پانچ لاکھ درہم کادعویٰ 

پانچ لاکھ درہم کادعویٰ

حضرت سیدنا مصعب بن عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کا دورِ خلافت تھا، حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ المنان رِقّہ(یعنی شہر) کے قاضی تھے اور اس شہر کا امیر (یعنی گورنر) عیسیٰ بن جعفر عبا سی تھا، حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ المنان ایک با ہمت، عادل اور رحم دل قاضی تھے، کسی پر ظلم برداشت نہ کرتے اور حق دار کو حق دلوا کر ہی دم لیتے۔
ایک مرتبہ ان کی عدالت میں ایک شخص آیا اور اس نے گورنر ”عیسیٰ بن جعفر” کے خلاف دعوی کیا کہ اس نے مجھ سے پانچ لاکھ درہم لئے تھے اور اب دینے سے انکار کر رہا ہے، خدارا! مجھے میرا حق دلوایا جائے،جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی بات سنی تو فوراً کاتب کو بلایا اور فرمایا:” امیرِشہر کے نام پیغام لکھو، کاتب نے پیغام لکھا، جس کا مضمون کچھ اس طرح تھا:
”اے ہمارے امیر! اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے، اپنی نعمتیں آپ پر نچھاور فرمائے ، آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔
آج میرے پاس ایک شخص نے دعوی درج کرایا ہے کہ” امیرِ شہر نے مجھ سے پانچ لاکھ درہم لے کر واپس نہیں کئے لہٰذا مجھے میرا

حق دلوایا جائے۔” اے ہمارے امیر!اب شریعت کا حکم یہ ہے کہ یا تو آپ خود تشریف لائیں یا اپنا کوئی وکیل بھیجیں تاکہ فریقین کی گفتگو سن کر مَیں فیصلہ کر سکوں اور حق واضح ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔والسّلام
قاضی صاحب نے خط پر مہر ثبت فرمائی اور ایک شخص کو وہ خط دے کر امیر(یعنی گورنر) کے پاس بھیج دیا،جب قاصد نے جاکر بتایا کہ قاضی کی طرف سے آپ کو خط آیا ہے تو گورنر نے اس خط کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنے خادم کو بلا کر وہ خط اس کے حوالے کر دیا ۔جب قاصد نے دیکھا کہ قاضی کے خط کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی تو وہ واپس لوٹ آیا اور سارا واقعہ قاضی صاحب کو بتایا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت خط لکھااور اس میں بھی یہی کہا :”آپ کے خلاف دعوی کیا گیا ہے لہٰذاآپ یا تو خود عدالت میں تشریف لائیں یا اپنے کسی وکیل کو بھیج دیں تاکہ شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے، اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے ۔پھر آپ نے خط پر مہر لگائی اور دوقاصدوں کو خط دے کر عیسیٰ بن جعفر کے پاس بھیجا ۔جب وہ دونوں قاصد اس کے پاس پہنچے تو اس نے خط دیکھ کر بہت غیض وغضب کااظہارکیا،خط کو زمین پرپھینک دیااورقاصدوں کو بھی ڈانٹا۔چنانچہ دونوں قاصد شرمندہ ہو کرواپس قاضی عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ الحنّان کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ کہہ سنایا۔
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قاصدوں کی بات سُن کر تیسری مرتبہ پھر خط بھیجا اور اس میں لکھا:”اے ہمارے امیر! اللہ عزوجل آپ کی حفاظت فرمائے آپ کو نعمتوں سے مالامال کرے۔آپ کے خلاف دعوی دائر کیاگیا ہے ۔باربارآپ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ یاتوآپ خود عدالت میں آئیں یا اپنے کسی وکیل کو بھیجیں تاکہ فیصلہ کیا جاسکے۔ اگر اس مرتبہ بھی آپ یاآپ کا وکیل نہ آیا تو میں یہ معاملہ خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کی خدمت میں پیش کروں گا لہٰذا آپ جلدازجلد اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔والسّلام
پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دو آدمیوں کو وہ خط دے کر عیسیٰ بن جعفر کے پاس بھیجا،جب دونو ں قاصد دربار میں پہنچے تو انہیں باہر ہی روک دیا گیا۔کچھ دیر بعد عیسیٰ بن جعفر باہر آیا تو قاصدوں نے اسے قاضی صاحب کا خط دیا۔اس نے خط کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور اسے پڑھنا بھی گوارانہ کیا اور پڑھے بغیرپھینک دیا۔قاصد بیچارے شرمندہ ہو کر قاضی صاحب کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ دیکھا کہ عیسیٰ بن جعفر اپنے عہدے اور طاقت کے گھمنڈ میں آکر قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے اورمیں حق دار کو اس کا حق نہ دلوا سکاتو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسی سوچ کی بناء پر اپنے تمام کاغذات وغیرہ ایک تھیلے میں بھرے اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے اور عدالت میں آنا چھوڑ دیا۔
جب معاملہ طول پکڑگیا اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عدالت میں نہ آئے تو لوگوں نے خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو

بتایاکہ ہمارے قاضی صاحب دل برداشتہ ہو کر عہدئہ قضاء سے برطرف ہو گئے ہیں اورانہوں نے عدالت میں آنا چھوڑ دیا ہے۔یہ سن کرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید نے فوراًآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کواپنے پاس بلوایا۔جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وہاں پہنچے تو خلیفہ نے پوچھا:” بتاؤ! تم دل برداشتہ کیوں ہوگئے اور کیوں اس عہدہ سے برطرف ہونا چاہتے ہو؟” حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃاللہ المنان نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ میں نے کئی مرتبہ انتہائی نرمی اورباادب طریقے سے عیسیٰ بن جعفر کو پیغام بھجوایا لیکن اس نے بالکل توجہ نہ دی ۔خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے جب قاضی صا حب کی یہ درد بھری داستان سنی تواسی وقت ابراہیم بن اسحاق سے فرمایا:” فوراً عیسیٰ بن جعفر کی رہائش گاہ پر جاؤ اور اس کے گھر کے تمام راستے بند کر دو کوئی شخص بھی نہ تو باہر آسکے اور نہ ہی اندر جا سکے۔ جب تک عیسیٰ بن جعفر اس مظلوم حق دار کا حق ادا نہیں کریگا وہ اسی طرح نظر بند رہے گا۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ اسے اس مصیبت سے آزادی مل جائے تو وہ خود چل کر قاضی کی عدالت میں جائے یا پھر اپنے کسی وکیل کو بھیج دے تاکہ عدالت میں شرعی فیصلہ ہو سکے اور حق واضح ہو جائے۔
حکم پاتے ہی ابراہیم بن اسحاق نے(50) پچاس شہسواروں کو لے کر عیسیٰ بن جعفر کی رہائش گاہ کامحاصرہ کر لیا ۔تمام راستے بندکر دیئے، کسی کوبھی آنے جانے کی اجازت نہ دی گئی ۔
جب عیسیٰ بن جعفر نے یہ حالت دیکھی تو وہ بہت حیران ہوا۔اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ مجھے اس طرح کیوں قید کیا جا رہا ہے؟شاید ہارون الرشید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہمجھے قتل کر واناچاہتا ہے لیکن کیو ں؟ آخر میں نے ایسا کون سا جرم کیا ہے؟عیسیٰ بن جعفر بہت پریشان تھا،دوسری طرف اہل خانہ پریشان تھے، وہ چیخ وپکار کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ عیسیٰ بن جعفر نے ان کو خاموش کرایااور ابراہیم بن اسحاق کے ساتھ آئے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک کو بلایااور اس سے کہا:” ابراہیم بن اسحاق کو پیغام پہنچا دوکہ وہ مجھ سے ملاقات کرے میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔
جب ابراہیم بن اسحاق اس کے پاس آیا تواس نے پوچھا:”خلیفہ نے ہمیں اس طرح قید کیوں کروادیا ہے۔
اس نے بتايا:” یہ سب قاضی عبیداللہ بن ظبیان (علیہ رحمۃ اللہ المنان) کی وجہ سے کیا گیا ہے انہوں نے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے،اور ایک شخص پرظلم کیا ہے۔”جب عیسیٰ بن جعفر کو سارا معاملہ معلوم ہو گیا تواسے احساس ہو گیا کہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے ،میں نے طاقت وعہدے کے نشے میں ایک مظلوم کی بددعا لی جس کی وجہ سے مجھے ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا،واقعی ظلم کا انجام برا ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد ضرور کی جاتی ہے مجھے میرے جرم کی سزا مل گئی ہے۔پھر عیسیٰ بن جعفر نے اس شخص کو بلوایا جس سے پانچ لاکھ درہم لئے تھے، اسے وہ درہم واپس کئے، اس سے معذرت کی اور

آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا،اب معاملہ بالکل ختم ہو چکا تھا۔ جب خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو اطلاع ملی کہ عیسیٰ بن جعفر نے مظلوم کا حق ادا کر دیا ہے اور اس سے معافی بھی مانگ لی ہے تواس نے حکم دیا کہ اب محاصرہ ختم کر دیا جائے اور تمام راستے کھول دےئے جائیں۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے پیغام بھجوایا کہ کبھی بھی کسی پر ظلم نہ کرنا۔ یہ
عہدہ ومنصب سب عارضی چیزیں ہیں، ان کے بَل بوتے پر کسی کو تنگ کرنا بہادری نہیں۔ ہمیشہ خوف خدا عزوجل کو پیش نظر رکھو، انصاف کا دامن کبھی نہ چھوڑو ،اللہ ربُّ العزَّت مظلوموں کو بہت جلد ان کا حق دلوا دیتا ہے۔ ا چھاہے وہ شخص جو اللہ عزوجل کی مخلوق کو خوش رکھے اور اس کی وجہ سے کسی بھی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
(سبحان اللہ عزوجل! ایسے پاکیزہ دین پر قربان جائیں جس نے ہمیں ایسے ایسے جرأت مندافراد عطا کئے جو حق کی خاطر بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ٹکرا جاتے، کسی کی دنیاوی ہیبت وحیثیت انہیں مرعوب نہ کر سکتی تھی،وہ اس وقت تک سُکھ کا سانس نہ لیتے جب تک اہل ِحق کو اس کا حق نہ مل جائے ،انہوں نے غیرِ حق کے سامنے کبھی بھی سر نہیں جھکایا،اسلام میں ایسے ایسے حکمران بھی گزرے جنہوں نے ایک غریب مظلوم فریادی کی فریاد پر گورنروں کو پابندِ سلاسل کردیا اور جب تک حق دار کو حق نہ ملا اس وقت تک قید ہی میں رکھا،اللہ رب العزت ہمیں ایسے با ہمت وعادل حکمران اور قاضی دوبارہ عطا فرمائے جوظالموں کو ظلم کی سزا دیں اور مظلوموں اوربے بسوں کی فریاد رسی کریں ، اللہ رب العزت ہمیں اچھے قا ئدین عطا فرمائے اور ہم سے بھی اپنے دین متین کی خدمت کا کام لے لے، ہمیں خوب خوب سنتوں کی تبلیغ کی توفیق عطا فرمائے اورغیرت ایمانی سے مالامال فرمائے، ہمیں ہر حال میں حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے چاہے، اگرچہ اس معاملے میں ہمیں جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، اللہ عزوجل ہمارا خاتمہ بالخیرفرمائے ۔اٰمین بجاہ ِالنبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

؎ غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!