Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.
islam

مال کاوبال

مال کاوبال

حضرت سیدنا جریرعلیہ رحمۃ اللہ القدیرحضرت سیدنا لیثرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کرتے ہیں:” ایک مرتبہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام سفر پر روانہ ہوئے، راستے میں ایک شخص ملا، اس نے عرض کی :” حضور! مجھے بھی اپنی بابرکت صحبت میں رہنے کی اجازت عطافرمادیں ،میں بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ سفر کرنا چاہتا ہوں۔” آپ علیہ السلام نے اسے اپنی ہمراہی کی اجازت عطا فرمادی اور دونوں ایک ساتھ سفر کرنے لگے۔ راستے میں ایک پتھر کے قریب آپ علیہ السلام نے فرمایا : ”آؤ ہم یہاں کھانا کھالیتے ہیں۔” چنانچہ دونوں کھاناکھانے لگے، آپ علیہ السلام کے پاس تین روٹیاں تھیں ، ایک ایک روٹی دونوں نے کھالی، اور تیسری رو ٹی بچی رہی۔ آپ علیہ السلام رو ٹی کو وہیں چھوڑکرنہر پر گئے اور پانی پیا، پھر جب واپس آئے تو دیکھا کہ رو ٹی غائب ہے، آپ علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا:” تیسری روٹی کہا ں گئی ؟ اس نے کہا:مجھے معلوم نہیں،پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا:” آؤ ہم اپنے سفر پر چلتے ہیں۔” وہ شخص اٹھا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ چلنے لگا، راستے میں ایک ہرنی اپنے دو خوبصورت بچو ں کے ساتھ کھڑی تھی، آپ علیہ السلام نے ہرنی کے ایک بچے کو اپنی طرف بلایا تو وہ آپ علیہ السلام کا حکم پاتے ہی فوراً حاضر خدمت ہوگیا،

آپ علیہ السلام نے اسے ذبح کیا، اسے بھونااور دونوں نے اس کا گوشت کھایا، پھر آپ علیہ السلام نے اس کی ہڈیاں ایک جگہ جمع کیں اور فرمایا:”اللہ عزوجل کے حکم سے کھڑا ہوجا، یکایک وہ ہڈیاں دو بارہ ہرنی کا بچہ بن گئیں اور وہ بچہ اپنی ماں کی طرف روانہ ہوگیا، آپ علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا:”اے شخص! تجھے اس ذات کی قسم! جس نے تجھے میرے ہاتھوں یہ معجزہ دکھایا ،تو سچ سچ بتا کہ وہ روٹی کس نے لی تھی ؟ وہ شخص بولا: ”مجھے معلوم نہیں کہ روٹی کس نے لی تھی؟” آپ علیہ السلام اس شخص کو لے کردو بارہ سفر پر روانہ ہوئے، راستے میں ایک دریا آیا آپ علیہ السلام نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر پانی پر چلتے ہوئے دریا پار کرلیا ،پھر آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:” تجھے اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم !جس نے تجھے میرے ہاتھوں یہ معجزہ دکھایا سچ سچ بتاکہ تیسری روٹی کس نے لی تھی ؟” اس نے پھر وہی جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ آپ علیہ السلام اس شخص کو لے کر آگے بڑھے، راستے میں ایک ویران صحراء آگیا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:”بیٹھ جاؤ، پھر آپ علیہ السلام نے کچھ ریت جمع کی اور فرمایا:” اے ریت ! اللہ عزوجل کے حکم سے سونا بن جا تووہ ریت فوراً سونے میں تبدیل ہوگئی ۔آپ علیہ السلا م نے اس کے تین حصے کئے اور فرمایا:” ایک حصہ میرا دوسرا تیرا اور تیسرا حصہ اس کے لئے ہے جس نے وہ روٹی لی تھی، یہ سن کر وہ شخص بولا: ”وہ روٹی میں نے ہی چھپائی تھی۔”
حضرت سیدنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس شخص سے فرمایا: ”یہ تینوں حصے تم ہی لے لو۔” اتنا کہنے کے بعدآپ علیہ السلام اس شخص کو وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے۔ وہ اتنا زیادہ سونا ملنے پر بہت خوش ہوا، او راس نے وہ سارا سونا اٹھالیا اتنے میں وہاں دو اور شخص پہنچے جب انہوں نے دیکھا کہ اس ویرانے میں اکیلا شخص ہے اور اس کے پا س بہت سا سونا ہے تو انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم اس شخص کو قتل کردیتے ہیں او ر اس سے سونا چھین لیتے ہیں جب وہ اسے قتل کرنے کے لئے آگے بڑھے تو اس شخص نے کہا :”تم مجھے قتل نہ کرو بلکہ ہم اس سونے کو باہم تقسیم کرلیتے ہیں ، اس پر وہ دونوں شخص قتل سے باز رہے اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہم یہ سونا برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں ، پھر اس شخص نے کہا :” ایسا کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص جاکر قریبی بازار سے کھانا خریدلائے کھانا کھانے کے بعد ہم یہ سونا باہم تقسیم کرلیں گے ۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص بازار گیاجب اس نے کھانا خریداتو اس کے دل میں یہ شیطانی خیال آیا کہ میں اس کھانے میں زہر ملادیتا ہوں جیسے ہی وہ دونوں اسے کھائیں گے تو مرجائیں گے اور سارا سونا میں لے لوں گا، چنانچہ اس نے کھانے میں زہر ملا دیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا، وہاں ان دونوں کی نیّتوں میں بھی سونا دیکھ کر فتور آگیا اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جیسے ہی ہمارا تیسرا ساتھی کھانالے کر آئے گا ہم اسے قتل کر دیں گے اورسونا ہم دونوں آپس میں بانٹ لیں گے ، چنانچہ جیسے ہی وہ کھانا لے کر ان کے پاس پہنچا ان دونوں نے اسے قتل کردیا اور بڑے مزے سے زہر ملا کھانا کھانے لگے ،کچھ ہی دیر بعد زہر نے اپنا اثر دکھایا اور وہ دونوں بھی وہیں ڈھیر ہوگئے اور سونا ویسے ہی

وہاں پڑا رہا۔
کچھ عرصہ بعد حضرت سیدناعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام دوبارہ وہیں سے گزرے تو دیکھا کہ سونا وہیں موجود ہے اور وہاں تین لاشیں پڑی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر لوگو ں سے فرمایا:” یہ دنیا ایک دھوکا ہے لہٰذا اس سے بچو (یعنی جو اس کے لالچ میں پھنسا وہ ہلاک ہوگیا)
(اے ہمارے پاک پرورد گار عزوجل !ہمیں دنیاکے لالچ سے بچا کر اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا سچّاعشق عطا فرما اور مال کے وبال سے بچا)

؎نہ مجھ کوآزما دنیا کا مال وزر عطا کرکے
عطا کر اپنا غم اور چشمِ گریا ں یا رسول اللہ ا!

آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!