Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

صدقہ فطر کے مسائل

زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں فرق
    زکوٰۃ میں سال کا گزرنا، عاقل بالغ اور نصاب ِ نامی (یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیّت )ہونا شرط ہے جبکہ صدقہ فطر میں یہ شرائط نہیں ہیں۔چنانچہ اگر گھر میں زائد سامان ہو تو مالِ نامی نہ ہونے کے باوجود اگر اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے تو اس کے مالک پر صدقہ فطر واجب ہوجائے گا۔زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں یہ
فرق کیفیت کے اعتبار سے ہے۔
 (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۲۰۷،۲۱۴،۳۶۵)
فطرہ کی ادائیگی کی شرائط
    صدقہ فطر میں بھی نیت کرنا اور مسلمان فقیر کومال کا مالک کر دینا شرط ہے۔
 (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۸۰)
نابالغ پر صدقہ فطر
    نابالغ اگر صاحب ِ نصاب ہوتو اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔ اس کا ولی اسکے مال سے فطرہ ادا کرے ۔  (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۲۰۷،۲۱۴۔۳۶۵)
ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا فطرہ
     جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو،اس کی طرف سے صدقہ فطر اداکرنا واجب نہیں۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج۱،ص۱۹۲)
چھوٹے بھائی کا فطرہ
    اگر بڑا بھائی اپنے چھوٹے غریب بھائی کی پرورش کرتا ہوتو اس کاصدقہ فطر مالدار باپ پر واجب ہے نہ کہ بڑے بھائی پر۔فتاوی عالمگیری میں ہے :”چھوٹے بھائی کی طرف سے صدقہ و اجب نہیں اگرچہ وہ اس کی عیال میں شامل ہوں۔ ”
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳)
اگر کسی کا فطرہ نہ دیا گیا ہوتو؟
     نا بالغی کی حالت میں باپ نے بچہ کا صدقہ فطر ادا نہ کیاتو اگر وہ بچہ مالک نصاب تھااور باپ نے ادا نہ کیا تو بالغ ہونے پرخود ادا کرے اوراگر وہ بچہ مالک نصاب نہ تھا تو بالغ ہونے پر اس کے ذمہ ادا کرناواجب نہیں۔
 (الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۵)
باپ نے اگر روزے نہ رکھے ہوں
     باپ جب مالک نصاب ہو اگرچہ اس نے رمضان کے روزے نہ رکھے ہوں تو صدقہ فطر نابالغ بچوں کا اسی پر واجب ہے، نہ کہ ان کی ماں پر ۔
 (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۷۔۳۶۸)
ماں پر بچوں کا فطرہ واجب نہیں
    اگر باپ نہ ہو توماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں ہے ۔
 (الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۸)
یتیم بچوں کا فطرہ
    باپ نہ ہوتو اس کی جگہ دادا پراپنے غریب یتیم پوتے ،پوتی کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب ہے جبکہ یہ بچے مالدار نہ ہوں۔
 (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)
غریب باپ کے بچوں کا فطرہ
    باپ غریب ہوتو اس کی جگہ مالک نصاب دادا پراپنے غریب پوتے ،پوتی
کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب ہے جبکہ بچے مالدار نہ ہوں۔
 (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)
صدقہ فطر کے لئے روزہ شرط نہیں
    صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ،لہٰذا کسی عذر مثلاًسفر مرض ،بڑھاپے یا معاذ اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) بلاعذر روزے نہ رکھنے والا بھی فطرہ ادا کریگا ۔
 (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۷)
نابالغ منکوحہ لڑکی کا فطرہ کس پر؟
     نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اُسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اُسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اُس کا صدقہ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔
 (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)
بچے پاکستان میں اور باپ ملک سے باہرہو تو
     اگر کسی کے چھوٹے بچے پاکستان میں رہتے ہیں اور باپ ملک سے باہر ہے تو اس صورت میں باپ پر چھوٹے (نابالغ) بچوں کے صدقہ فطر کے گیہوں کی قیمت بیرونِ ملک کے حساب نکالنا واجب ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے، صدقہ فطر میں صدقہ دینے والے کے مکان کا اعتبار ہے چھوٹے بچوں کے مکان کا اعتبار نہیں۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳ ملخصا)
شب عید بچہ پیدا ہواتو…؟
    شب ِ عید بچہ پیدا ہوا توس کا بھی فطرہ دینا ہوگاکیونکہ عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے ،اور اگر بعد میں پیدا ہوا تو واجب نہیں۔
(الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،باب الثامن ،ج۱،ص۱۹۲)
شبِ عید مسلمان ہونے والے کا فطرہ
    عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے ،لہٰذا اگر اس وقت سے پہلے کوئی مسلمان ہوا تو اس پر فطرہ دینا واجب ہے اور اگر بعد میں مسلمان ہواتوواجب نہیں۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،باب الثامن ،ج۱،ص۱۹۲)
مال ضائع ہو جائے تو…..؟
    اگرصدقہ فطر واجب ہونے کے بعد مال ہلاک ہوجائے توپھر بھی دیناہوگاکیونکہ زکوٰۃوعشر کے برخلاف صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا شرط نہیں۔
(الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۶ )
فوت شدہ شخص کا فطرہ
     اگر کسی شخص نے وصیت نہ کی اورمال چھوڑ کر مر گیا توورثہ پراس میت کے مال سے فطرہ ادا کر نا واجب نہیں کیونکہ صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں، ہاں! اگر ورثہ بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہوسکتا ہے کچھ اُن پر جبر نہیں ۔
 (الفتاوٰ ی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب فی صدقۃ الفطر،ج۳، ص۱۹۳)
مہما نوں کا فطرہ
    عید پر آنے والے مہمانوں کا صدقہ فطر میزبان ادا نہیں کریگااگر مہمان صاحب ِ نصاب ہیں تو اپنا فطرہ خود ادا کریں ۔  (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَّہ،ج۱۰،ص۲۹۶)
شادی شدہ بیٹی کافطرہ
     اگر شادی شدہ بیٹی باپ کے گھر عید کرے تو اس کے چھوٹے بچوں کا فطرہ ان کے باپ پر ہے جبکہ عورت کا نہ باپ پر نہ شوہر پر ، اگر صاحب ِ نصاب ہے تو خود ادا کرے ۔
(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَّہ ،ج۱۰، ص۲۹۶)
بلااجازت فطرہ ادا کرنا
    اگربیوی نے شوہرکی اجازت کے بغیراس کافطرہ اداکیاتوصدقہ فطر ادا نہیں ہوگا ۔جب کہ صراحۃ یا دلالۃ اجازت نہ ہو۔
 (ملخَصٍّاالفتاوٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج۱،ص۱۹۳ )
     اگرشوہرنے بیوی یا بالغ اولاد کی اجازت کے بغیران کافطرہ اداکیاتو صدقہ فطر ادا ہوجائے گا بشرطیکہ وہ اس کے عیال میں ہو۔
 (ماخوذ ازالدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۷۰)
     اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلااجازت ناممکن ہے ہاں اجازت کے لیے صراحۃ ہونا ضرور نہیں دلالت کافی ہے مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہونا ہے،اس صورت میں ادا ہو جائے گا۔
 (ماخوذ از فتاوی رضویہ ، ج۲۰، ص۴۵۳)
صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہوتا ہے
     گندم یا اس کا آٹا یا ستونصف صاع،کھجور یا منقٰی یا جَویا اس کا آٹایا ستو ایک
صاع ۔ان چار چیزوں( یعنی گیہوں ،جو ، کھجور،منقی) کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو۔( بہار شریعت حصہ پنجم، ص۹۳۹ ملتقطًا)
صدقۂ فطرکی مقدار
صاع کی تحقیق میں اختلاف ہونے کے سبب صدقۂ فطر کی مقدار میں علماء کرام کا اختلاف ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے :احتیاط یہ ہے کہ جَو کے صاع سے گیہوں دئیے جائیں،جَو کے صاع میں گیہوں تین سو اکاون ۳۵۱  روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے آٹھ آنے بھر ہوا۔ (فتاوی رضويہ ، ج۱۰، ص۲۹۵)
صدقہ فطر کی مقدار آسان لفظوں میں
    ایک سو پَچھتَّر روپے اَٹَھنّی بھراوپر ”(یعنی دوسیر تین چھٹانک آدھا تَولہ،یا 2کِلو اور تقریباً 50 گرام) وَزن گیہوں یا اُس کا آٹا یا اتنے گیہوں کی قیمت ایک صدقہ فطر کی مِقدار ہے۔اگرکھجور یا مُنَـقّٰی (یعنی کشمش)یا جَو یا اس کا آٹا یا ستّو یا ان کی قیمت دینا چاہیں تو ” تین سو اِکاون روپے بھر” (یعنی 4 کلواور تقریباً 100گرام )ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے۔  (بہارِ شریعت جلد اوّل حصہ۵ص۹۳۸)
صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت
    بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔
 (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۶)
صدقہ فطررمضان میں اداکردیا تو؟
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :اگر عید الفطر سے پہلے فطرہ ادا کریں تو جائز ہے ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳ )
رمضان سے بھی پہلے صدقہ فطر ادا کرنا
     اگر صدقہ فطر رمضان سے بھی پہلے ادا کر دیا توجائز ہے۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ، ج۱،ص۱۹۲ ملخصا)
پیشگی فطرہ دیتے وقت صاحب نصاب ہونا
     اگر نصاب کا مالک ہونے سے پہلے صدقہ دے دیا پھر نصاب کا مالک ہوا تو صحیح ہے ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ، ج۱،ص۱۹۲ ملخصا)
اگرعید کے بعد صدقہ فطردیاتو؟
    اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت فرماتے ہیں:اس (یعنی صدقہ فطر)کے دینے کا وقت واسع ہے عید الفطر سے پہلے بھی دے سکتا ہے اور بعد بھی، مگر بعد کو تاخیر نہ چاہیے بلکہ اَولی یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے نکال دے کہ حدیث میں ہے صاحبِ نصاب کے روزے معلق رہتے ہیں جب تک یہ صدقہ ادا نہ کریگا۔
 (فتاویٰ ٰرضویہ،ج۱۰،ص۲۵۳)
کیا دینا افضل ہے؟
    گیہوں اور جَو کے دینے سے اُن کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے، خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جَو کی یا کھجور کی مگر زمانہ قحط میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے
۔(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوٰۃ ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۱۔۱۹۲ ونور الایضاح،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر،ص۱۷۳۔۱۷۴ملتقطا)
فطرہ کس کو دیاجائے؟
    صدقہ فطرکے مصَا رِف وُہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں۔(عالمگیری ج۱ ص۱۹۴) یعنی جِن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اِنہیں فِطْرہ بھی دے سکتے ہیں اور جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اُن کو فِطْرہبھی نہیں دے سکتے۔ لہٰذا زکوٰۃ کی طرح صدقہ فطر کی رقم بھی حیلہ شرعی کے بعد مدارس وجامعات اور دیگر دینی کاموں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔  (فتاوٰی امجدیہ ج۱ص۳۷۶ملخصًا)
کسے صدقہ فطر نہیں دے سکتے؟
     جنہیں زکوٰۃنہیں دے سکتے انہیں صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے ۔چنانچہ ساداتِ کرام کو صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے۔
 (الدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۷۹ )
ایک شخص کا فطرہ ایک ہی مسکین کو دینا
    بہتر یہ ہے کہ ایک ہی مسکین یا فقیر کو فطرہ دیا جائے اگر ایک شخص کا فطرہ مختلف مساکین کو دے دیا تب بھی جائز ہے اسی طرح ایک ہی مسکین کومختلف اشخاص کا فطرہ بھی دے سکتے ہیں۔
 (الدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،مطلب فی مقدارالفطرج۳،ص۳۷۷ ملخصاً)
error: Content is protected !!