دو جنتیں مل گئیں:

    منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ایک نوجوان تھا جومتقی، پرہیزگار اور مسجد میں کثرت سے آتا جاتا تھا۔ اس سے ایک عورت محبت کرتی تھی، ایک مرتبہ اس عورت نے اسے اپنے پا س بلایا یہا ں تک کہ وہ اس کے ساتھ خلوت میں آ گیا پھر اسے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کا خیال آیا تو وہ غش کھا کر گر گیا اس عورت نے اسے وہاں سے اٹھا کر اپنے دروازے پر ڈال دیا، پھر اس نوجوان کا والد آیا اور اسے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا، لیکن اس نوجوان کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور وہ مسلسل کانپ رہا تھا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا، اس کی تجہیز وتکفین کرکے اسے دفن کردیا گیا تو حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
Advertisement
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ46﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمن: 46)
تواس کی قبر سے آواز آئی :”اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! بے شک اللہ عزوجل نے مجھے دو جنتیں عطا فرما دی ہیں اور وہ مجھ سے راضی بھی ہو گیا ہے۔” 
    حضرت سیدنا یحیی بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”سب سے بڑا دھوکا اور سب سے بڑی جرأت یہ ہے کہ گناہگار بندہ اپنے گناہ پرندامت کا اظہار کئے بغیر اللہ عزوجل سے عفو کی اُمید رکھے، اعمال صالحہ کئے بغیر اللہ عزوجل کی بارگاہ سے نیکیوں کے حصول کی اُمید رکھے، عمل کئے بغیر جزاء کا انتظار کرے اور حدسے بڑھنے کے باوجود اللہ عزوجل سے مغفرت کی تمنا کرے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    خوفِ خدا عزوجل کے حصول اور اس میں اضافہ کا سب سے بڑا ذریعہ علم ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:

 اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ22، فاطر: 28)
    یہی وجہ ہے کہ علماء صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے بعدوالے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پر خوفِ خدا عزوجل کاغلبہ رہتا تھا، یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”کاش! میں کسی مؤ من کے سینے کا ایک بال ہوتا۔” 
    حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی موت کے وقت فرمایا:” عمر ہلاک ہو جائے گا اگراس کی مغفرت نہ ہوئی۔” 
    حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”کاش! مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ کیا جائے۔” 
    حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول پر کفریہ کلمات میں کئے گئے اعتراضات کے ذریعے کچھ اشکال وارد ہوتے ہیں مگر ان اشکالات کا جواب یہ ہے کہ ان کی یہ تمنا حقیقت پر مبنی نہ تھی بلکہ اس بات کا اظہار مقصود تھا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جن پر مجھے دوبارہ زندگی ملنے کے بعد مؤاخذے کا خوف ہے۔
(88)۔۔۔۔۔۔اس کی نظیر حبیبِ خدا عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے محبوب ابنِ محبوب حضرت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایسے شخص کو جو کلمہ پڑھتا تھا یہ گمان کرتے ہوئے قتل کر دیا کہ یہ حقیقت میں کلمہ نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے پڑھ رہا ہے، لیکن جب یہ بات نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تک پہنچی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان پر عتاب فرمایا اور بار بار یہ ارشاد فرماتے رہے :”تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات اتنی مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں تمنا کرنے لگا :” کاش! میں ا س دن مسلمان نہ ہوتا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عمران بن حصین، الحدیث:۱۹۹۵۷،ج۷،ص۲۱۷)
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفر کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ اپنے مسلمان ہونے کے اس واقعے سے مؤخر ہونے کی تمنا کی تھی اوراس کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ واقعہ اسلام لانے سے پہلے کا ہوتا تو اسلام اسے مٹا دیتا۔ یہ مقام فکر ہے لہٰذا یہاں خوب غور کرنا چاہے۔ 
     جب لوگ علم سے دورہوئے تو انہوں نے اپنے اعمال کو ملاحظہ کیا تو یہ پایاکہ ان میں سے کچھ افراد سے اتفاقا ًکچھ ایسے اُمور صادر ہورہے ہیں جو کرامات کے مشابہ ہیں، لہٰذا انہوں نے مختلف قسم کے دعوے کرنے شروع کردیئے اور سلف صالحین کے دعوی نہ کرنے کے طریقے کی پیروی چھوڑ دی، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہاں تک کہہ دیا: ”میں چاہتا ہوں کہ قیامت جلدہی قائم ہوجائے تا کہ میں جہنم پراپنا خیمہ نصب کر سکوں۔” تو ایک شخص نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تواس نے جواب دیا : ”مجھے یقین ہے کہ جب جہنم مجھے دیکھے گی تو اس کی آگ بجھ جائے گی اور اس طرح میں مخلوق پر رحمت کا سبب بن جاؤں گا۔” 
    یہ انتہائی بدترین او ربرا کلام ہے، کیونکہ اس میں اللہ عزوجل کے بیان کردہ جہنم کے عظیم معاملہ کی تحقیر پائی جاتی ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے جہنم کے اوصاف کثرت سے بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔(پ1، البقرۃ: 24)
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
اِذَا رَاَتْہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿12﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنزالایمان:جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی توسنيں گے اس کا جو ش مارنا اور چنگھاڑنا۔(پ 18، الفرقان : 12)
(89)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم جو آگ جلاتے ہو یہ جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل کی قسم! اگر جہنم ہماری یہی دنیوی آگ بھی ہوتی تب بھی کافی تھی۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جہنم کی آگ کو دنیوی آگ سے اُ نہتَّر9 6 گنا زیادہ تیز کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر جزو کی گرمی دنیوی آگ کی طرح ہے۔”
(جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجہنم، باب ماجاء ان نارکم ھذہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۵۸۹،ص۱۹۱۲)
(90)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قیامت کے دن جب جہنم کو لایا جائے گا تو اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچتے ہوں گے۔”
(جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجہنم،باب ماجاء فی صفۃ النار،الحدیث:۲۵۷۳،ص۱۹۱۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!