ،تمام معا لجین اس کے علاج سے عاجز آچکے ہیں ، اب آپ ہی میرے زخمی دل کا علاج کریں اور جو مناسب سمجھیں وہ مرہم میرے زخم پر رکھیں۔
میں نے کہا :” اے میرے بھائی ! میں آپ کا علاج کس طر ح کروں میں تو خود زخمی ہوں اور میرا زخم تمہارے زخم سے کہیں زیادہ ہے ۔” اس نے کہا :” اگر واقعی ایسا ہے پھر تو میں آپ کا اور زیادہ مشتاق ہوں۔”میں نے کہا : ”اے میرے بھائی ! اگر تواپنے گھر میں قبر کھودکر اس سے عبرت حاصل کرتاہے اور اسے دیکھ دیکھ کر اپنے نفس کو مطمئن کرلیتا ہے اور موت سے پہلے ہی کفن خرید کر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ میں نے آخرت کی تیاری کرلی ہے تو بعض اولیاء کرام ایسے بھی ہیں کہ ان کے سامنے ہر وقت قبر کا ہولناک منظر ہوتا ہے وہ موت سے کبھی غافل نہیں ہوتے ۔ وہ ایسے ہیں کہ ان سے زیادہ حدود اللہ کی رعایت کرنے والا تو کسی کو نہ پائے گا ۔ ان کے دل اللہ عزوجل کی منع کردہ اشیاء کی طرف رغبت نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جس د ن جھوٹے لوگ بہت زیادہ خسارے میں رہیں گے۔ ایسے لوگ صرف لوجہ اللہ اعمال کرتے ہیں اور ریا کا ری سے بچتے ہیں۔”
میری یہ باتیں سن کر اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اپنے گھر میں کھودی ہوئی قبر میں منہ کے بل گر پڑا ، انتہائی کرب وتکلیف میں مبتلا شخص کی طر ح ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ اس کے گلے سے عجیب وغریب آواز آنے لگی۔ میں نے انَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور کہا ” اگر میری باتیں سن کر یہ شخص ہلاک ہوگیاتو گویامیں اس کے قتل کا سبب بنوں گا۔” مجھے اس کے سامنے ایسی نصیحت آموز باتیں نہیں کرنی چاہے تھیں ۔ اسے اسی حال میں چھوڑ کر میں اس گھر سے باہر آیا اور ایک چکی والے کے پاس جا کر سارا واقعہ کہہ سنایا۔ یہ سن کر چکی والے نے مجھے ڈانٹا اور کہا:” میرے ساتھ چلو تا کہ ہم اس کی کچھ مدد کریں۔” چنانچہ ہم جلدی سے اس کے گھر پہنچنے ، وہ اسی طر ح تڑپ رہا تھا ۔ہم نے فورا ًاسے باہر نکالا۔ اس کی حالت بہت نازک تھی ،اس کا جسم متعدد جگہوں سے زخمی ہوچکا تھا ۔

ایسا لگ رہا تھا کہ شاید یہ ابھی فوت ہوجائے گا۔ چکی والا مجھے بڑی غضبناک نظر وں سے گھوررہا تھا، میں فورا ً باہر چلا آیا۔ پھر ظہر کے وقت دو بارہ وہاں گیا تو دیکھا کہ ابھی تک اس کی ایسی ہی حالت ہے۔ مغر ب تک میں اس کے پاس رہا، پھر واپس چلا آیا اسے ابھی تک ہوش نہ آیا تھا ۔ وہ رات میں نے اتنی پریشانی اور غم کے عالَم میں گزاری کہ اس سے قبل کبھی مجھے اتنی پریشانی نہ ہوئی تھی۔صبح ہوتے ہی میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنے گھر کے مشرقی حصے میں بیٹھا تھا ۔ اس نے جسم کے زخمی حصوں پر ایک پرانا کپڑا باندھا ہوا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اور آگے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے میرا استقبال کیا : ” اے میرے محسن! تمہاری تشریف آوری کا شکر یہ،اللہ عزوجل تم پر رحم فرمائے اوراپنی حفظ واما ن میں رکھے۔” وہ مجھے اسی طرح دعائیں دیتا رہا، میں کچھ دیر وہاں بیٹھا اور پھر خوشی خوشی واپس چلا آیا ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامين صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!